2017 کے دوران ریاست میں گیسوتراشی کے 365واقعات جموں صوبہ میں201اور کشمیر میں164،5 مقدمات درج،3افراد گرفتار کئے گئے، متاثرین کومعاوضہ نہیں دیا:وزیر اعلیٰ

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے انکشاف کیا ہے کہ جموں وکشمیر ریاست میں گذشتہ برس خواتین کی پراسرار گیسو تراشی کے 365واقعات رونما ہوئے جن میں201صوبہ جموں اور 164کشمیر صوبہ میں پیش آئے۔اس سلسلہ میں کشمیر کے ایک خاتون سمیت3افراد کو گرفتار کیاگیا جبکہ جموں صوبہ میں3کھلے پرچے(Open FIR’s)پولیس تھانہ عسر، پولیس تھانہ بھدرواہ اور پولیس تھانہ رام بن میںدرج کی گئیں۔وزیر اعلیٰ نے اعتراف کیا کہ زُلف تراشی کے واقعات سے ریاست بھر میں کچھ عرصے تک عام لوگوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا لیکن حکومت نے کم سے کم ممکنہ وقت کے دوران ایسے واقعات پر قابو پانے کےلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے۔وزیر اعلیٰ نے کہاہے کہ تمام فیلڈ ایجنسیوں کو زیادہ چوکس اور چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی وارداتیں رونما نہ ہوں۔وزیر اعلیٰ نے واضح کیاکہ گیسو تراشی کے متاثرین کوحکومت کی طرف سے کسی قسم کا کوئی معاوضہ نہیں دیا گیا۔نیشنل کانفرنس کے ممبران اسمبلی الطاف احمد وانی، شیخ اشفاق جبار اور عبدالمجید بٹ لارمی کی طرف سے پوچھے گئے مشترکہ سوال کے تحریری جواب میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ، جن کے پاس محکمہ داخلہ امور کا بھی چارج ے نے گزشتہ برس ریاست میں پیش آئے خواتین کی زلف تراشی کے پر اسرار واقعات کے اعدادوشمار پیش بتائے۔صوبہ جموں میں کٹھوعہ، سانبہ، جموں، ریاسی، راجوری، پونچھ، ڈوڈہ، اودوھم پوراضلاع میں 201موءتراشی کے واقعات سامنے آئے۔سرکاری اعدادوشمار کے مطابق کشتواڑ ضلع میں کوئی واقعہ پیش نہ آیا۔ وادی کشمیر کے حوالہ سے وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ سال2017کے کچھ ماہ کے دوران مجموعی طور خواتین کی گیسو تراشی کے164واقعات رونما ہوئے۔سب سے زیادہ 38وارداتیں سرینگر اور سب سے کم 5واقعات جنوبی ضلع شوپیان میں پیش آئے۔بڈگام ضلع میں گیسو تراشی کی22، گاندربل میں6، اننت ناگ میں26، پلوامہ میں17(اونتی پورہ میں5)، کولگام ضلع میں25، بارہمولہ میں9، بانڈی پورہ میں10اور کپوارہ ضلع میں6(ہندوارہ میں ایک) وارداتیں رونما ہوئیں۔ان واقعات کے سلسلے میں مجموعی طور3افراد کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔اسٹیشن گاندربل میں درج ایف آئی آر زیر نمبر214/2017کے سلسلے میں دو افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں محمد اسلم شاہ اور عادل احمد شاہ ساکنان بمڈورہ کھاگ بڈگام شامل ہیں۔محبوبہ مفتی نے مزید بتایا کہ پولیس تھانہ صدر سرینگر میں درج ایف آئی آر زیر نمبر189/2017کے سلسلے میں شالکوٹ بالہامہ بارہمولہ سے تعلق رکھنے والی ظریفہ نامی خاتون کو بھی گرفتار کیا گیا۔دونوں کیسوں کے بارے میں عدالتوں میں چالان بھی پیش کئے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے بتایاکہ صوبہ جموں میں 3کھلے پرچے دائر کئے گئے ہیں۔ پولیس تھانہ عسر میں ایف آئی آر نمبر25/2017، پولیس تھانہ بھدرواہ میں ایف آئی آر نمبر111/2017اور پولیس تھانہ رام بن میں149/2017درج کی گئی ہیں جن میں تحقیقات جاری ہے اور ابھی تک اس ضمن میں کسی کو گرفتار نہ کیاگیاہے۔