کونسل نے سال 2018-19 کیلئے 95666.97 کروڑ روپے کے بجٹ کو منظوری دی حکومت نے عوامی تصرف میں تیزی لانے کیلئے قانون متعارف کیا :درابو

اڑان نیوز
جموں //قانون سازکونسل نے کل ریاست کے سال 2018-19 کیلئے 95666.97 کروڑ روپے کے بجٹ کو منظوری دی ۔ اس میں 51244.72کروڑ روپے کا ریونیو کمپونٹ اور 44422.24کروڑ روپے کا کیپٹل کمپونٹ شامل ہے ۔اس حوالے سے قانون ساز اسمبلی میں سنیچروار کو وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے جموں کشمیر ایپرو پریشن بل 2018ءپیش کیا اور اسے زبانی ووٹ کے ذریعے پاس کیا ۔ یہ بل آج ڈاکٹر درا بو نے ایوان بالا میں پیش کیا اور اسے یہاں زبانی ووٹ کے ذریعے پاس کیا گیا۔ اس سال 11جنوری کو وزیر خزانہ نے ایوان میں سال 2018-19 ءکا بجٹ منصوبہ پیش کیا تھا جو پچھلے سال کے 79472کروڑ روپے کے بجٹ حجم سے 20فیصد زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ قانون سازیہ کی تواریخ میں پہلی مرتبہ وزیر خزانہ نے ایپرو پریشن بل کو وسیع تر اخراجاتی اصلاحات کے ساتھ جوڑا تا کہ موثر مالی نظامت کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تصرف کے عمل میں بھی تیزی لائی جا سکے ۔ ڈاکٹر درابو نے اس سال اپروپریشن بل میں پیش کئے گئے مالی اصلاحات کا تفصیل سے ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ فائنانس اینڈ پلاننگ و ڈیولپمنٹ اور مونیٹرنگ محکمہ اپروپریشن بل پاس ہونے کے دو ہفتوں کے اندر اندر تمام انتظامی محکموں کو ریونیو اور کیپٹل بجٹ جاری کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ انتظامی محکمے بعد میں اس بات کو یقینی بنائےں گے کہ رقومات ماتحت دفاتر کے حق میں چار ہفتوں کے اندر اندر واگزار کئے جائیں ۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کسی بھی ٹریجری یا پی اے او کی طرف سے یکم اپریل 2018ءسے ایکسپنڈیچر ہیڈ کے تحت کوئی بھی ادائیگی نہیں کریں گے ، اگر بل پاسنگ افسروں نے یہ رقم حاصل نہیں کی ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ پلاننگ ، ڈیولپمنٹ اور مونیٹرنگ محکمے لازمی طور پر اپنی ویب سائٹ پر محکمانہ بنیادوں پر سکیموں ، کاموں اور پروجیکٹوں کے نام کی تفصیلات اَپ لوڈ کریں گے جو مالی سال 2018-19 کے کیپکس بجٹ کا حصہ ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ محکموں میں اخراجاتی اصلاحات کو مختلف اقدامات کے ذریعے سے مستحکم کیا جائے گا جس کی بدولت مالی اور انتظامی عوامل میں شفافیت ممکن ہوسکے گی۔انہوںنے بی ای اے ایم ایس اور پی ایف ایم ایس کے ذریعے سے اخراجات کے عمل پر نظر گزر رکھنے کی ضرورت پر بھی زوردیا۔ انہوں نے کہا کہ محکموں کے اگلے مالی سال کے پروکیورمنٹ منصوبے 60دنوں کے حد تک محدود رہےں گے اور یہ یکم اپریل سے شروع ہوگا۔وزیر خزانہ نے واضح کردیا کہ اخراجات کے تحت منظور شدہ ایٹمز پر رقومات خرچ کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ آخری سہ ماہی کے دوران تصرف روائزڈ ایسٹمیٹس کے 30فیصد حصے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیئے۔ڈاکٹر درابو نے کہا کہ آج کے بعد کسی بھی محکمہ کی طرف سے کیجول ورکر اور نیڈ بیسڈ ورکر وغیرہ کی تعیناتی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ حوصلہ افزا بات ہے کہ ریاست میں ایک فعال اقتصادی فریم ورک اور مو¿ثر مالی ڈھانچہ وجود میںلانے کے لئے ایک وسیع سیاسی اتفاق رائے اُبھر کر سامنے آرہا ہے ۔وزیر نے اپنی آرا سامنے رکھنے اور ریاست کے مالی نظام کو تقویت بخشنے کے لئے حزب اقتدار اور حز ب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے تین برسوں کے دوران ریاست میں شروع کئے گئے مالی اصلاحات کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ریاستی اقتصادیات کو زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری ، عوامی اخراجات کے علاوہ سماجی و اقتصادی سیکورٹی نیٹ کو وسعت دینے کے ذریعے سے استحکام بخشا جاسکے ۔اس موقعہ پر ارکان قانون ساز یہ نے اپنی سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر وزیر خزانہ کی طرف سے اپروپریشن بِل میں وضع کئے گئے غیر معمولی اخراجاتی اصلاحات لانے کی تعریف کی تاکہ ریاست میں مالی نظم و ضبط لانے کے ساتھ ساتھ دستیاب وسائل کو مو¿ثر ڈھنگ سے بروئے کا ر لایا جاسکے۔