جموں وکشمیر کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے:عمر عبداللہ

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//سابقہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں وکشمیر کے امیدواروں کو” خصوصی ڈیسپنشن اسکیم “کے تحت سینٹرل سروسزامتحانات میں دی جارہی عمر کی حدمیں رعایت کو ختم کرنے پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت پرزور دیا ہے کہ یہ معاملہ مرکزی سرکار کے محکمہ پرسنل اینڈ ٹریننگ (DoPT)کے ساتھ اٹھایاجائے۔قانون سازاسمبلی کے ایوانِ زیریں میں وقفہ صفر کے دوران عمر عبداللہ نے یہ معاملہ اٹھاتے ہو ئے کہاکہ وہ حکومت کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی طرف مبذول کرانے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ریاست جموں وکشمیر کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے لگاتار حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔ لگاتار ایسے حملے ہورہے ہیں جس سے ہمارے نوجوان ذہنی تناو¿ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ایس آر او 202کے اطلاق سے پہلے ہی ہمارے نوجوان مار جیل رہے ہیں اب مرکزی سرکار نے سال 1995سے جموں وکشمیر کے نوجوانوں کو سینٹرل سروسزمیں جو special dispensation scheme کے تحت پانچ سال کی عمر میں رعایت دی جاتی تھی، وہ ختم کر د ی گئی ہے۔ اس اسکیم پر ہردوسال کے بعد نظرثانی کی جاتی تھی، لیکن اب کی بار یہ اسکیم بند کر دی گئی۔ پہلے ہی مرکزی سرکار نے سینٹرل سروسز میں جموں وکشمیر کیڈر کے افسران کو دیئے جانے والے کوٹہ کو ختم کر دیا ہے، پچھلے چار سال سے اس کا فائیدہ نہیں دیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ ڈپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان (ڈاکٹر جتندرسنگھ)کے پاس ہے لیکن انہوں نے ہمارے ہی نوجوانوں کے خلاف قدم اٹھایا۔ اس فیصلہ سے ہزاروں ، ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کا کیرئر داو¿ پر لگ گیا ہے جنہوں نے لاکھوں روپے ٹیوشن کوچنگ پر خرچ کئے اور سخت محنت کی، اس امید کہ ساتھ کہ وہ سینٹرل سروسز امتحانات میں حصہ لیں گے۔عمر عبداللہ نے اسپیکر سے کہاکہ وہ ریاستی سرکار سے جاننا چاہتے ہیں کہ آیا DoPTکے پاس اس کے لئے اپلائی کیاگیاتھا، اگر کیاگیاتھا تو وہاں سے کیا جواب آیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ پرزور دیاکہ وہ یہ معاملہ مرکزی حکومت کے ساتھ اٹھائیں اور اس خصوصی ڈسپنسیشن اسکیم کی بحالی یقینی بنائے جائے۔ ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد گریزی نے بھی، اس معاملہ پر تشویش ظاہر کی اور حکومت سے کہاکہ وہ اس پر سنجیدگی سے غور کرے۔ حکومت کی طرف سے پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمن ویری نے یقین دلایاکہ عمر عبداللہ نے جس اہم مسئلہ کو یہاں اٹھایا ہے اس پر حکومت سنجیدگی سے عمل کرے گی۔