گول سب ضلع ہسپتال ڈاکٹروں کے بغیر لاوارث

امتیاز وانی
گول // گول سب ضلع ہسپتال کو 1998میں پیسب ضلع ہسپتال کا درجہ دیا گیا تھا لیکن ۱۹ برس گزرنے کے بعد بھی ہسپتال کی حالت جوں کی توں ہے ۔گول سب ڈویژن ساٹھ ہزار سے زائد آبادی پر مشتمل ہے لیکن ان ساٹھ ہزار انسانوں کیلئے آج کی جتنی بھی سرکاریں بنی اُن کا رویہ جارہانہ اور غیر سنجیدہ ہی رہا۔گو کہ ۱۹ برس قبل پی ایچ سی گول کو بڑھا کر یہاں سب ضلع ہسپتال نام کی تختی لگائی گئی لیکن یہ نام صرف سنگ بنیاد کی اس تختی تک ہی محدود رہا۔سب ضلع سطح کا نہ یہاں پر طبی عملہ تعینات کیا گیا اور نہ ہی اس سطح کی عمارت بنائی گئی ۔ یہاں تک کہ آج بھی جب کبھی بارش ہوتی ہے تو لیبر روم کی چھت سے پانی ٹپکنا شروع ہو جاتا ہے ۔حالت خستہ میں مبتلا یہ ہسپتال علاقہ گول کی عوام کے لئے پریشانیوں کا باعث بنا ہوا ہے وہیں محکمہ صحت کیلئے آئے روز باعث شرمندگی بنا ہواہے ۔ڈاکٹروں کی اکثر اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں۔دس بار سال سے ایک ہی ڈاکٹر جو یہاں پر دن رات عوامی خدمت انجام دیئے جا رہا ہے آج اُس کا بھی تبادلہ کر کے عوامی پریشانیوں میں مزید اضافہ کیا گیا۔محکمہ صحت کی بہتری کے بلند بانگ دعوئوں کی پول اُس وقت کھل جاتی ہے کہ جب محکمہ صحت کی ٹرانسفر پالیسی پر نظر دوڑائی جائے تو حالت یہ ہے کہ سب ڈویژن گول میں این ایچ ایم کے بھی جو ڈاکٹر مختلف ہیلتھ سنٹروں پر تعینات تھے ایک ایک کر کے سب کا تبادلہ کیا گیا لیکن بدلے میں یہاں اُن جگہوں پر ڈاکٹروں کی تعیناتیاں عمل میں نہیں لائی گئی ۔ اس طرح کی ٹرانسفر پالیسی علاقہ کو محض انتقام لینے کا شاخسانہ ہے۔ایسا لگتا ہے موجودہ سرکارلوگوںکے مسائل کا ازالہ کرنے میں مکمل طور سے غیر سنجیدہ ہے۔ گول کی عوام کے ساتھ حکومت کاسوتیلا سلوک نہیں تواور کیا ہے؟اس بارے میں جب سی ایم او رام بن سے پوچھا گیا تو اُنھوں نے معذوری دکھاتے ہوئے کہ تعیناتیاں کرنایا تبادلے عمل میں لانے میرے حد ِ اختیار میںنہیں ہے ۔ اس طرح کے جوبھی تبادلے یا تقرریاںعمل میں لائی جاتی ہیں وہ سب ڈائیرکیٹر ہیلتھ جموں کے حکم پر ہی انجام دیئے جاتے ہیں۔پوچھے گئے ایک سوال میں کہ کیا عملے کی عدم دستیابی کیلئے آپ ڈائیریکٹر کو آگاہ نہیں کرتے تو اُن کا کہنا تھا بار ہا آگاہ کیا جاتا ہے لیکن ایکشن کرنا ڈائیریکٹر کے ہاتھ میں ہی ہے۔