مبینہ مطالبہ’آزادی‘معاملہ پر این سی اوربھاجپا میںتکرار بی جے پی ’اینٹی نیشنل‘، مذہبی جذبات کو اُکسا کرسیاست کرنے کے سوا کوئی پالیسی نہیں:دویندر رانا/جاوید رانا

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//این سی ممبر کی طرف سے مبینہ طور ’آزادی کا مطالبہ‘کرنے کے معاملہ پر اسمبلی میں نیشنل کانفرنس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبران کے درمیان زبردست تلخ کلامی ، نوک جھونک اور گرم گفتاری ہوئی۔ بی جے پی ممبران نے نیشنل کانفرنس ارکان پرغدار اور نیشنل کانفرنس نے بھاجپا پر’انٹی نیشنل‘ ہونے کا لازام عائد کیا۔بھاجپا ممبران نے یہ معاملہ ایوان میں اجاگر تو کیا لیکن نیشنل کانفرنس کے دویندر سنگھ رانا اور جاوید احمد رانا کے تابڑتاڑ الفاظی حملے اور جارخا نہ لہجہ کی وجہ سے بی جے پی ارکان کو مجبوراًخاموشی ہی اختیار کرنا پڑی۔ یہ معاملہ وقفہ سوال ختم ہونے کے فوری بعد بی جے پی ممبر ست شرما نے اٹھاتے ہوئے اسپیکر سے کہاکہ 26جنوری کونیشنل کانفرنس کے ممبر جاوید احمد رانا نے مینڈھر میں ایک تقریب کے دوران آزادی کا مطالبہ کیا اور بچوں سے بھی آزادی کے حق میں نعرے لگوائے، یہ لوگ ملک غدار ہیں۔اس وقت جاوید رانا ایوان میں موجود نہ تھے۔ این سی ممبر اسمبلی پہلگام الطاف وانی نے کہا”ہم بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس سے آزادی چاہتے ہیں، اس کرپٹ اور فرقہ پرست سرکار سے آزادی چاہتے ہیں اور کسی سے نہیں“۔ بعد ازاں جاوید رانا ایوان میں داخل ہوئے اور بھاجپا ممبران کی طرف سے اٹھائے گئے معاملہ کا جواب دینے کی اسپیکر سے اجازت لی۔ جاوید رانا نے کہاکہ خطہ پیر پنچال (راجوری پونچھ)کے لوگوں سے زیادہ محب وطن، سیکولر ہیں ، انہوں نے کہا سرحدوں پر رہنے رہنے والے لوگوں پر ایسا الزام عائدکرناٹھیک نہیں کیونکہ حالات کے مارے یہی لوگ آئے دنوں سرحدپارکی گولہ باری اورشلنگ کاسامناکرتے ہیں ۔ممبر اسمبلی نے کہاسرحدی علاقوں میں رہنے والے ہی اصل قوم پرست ہیں ۔جاویدراناکاکہناتھاکہ ضلع راجوری اورپونچھ کے لوگ قومی سطح کے ہرپروگرام میں حصہ لیتے ہیں لیکن ان دونوں سرحدی اضلاع میں کچھ قوتیں فرقہ وارایت کاذہرگھولنے کیلئے کوشاں ہیں ۔یوم جمہوریہ کے دن سرحدی اضلاع میں لوگوں نے سرکارکی جانب سے امتیازبرتنے کیخلاف صدائے احتجاج بلندکیالیکن اس مظاہرے کوکوئی اورہی نام دیاگیا۔انہوں نے وضاحت کی ہائر اسکینڈری اسکول گولد میں بچوں نے 26جنوری کی تقریب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، اچھی کارکردگی پیش کی لیکن انہیں انعام نہ ملا جس پر انہوں نے سکول انتظامیہ اور سرکار کے خلاف احتجاج کیا۔ لیکن اس کو غلط شکل دی گئی۔ این سی ممبراسمبلی مینڈھرنے بھاجپاممبران سے مخاطب ہوکرکہاکہ 1947،1965اور1971میں آپ کہاں تھے جب راجوری اورپونچھ کے لوگوں نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کاکارنامہ انجام دیا۔نیشنل کانفرنس کے دویندر سنگھ رانا نے جاوید احمد رانا کا بھر پور ساتھ دیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی ممبران پر زبردست لفاظی حملے کئے۔ ایم ایل اے نگروٹہ نے کہا بھاجپاکے نعرے اوردعوے کھوکھلے ثابت ہوچکے ہیں ۔انہوں نے ”ہم سچے ہندوستانی ہیں اورآپ لوگ ہی ملک کے اصل دشمن ہو،بی جے پی اور آر ایس ایس انٹی نیشنل ہے۔سب سے زیادہ جموں وکشمیر کی بھارتیہ جنتا پارٹی قوم مخالف ہے، آپ آنے والے لوک سبھا انتخابات کے لئے یہاں پر حالات کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔دویندر سنگھ رانا نے بھاجپا ممبران پر تیکھے وار جاری رکھتے ہوئے کہاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے پورے ملک کی سالمیت کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ فرقہ پرستی کا زہرگھول کر لوگوں پر راج کرنے کے سیوا آپ کے پاس کچھ بھی نہیں،تعمیر وترقی کا کوئی ایجنڈا نہیں، مذہبی جذبات کو اکسا کر سماج میں خلاءڈال دی ہے۔