بجلی کی تقسیم وترسیلی نظام ابتر، پروجیکٹوں کی واپسی میں کوئی پیش رفت نہیں کروڑوں کے فنڈز دستیاب مگر خرچ نہیں کئے جارہے، بجلی کرایہ وصولی کے نام پر صرف غریبوں پر قہرڈایاجاتاہے سرکاری دفاتر، صنعتکاروں، بڑے تاجروں کے پاس کروڑوں کی بجلی بلیں واجب الادا:اراکین اسمبلی

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//اراکین قانون سازیہ نے ریاست جموں وکشمیر میں بجلی کی ترسیل وتقسیم،محکمہ پاس دستیاب فنڈز کے استعمال نہ کرنے، بڑے مگرمچھوں سے کرایہ وصول نہ کرنے اور این ایچ پی سی سے پن بجلی پروجیکٹوں کی واپسی میں کوئی پیش رفت ہ ہونے کے معاملات پر نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ کو گھیرا۔ محکمہ بجلی، مکانات وشہری ترقی کے مطالباتِ زرپر بحث کے دوران جمعرات کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ممبران نے بجلی محکمہ کی خامیوں کواجاگر کرتے ہوئے انہیں دور کرنے پرزور دیا۔ این سی ممبر اسمبلی کنگن میاں الطاف احمد نے کہاکہ جموں وکشمیر میں پن بجلی کی وسیع تر صلاحیت موجود ہے لیکن حکومت اس کو بروئے کار نہ لاسکی ہے۔ حکومت آج بھی توانائی پیدا کرنے کے معاملہ میں بہت پیچھے ہے۔ ٹرانسفارمروں پر بہت زیادہ لوڈ ہے۔ ورکشاپیں نہیں، بجلی اس وقت سب سے بڑی پریشانی بنی ہوئی ہے۔ بجلی نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ دین دیال اسکیم کے تحت جواہداف مقرر کئے گئے تھے ، ان کا استعمال نہیں ہوا۔ کانگریس کے نوانگ ریگزن جورا نے کہاکہ متعدد اسکیموں کے تحت کروڑوں، اربوں روپے محکمہ کے پاس موجود ہیں لیکن ان کو استعمال میں نہیں لایاجارہاہے۔ گریڈ اسٹیشن سانبہ کو فعال نہیں بنایاجارہاہے۔ ترسیلی وتقسیم کاری نظام ملک بھر میں ہندوستان کے اندر خراب ہے۔ پی ڈی پی کے ایم ایل اے رفیع آباد یاور دلاور میر نے کہاکہ نرمل سنگھ بذات خود شریف النفس ہیں لیکن محکمہ باقی سبھی ان کی شخصیت کے الٹ ہے، انہوں نے کہاکہ سرکاری دفاتر، بڑے بڑے صنعتکاروں، سرمایہ کاروں، تجارتی گھرانوں کے پاس لاکھوں کروڑوں روپے بجلی کے بلیں واجب الادا ہیں ، ان کی وصولی کے لئے کوئی توجہ نہیں دی جارہی، باربار بجلی کرایہ کی وصولی کے نام پر غریبوں اور کمزور لوگوں کو ہی محکمہ شکار بناتاہے۔ یاور دلاور میرنے ڈاکٹر نرمل سنگھ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا پچھلے تین برس سے ہم جب بھی کسی پروجیکٹ کی بات کرتے ہیں تو آپ سے یہی جواب ملتا ہے کہ MOUپردستخط ہوگئے ہیں ڈی پی آر بن گیا ہے، جلد کام شروع کر دیاجائے گا، برائے مہرابانی یہ رٹا رٹایاجواب مت دیں، اس مرتبہ اپنی تقریر میں واضح کر دیں کہ پروجیکٹ پر کام کب شروع ہوگا اور کب ختم ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیاکہ ”ہم سے CDFسے چار لاکھ روپے بجلی کے لئے لئے جاتے ہیں جس میں سے ایک لاکھ ہڑپ کر دیاجاتاہے ، اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں“انہوں نے مطالبہ کیاکہ محکمہ میں احتساب اور جوابدہی لائی جائے۔پی ڈی پی ایف کے حکیم محمد یٰسین نے کہا ‘’ہم یہ سنتے آر ہے ہیں کہ پیسا واگزار ہوا ہے ہو رہا ہے لیکن عملی طور پر اس سلسلے میں کوئی کام نہیں ہو رہا ۔انہوں نے مانگ کی کہ پریم منسٹر ڈولپمنٹ فنڈس سے مزید ایک کروڑ کی رقم فراہم کی جائے تاکہ اسمبلی حلقوں میں بجلی کے ترسیلی نظام میں بہتری آسکے۔ انہوں نے کہا اسکیموں کے نام بدلے جارہے ہیں زمینی سطح پر بجلی کی ترسیل وتقسیم اور ڈھانچے میں کوئی بہتری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ۔ انہوں نے کہاکہ نرمل سنگھ پرطنز کرتے ہوئے کہاکہ آپ نے اس محکمہ میں ساڑھے تین برسوں کے دوران وارثت کے لئے کچھ چھوڑ ا ہی نہیں۔ایم ایل اے کولگام محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ آر اے پی ڈی آر پی ،دین دیال اور دیگر سکیموں کے تحت اگر پیسہ آیا ہے تو اُس کو کیوں خرچ نہیں کیا جا رہا ہے ۔وہ یہ سمجھنے سے قاضر ہیں کہ آخر کب اُس پیسے کو خرچ کیا جائے گا ۔انہوں نے سرکار سے محاطب ہو کر کہا کہ کیا آپ اگلے انتخابات میں یہ ہی اندھیرا لیکر لوگوں کے پاس جائیں گے ۔انہوں نے کہاکہ کلگام میں وہ ورکشاپ بنانے کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں لیکن اس پر کوئی آج تک عمل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہاکہ سرینگر اور جموں شہر میں بہت زیادہ کیجول لیبرز لگائے گئے ہیں، دیگر قصبہ جات پر بھی توجہ دی جائے۔ ممبر اسمبلی پلوامہ محمد خلیل بند نے کہا کہ بجلی نظام میں سدھار لانے کےلئے ابھی تک کوئی بھی اقدمات نہیں ہوئے ہیں اور وادی کے تمام اسمبلی حلقوں میں بجلی نظام بد سے بتر ہے ۔ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر نے کہا کہ لوگوں سے دعویٰ کئے گے تھے کہ این ایچ پی سی بجلی پروجیکٹ واپس لائے جائیں گے لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہئے ۔ساگر کا کہناتھا” ایجنڈا آف الائنس پر کیا ہوا کیا نہیں، سرکار کو اس پر دھیان دینے کے بجائے لوگوں کو معقول بجلی فراہم کرنے کےلئے اقدامات اٹھانے چاہئے، بجلی شعبہ میں بہت زیادہ بہتری لانے کی ضرورت ہے۔