سڑکوں کی بلیک ٹاپنگ میں بندر بانٹ حزب اختلاف کا اسمبلی میں احتجاج، نعرہ بازی اور واک آو¿ٹ، وزیر تعمیراتِ عامہ پر الزامات کی بوچھاڑ

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//سڑکوں پر بلیک ٹاپنگ میں حزب اختلاف جماعتوں سے وابستہ ممبران کے اسمبلی حلقوں میں امتیاز برتنے کے خلاف اپوزیشن نے اسمبلی میں زبردست احتجاجی مظاہرہ، نعرہ بازی اور واک آو¿ٹ کیا۔ نیشنل کانفرنس ممبران اور تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر کے دوران تلخ کلامی، نونک جھونک بھی ہوئے ۔ این سی ممبران اور ٹریجری بینچ کے ممبران نے آپس میں ایکدوسرے پر سنگین الزام تراشیاں بھی کیں۔وقفہ سوالات کے دوران سال2016-17ضلع سرینگر میں سڑکوں پر بچھائی گئی تار کول بارے سوال کے دوران اپوزیشن ممبران نے حکومت پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کئے۔ یہ سوال این سی کے رکن اسمبلی عیدگاہ مبارک گل کا تھا جس کا جواب تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر کی غیر موجودگی میں محکمہ کے وزیر مملکت سنیل کمار شرما نے دیا۔ضمنی سوال میں مبارک گل نے کہاکہ محکمہ تعمیرات عامہ کو سیاسی طور استعمال کیاجارہاہے ۔ اپوزیشن جماعتوں سے وابستہ ممبران کے اسمبلی حلقوں میں بلیک ٹاپنگ کم کی گئی ہے۔ گذشتہ سال ہر اسمبلی حلقہ میں20/20کلومیٹر بلیک ٹاپنگ کرانے کا وعدہ کیاگیاتھا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ بلیک ٹاپنگ کے حوالہ سے غلط اعدادوشمار بتائے جارہے ہیں، اتنا کام نہیں ہوا۔ الطاف احمد کلو، شمیمہ فردوس، علی محمد ساگر، محمد امین بھٹ،وقار رسول وانی، غلام محمد سروڑی سمیت نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے کئی ممبران اپنی نشستوںسے کھڑے ہوئے اور میکڈم بچھانے کے سلسلے میں ان کے حلقہ جات کے ساتھ مبینہ طور امتیاز برتنے کے خلاف زوردار احتجاج کیا۔انہوں نے کہا کہ سرکار صرف حکمران جماعتوں کے ارکان اسمبلی کے حلقہ جات پر مہربان دکھائی دیتی ہے جہاں بڑے پیمانے پر میکڈم بچھانے کا کام انجام دیا گیا۔غلام محمد سروڑی نے کہا ”میرے اسمبلی حلقہ اندروال میں 25سے30فیصد سڑک رابطہ (Road Connectivity)ہے،نبارڈ کے تحت ایک بھی پروجیکٹ میرے حلقہ میں نہیں دیاگیا، محکمہ تعمیرات عامہ نے جوپروجیکٹ بناکر بھیجے تھے وہ بھی محکمہ منصوبہ بندی کے پاس التوا میں پڑے ہوئے ہیں“۔ انہوں نے کہاکہ جن حلقوں میں90فیصد سڑک رابطے ہیں وہاں پر نبارڈ کے تحت پانچ پانچ پروجیکٹ دیئے گئے لیکن ان کے ساتھ نا انصافی کی گئی۔ سروڑی نے سوال کیا” کیا میں کانگریس کا ایم ایل اے ہوں اس لئے میرے ساتھ نا انصافی ہورہی ہے….؟“۔وقار رسول وانی نے الزام عائد کیاکہ حلقہ بانہال کو نبارڈ کے تحت ایک کروڑدیاگیا جبکہ کشتواڑ میں 5کروڑ روپے دیئے گئے، ان کے حلقہ میں75فیصد سڑکوں پر بلیک ٹاپنگ نہیں ہوئی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ ہرحلقہ میں20/20کلومیٹر بلیک ٹاپنگ پروجیکٹ کو آئندہ برس بھی جاری رکھاجائے۔ این سی کے الطاف احمد کلو نے کہا”جس وقت عبدالرحمن ویری اور الطاف بخاری تعمیرات عامہ کے وزیر تھے، اس وقت کہیں سے کوئی شکایت نہیں رہی لیکن اب امتیاز سلوک برتاجارہاہے ، نعیم اختر محکمہ تعمیرات عامہ کو سیاسی بنیادوں پر چلارہاہے، اس پر اسمبلی کے اند ایک گھنٹہ کی بحث ہونی چاہئے“۔ انہوں نے بھاجپا ممبران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ’ون نیشن‘کا نعرہ کہاں گیا۔ اس دوران شمیمہ فردوس احتجاج کرتے کرتے ویل میں چلی آئیں۔پی ڈی ایف کے حکیم محمد یٰسین نے کہا’مرحوم مفتی محمد سعید نے ان سے جوروڑو پل کے پروجیکٹ مانگے ، انہیں کو جامہ پہنایا گیا لیکن اب ان سے جولسٹیں مانگیں گئیں، انہیں درکنار رکھ کر الگ سے ہی سڑکیں منظور کی گئیں۔ انہوں نے وزیر سے وضاحت طلب کی کہ اگر ہماری لسٹ کو خاطر خواہ نہیں لانا تو پھر کیوں ہم سے لسٹ مانگی گئی۔ انہوں نے کہاکہ Criteriaبتایاجائے کہ کس معیار کے تحت سڑک اور پلوں کے پروجیکٹوں کو منظوری دی جارہی ہے۔نیشنل کانفرنس کے علی محمد ساگر نے اپوزیشن جماعتوں کے ممبران سے امتیاز برتاجارہا ہے ۔ الطاف بخاری کے حلقہ امیرا کدل میں سال 2015-16کے دوران 161.07کلومیٹر ، آسیہ نقاش کے حلقہ حضرت بل میں67.84کلومیٹر اور پی ڈی پی کے اشرف میر کے حلقہ سونہ وار میں64.38کلومیٹر سڑک پر بلیک ٹاپنگ کی گئی جبکہ مبارک گل کے حلقہ عید گاہ میں17.40کلومیٹر، شمیمہ فردوس کے حلقہ حبہ کدل میں8کلومیٹر اور سال 2016-17کو صفر کلومیٹر اور میرے(ساگر) حلقہ خانیار میں25.05کلومیٹر اور سال 2016-17کے دوران 0.12کلومیٹر بلیک ٹاپنگ کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ منسٹروں کے حلقوں میں سب سے زیادہ، اس سے کم حکمراں جماعتوں کے اراکین اور پھرسب سے کم اپوزیشن جماعتوں کے ممبران کے حلقوں میں بلیک ٹاپنگ کی گئی۔ یہ نا انصافی ہے، اس کے خلاف وہ واک آو¿ٹ کرتے ہیں۔ علی محمد ساگر کا یہ کہنا تھاکہ سی پی آئی (ایم) اور پی ڈی ایف سمیت سبھی اپوزیشن ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے اور نعرہ بازی شروع کردی۔ انہوں نے ”امتیاز بند کرو،بیر بل کو بند کرو ،بند ربانٹ نہیں چلے گی“ ، امتیاز نہیں چلے گا، امتیاز نہیں چلے گا، نعرہ بازی کرتے کرتے 10:27بجے ایوان سے بطور احتجاج واک آو¿ٹ کیا۔ وقفہ سوال کے دوران بعد میں ایکبار پھر زبردست ہنگامہ آرائی اور شور وغل شروع ہوگیا جبکہ تعمیرات عامہ محکمہ سے متعلق وزیرنعیم اختر ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ نعیم اختر نے اسپیکر سے کہاکہ وہ اگر اجازت دیں تو پہلے جس معاملہ پر ممبران نے واک آو¿ٹ کیاہے اس کی وہ وضاحت کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کہنا تھاکہ علی محمد ساگر نے کہاکہ اب کسی بات کی وضاحت نہیں۔یہ کہنا تھاکہ نعیم اختربرہم ہوگئے اور ساگر کے لئے کسی قابل اعتراض لفظ کا استعمال کیا جس پر این سی کے سبھی ممبران پھر سے آگ بگولہ ہوگئے اور وزیر موصوف پر کذب بیانی کا الزام عائد کیا۔ نیشنل کانفرنس کے علی محمدساگر نے نعیم اختر کو ٹوکتے ہوئے ان کی طرف اشارہ کیا اور زوردار انداز میں کہا”کیا ہم بکواس کررہے ہیں؟“اسی پارٹی کے عبدالمجید بٹ لارمی نے بھی وزیر موصوف پر چلاتے ہوئے کہا”ہم یہاں بکواس کرنے نہیں آتے ، عوامی معاملات اٹھانا ہمارا حق اور اس کا جواب دینا حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے“۔اس موقعے پر علی محمد ساگر اور نعیم اختر کے مابین پہلے معمولی نوکی جھونک ہوئی جو بعد میں بحث و تکرار اور تلخ کلامی میں تبدیل ہوئی۔دونوں نے ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کی لیکن ایوان میں شوروغوغا ہونے کے باعث کچھ سنائی نہیں دیا۔ ساگر نے نعیم اختر سے مخاطب ہوکر کہا”آپ باتوں کو ٹال رہے ہیں، اصل سوالوں کا مناسب جواب نہیں دیتے“۔ عبدالمجید بٹ لارمی نے وزیر پر جھوٹا ہونے کا الزام لگایا۔الزامات اور جوابی الزامات کے بیچ حکمران ممبران میز بجاکر اپنے وزیر کا حوصلہ بڑھایا جبکہ اپوزیشن ممبران نعرے بازی کرتے رہے۔الزامات وجوابی الزامات کا سلسلہ جاری تھاکہ وقفہ سوالات کا وقت ختم ہوگیا اور سبھی ممبران خاموش ہوکر بیٹھ گئے۔