قیدیوں کی محافظت پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ 2 پولیس اہلکار ہلاک، پاکستانی جنگجو فرار شہر میں ہائی الرٹ جاری ، حملہ آوروں کی تلاش جاری

6SRNP5: SRINAGAR, FEBRUARY 6 (UNI) Security forces taking position soon after militants attacked a police party to free a Pakistani militant among the detenues taken for treatment in SMHS hospital killed a security personnel and injured another on Tuesday.

یو ا ین آئی
سری نگر// سری نگر میں واقع شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال (ایس ایم ایچ ایس ) میں منگل کے روز جنگجوو¿ں کی پولیس پارٹی پر فائرنگ کے نتیجے میں ریاستی پولیس کے دو اہلکار جاں بحق ہوگئے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ریاستی پولیس کی ایک پارٹی سینٹرل جیل سری نگر میں مقید قیدیوں کے ایک گروپ کو چیک اپ کے لئے اسپتال لے کر آئی تھی۔ قیدیوں میں ایک پاکستانی جنگجو بھی شامل تھا، جو فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ ذرائع نے فرار ہونے والے جنگجو کی شناخت پاکستانی جنگجو نوید جاٹ عرف ابو حنظلہ اللہ ساکنہ ملتان پاکستان کے طور کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لشکر طیبہ سے وابستہ نوید کو سال2014 میں جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے بہی باغ نامی گاو¿ں میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے سینٹرل جیل سری نگر میں مقید رکھا گیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے مہلوک پولیس اہلکاروں کی شناخت ہیڈ کانسٹیبل مشتاق احمد ساکنہ کرناہ ضلع کپواڑہ اور کانسٹیبل بابر خان ساکنہ شانگس ضلع اننت ناگ کے طور کی۔ فائرنگ کی وجہ سے سری نگر کے سب سے قدیم اور مصروف ترین ایس ایم ایچ ایس اسپتال میں افراتفری مچ گئی اور بیماروں و تیمارداروں کو محفوظ مقامات کی طرف دوڑتے ہوئے دیکھا گیا۔ تاہم اسپتال کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ اسپتال میں طبی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری رہیں۔ وسطی کشمیر کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس غلام حسن بٹ نے ڈسٹرکٹ پولیس لائنز سری نگر میں مہلوک ہیڈ کانسٹیبل مشتاق احمد کی میت پر پھول مالائیں رکھنے کی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ نوید کے فرار ہونے کے بعد ضلع سری نگر میں الرٹ جاری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا ’مختلف کیسوں میں ملوث چھ افراد کو سینٹرل جیل سری نگر سے یہاں ایس ایم ایچ ایس اسپتال چیک اپ کے لئے لایا گیا تھا۔ ان میں سے ایک پاکستانی بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ اس کے پیش نظر سری نگر میں الرٹ جاری کی گئی ہے‘۔ انہوں نے مزید کہا ’فرار ہونے والے جنگجو کا نام نوید ہے۔ وہ مختلف واقعات میں ملوث تھا۔ ہمارے اہلکاروں کے پاس جو ہتھیار تھے، وہ محفوظ ہیں۔ نوید نے خود فائرنگ نہیں کی، لیکن وہاں پہلے سے موجود ایک لڑکے (جنگجو) نے فائرنگ کی‘۔ شوٹ آوٹ میں ایک شہری کے بھی زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ تین پولیس اہلکاروں پر مشتمل ایک ٹیم نوید سمیت چھ قیدیوں کو چیک اپ کی غرض سے ایس ایم ایچ ایس اسپتال لے کر آئی جہاں مبینہ طور پر پہلے سے ہی ایک جنگجو نوید کا انتظار کررہا تھا۔ انہوں نے بتایا ’جوں ہی پولیس اہلکار نوید کو لے کر اسپتال کے اندر داخل ہوئے تو جنگجوو¿ں نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی‘۔جنگجو کی فائرنگ کے بعد ہتھکڑی سے بند نوید فرار ہوگیا۔ جنگجوو¿ں کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکاروں سمیت 3 افراد زخمی ہوئے جن میں سے مشتاق احمد موقع پر ہی جاں بحق ہوا۔ بابر خان کئی گھنٹوں تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اگرچہ فائرنگ کے واقعہ کے فوراً بعد ایس ایم ایچ ایس اسپتال اور اس کے نزدیکی علاقوں کو گھیرے میں لیا گیا، تاہم جنگجو فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگجو کے فرار ہونے کے بعد پورے ضلع سری نگر میں ریڈ الرٹ جاری کی گئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق نوید جاٹ کی سنہ 2014 میں جنوبی ضلع کولگام میں گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا تھا۔ جب اسے گرفتار کیا گیا، وہ اس وقت وادی میں لشکر طیبہ کا ڈپٹی چیف تھا۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق نوید جنوبی کشمیر میں ریاستی پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر اور ایک سی آر پی ایف اہلکار کی ہلاکت میں ملوث تھا۔ ابو حنظلہ کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ اس کا تعلق لشکر طیبہ نامی جنگجو تنظیم کے وسیم گروپ کے ساتھ ہے اور اسے پولیس، فوج اور سی آر پی ایف نے سال2014میں جنوبی ضلع کولگام کے یاری پورہ علاقے سے گرفتار کیا تھا جب سے وہ سینٹرل جیل سرینگر میں نظر بند تھا۔وہ2012سے جنوبی کشمیر میں سرگرم اورگرفتاری کے وقت وہ لشکر طیبہ کا ڈپٹی چیف تھا۔پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذکورہ جنگجو سال2015میں جاں بحق ہوئے لشکر کمانڈر ابو قاسم اور گزشتہ برس مارے گئے اسی تنظیم کے کمانڈر ابو دوجانہ کا قریبی ساتھی تھا۔پولیس کے مطابق ابو حنظلہ سال2014کے انتخابات کے دوران ناگہ بل شوپیان میں ایک سکول ٹیچر اور اس سے قبل2013میں پلوامہ میں پولیس کے ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹرکی ہلاکت کے علاوہ بونہ گام شوپیان میں فورسز پر کئے گئے حملے اور فورسز اہلکاروں سے ہتھیار چھیننے کے کئی واقعات میں ملوث تھا۔حملے کے کچھ ہی منٹ بعد پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد صدر اسپتال پہنچی اور اسپتال کے آس پاس کے علاقوں کی ناکہ بندی کرکے جنگجوﺅں کی تلاش شروع کی۔تاہم ڈی آئی جی وسطی کشمیر غلام حسن بٹ نے صدر اسپتال کے باہر نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران اس بات کی وضاحت کی کہ کسی قیدی نے پولیس اہلکار سے رائفل نہیں چھینی بلکہ یہ حملہ باہر سے آئے جنگجوﺅں نے کیا ۔انہوں نے کہا کہ قریب سات قیدیوں کو علاج و معالجہ کےلئے جیل سے اسپتال لایا گیا تھا اورحملہ آوروں نے ان کی محافظت پر مامور پولیس پارٹی پر حملہ کیا۔ڈی آئی جی نے اس حملے میں دو اہلکاروں کے ہلاک اور ایک غیر مقامی جنگجو کے فرار ہونے کی تصدیق بھی کی۔انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ جنگجو حملہ کرنے کے بعد موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ مفرور جنگجو اور حملہ آوروں کیتلاش شروع کردی گئی ہے۔ حملہ سیکورٹی ایجنسیوں کےلئے اس اعتبار سے حیران کن ہے کہ سرینگر میں جنگجوﺅں کی سرگرمیوں کو نہ ہونے کے برابر قرار دیا جارہا ہے ، تاہم پولیس کا یہ دعویٰ ہے کہ جنگجو کسی اور علاقے سے آکر سرینگر میں کوئی کارروائی انجام دیتے ہیں۔حملے کے بعد پورے شہر میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے تمام پولیس اسٹیشنوں کے نام ہنگامی بنیادوں پر ایڈوائزری جاری کی گئی۔پولیس اور سیکورٹی فورسز کو چوکس رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں، تاکہ جنگجوﺅں کو شہر کے باہر فرار ہونے کا موقعہ نہ ملے۔اس مقصد کےلئے شہر میں داخل ہونے والی تمام سڑکوں کے ساتھ ساتھ اندرون شہر سڑکوں اور چوراہوں پر ناکے بٹھائے گئے جہاں گاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشی کارروائی کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔