بیرون جموں وکشمیر کے طلبہ کو زدو کوب وہراساں کرنے کا معاملہ قانون سازیہ میںحزب اختلاف کا شدید احتجاج ’پکوڑہ سرکار ہائے ہائےگیری راج بند کرو ‘کے نعرے لگا تے ہوئے واک آؤٹ

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//بیرون ریاست کشمیری طالبعلموں کو ہراساں کرنے اور گیری راج کے مسلم مخالف دیئے گئے بیان کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔اسمبلی میں حزب اختلاف نے شدید نعرہ بازی کے بعد احتجاجی واک آوٹ کیا۔ صبح 10یونہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو اپوزیشن کے سبھی ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور ریاست ہریانہ میں شرپسندوں کی جانب سے ایک اور کشمیری طالب علموں کو زدوکوب کرنے کا معاملہ اجاگر کیا۔ این سی کے رکن اسمبلی گاندربل شیخ اشفا ق جبار اور ممبر اسمبلی پہلگام الطاف احمد کلو نے ہاتھوں میں بینرز اٹھائے تھے جن پر درج تھاکہ جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے ”طالبعلموں اور تاجروں کو بیرون ریاست ہراساں کرنا بند کیاجائے“۔این سی کے ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر نے ویری سے مخاطت ہوتے ہوئے کہا آ پ نے یقین دلایاکہ تھاکہ بیرون ریاست طلبہ وطالبات کو تحفظ فراہم کیاجائے گا ، دو روز قبل مارپیٹ کا معاملہ سامنے، اب پھر سے ’ہریانہ میں کل (بدھ )کے روز کچھ شرپسندوں نے ایک اور کشمیری طالب علم کی پٹائی کی ،کشمیریوں کو ریاست سے باہر نفرت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ حکومت ان کی سیکورٹی کو یقینی بنانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے‘۔ سی پی آئی ایم محمد یوسف تاریگامی، پی ڈی ایف کے حکیم محمد یٰسین سمیت اپوزیشن نیشنل کانفرنس، کانگریس کے بیشتر اراکین اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور حکومت مخالف نعرے بازی شروع کر دی۔ انہوں نے واقعہ کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سی پی آئی ایم ممبر اسمبلی محمد یوسف تاریگامی نے کہاکہ ’ایک بار ہوتا در گذر کرتے ، دو مرتبہ ہوتا لیکن با ربار ایسی وارداتیں رونما ہورہی ہیں، کشمیری کو ہراساں مت کیاجائے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ ریاست جموں وکشمیر سے باہر مقیم ریاستی شہریوںکی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے ایوان میں ایک قرارداد منظور کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ قرار داد حکومت کی طرف سے آئے جس میں وزیر اعظم ہند سے اپیل کی جائے کہ وہ بیان دیکر ملک کے مختلف حصوں میں رہ رہے کشمیری طلبہ وطالبات اور دیگر افراد کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔اس پر پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمن ویری نے کہاکہ حزب اختلاف ممبران نے جس مسئلہ پر تشویش ظاہر کی ہے وہ ہم سب کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا ملک کے مختلف حصوں میں تعلیم اور تجارت کے سلسلے میں مقیم جموں وکشمیر کے رہائشیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے‘۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ معاملہ ہریانہ حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔ریاستی پولیس مسلسل ہریانہ میں اپنے ہم منصب کے ساتھ رابطہ میں ہے۔انہوں نے حملہ سے متعلق تفصیلات پیش کیں کہ مہراج پورہ سوپور سے تعلق رکھنے والے طالب علم کو اس کے ساتھی طالب علموں کے ایک گروپ نے زدوکوب کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ واقعہ 7 جنوری کو یونیورسٹی کیمپس کے نذدیک پیش آیا ہے۔ یونیورسٹی نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک قصوروار طالب علم کو معطل کیا ہے۔ ساگر نے کہاکہ ویری کو ٹوکتے ہوئے کاہاکہ طالبعلم کو اس لئے پکڑا گیاکہ اس کی داڑھی دی۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ کو بیان دینا چاہئے، سرکار اس بارے سنجیدہ نہیں ہے۔سبھی اپوزیشن ممبران احتجاج کرتے کرتے اسپیکر کے سامنے چاہ ِایوان(ویل)میں پہنچ گئے۔الطاف احمد کلو، اصغر علی کربلائی، شمیمہ فردوس، علی محمد ساگر نے زور دار سرکار مخالف نعرے لگائے ۔تقریباً8منٹ تک لگاتار ’کشمیر دشمن سرکار ہائے ہائے، پکوڑہ سرکار ہائے ہائے، گیری سرکار ہائے ہائے، قاتل سرکارہائے ہائے، نالائق سرکار ہائے ہائے۔بی جے پی سرکار ہائے ہائے۔ لگام دو لگام دو، گیری راج کو لگام دو، کشمیر دشمن پالیسیاں چھوڑ دو چھوڑ دو کے فلک شگاف نعرے بلند کئے۔اپوزیشن ممبران مطالبہ کر رہے تھے کہ حکومت اس بات کی وضاحت کر ئے کہ جموں وکشمیر کے شہریوں کے بیرون ریاست میں جانی ومالی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں۔ بعد میں10:14بجے سابقہ عمر عبداللہ سمیت سبھی اپوزیشن ممبران نعرہ بازی کرتے کرتے ایوان سے واک آو¿ٹ کرگئے۔بھاجپا ممبران نے ’پکوڑہ‘لفظ استعمال کرنے پر اعتراض ظاہر کیا۔ ایم ایل اے رام نگر نے آسپیکر سے گذارش کی کہ لفظ ہذف کیاجائے۔دریں اثناءقانون ساز یہ کے ایوان ِبالامیں بھی اپوزیشن جماعتوں نیشنل کانفرنس اور کانگریس ممبران نے بیرون ریاست طلبہ وطالبات کو ہراساں کرنے اور مارپیٹ کا معاملہ زور وشور سے اٹھایا۔سجاد کچلو، علی محمد ڈار، غلام نبی مونگا، شیام لال بھگت نے اس معاملہ کو زور وشور سے اٹھایا اور سرکار مخالف نعرہ بازی کی۔ انہوں نے الزام لگایاکہ حکومت ریاستی شہریوں وطلبہ وطالبات کا بیرون ریاست جانی ومالی تحفظ یقینی بنانے پر ناکام رہی ہے۔