ایوان نے محکمہ تعلیم کے مطالبات زر منظور کئے :الطاف بخاری

اڑان نیوز
جموں//تعلیم کے وزیر سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ تمام سطحوں پر مجموعی ترقی حاصل کرنے کے لئے تعلیم کو ایک کلیدی اہمیت حاصل ہے ۔انہوں نے کہا کہ مختلف چیلنجوں اور مشکلات کے باوجود بھی اُن کی حکومت تعلیمی نظام کو دوبارہ پٹری پر لانے میں کامیاب ہوئی ہے اور کشمیر میں حالیہ بورڈ نتائج سے ایک امید کی ایک کرن جاگ اٹھی ہے ۔قانون ساز اسمبلی میں آج محکمہ تعلیم اور اسے منسلک محکموں کے مطالباتِ زر پر ہوئی بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیر نے تعلیمی سیکٹر کے خدو خال کو بہتر بنانے کے ایک افہام تفہیم کا ایک تعمیر ی سلسلہ شروع کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ا س سلسلے میں ہم سب کو سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر آگے آنا چاہیئے۔انہوں نے اس موقعہ پر ارکان کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور یقین دلایا کہ ان تجاویز کو محکمہ کے کام کاج میں معقولیت لانے میں بروئے کا ر لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کا مطلب بچوں کے مستقبل میں سرکا یہ کاری کرنا ہے کیونکہ اس شعبے سے قوم کے معمار تیار ہوتے ہیں۔الطاف بخاری نے کہا کہ حکومت نے تعلیمی محکمہ کے لئے کیپس بجٹ میں تین گنا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔انہوں نے اس ضمن میں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب اے درابو کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تعلیمی شعبے کی ضروریات کو پوراکرنے کے لئے ان کی مانگوں پر ہمدردانہ غور کیا۔ وزیر نے کہا کہ وزیر خزانہ کی ذاتی کاوشوں کی بدولت محکمہ خزانہ نے ایس ایس اے اساتذہ کی تنخواہیں واگذار کرنے کے لئے ایک راستہ نکالا ۔ وزیر نے ارکان کو ان کی طرف سے حلقہ وار بنیادوں پر تعلیمی شبعے جائزہ لینے کے لئے منعقدہ میٹنگوں کی یاد دلائی۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ میٹنگیں تعلیمی سیکٹر کو آگے لے جانے کے لئے ارکان قانون ساز یہ اور ممبران پارلیمنٹ کی شراکت داری کی ایک پہلی کڑی ہوگی ۔انہوں نے کہاکہ ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ تعلیمی شعبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرانے کے لئے ایک ایک کروڑ روپے صرف کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ رقومات ارکان اور رکن پارلیمان کے مطالبات کے مطابق صرف کئے جائیں گے۔انہوں نے ایوان کو جانکاری دی کہ ریاستی کابینہ نے 400 سکولوں کا درجہ بڑھانے اور ریاست میں 17نئے ڈگری کالج کے قیام کو منظوری دی ہے۔وزیر نے مزید کہا کہ ان کی وزارت سکولوں اور کالجوں میں مختلف وجوہات سے ضائع ہوئے وقت کی بھر پائی کے لئے ایک علاحدہ تعلیمی کیلنڈر جاری کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ چھٹیوں کی تعداد میں کمی لائی جاسکے اور اساتذہ وقت پر اپنا سیلبس پور ا کر سکیں۔ انہوں نے تعلیمی سیکٹر کو تقویت بخشنے کے لئے عوام کا تعاون طلب کیا اورکہاکہ اساتذہ برادری کو طلاب کے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر تدریسی ڈیوٹی سے مستثنیٰ رکھا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ارکان کے باہمی اشتراک کے ساتھ کام کرنے کے اپنے عزم کو دہرایا ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ سکولوں کو بڑھاوا دینے سے اپنی تجاویز سے حکومت کو روشنا س کرائیں۔وزیر نے کہا کہ حکومت اس شعبے کو آگے بڑھانے کے لئے کئی اختراعی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ طلاب کو سڑکوں سے کلاس رومز تک پہنچانا ایک آسان کام نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ انہیں یہ کہنے میں فخر محسوس ہو رہا ہے کہ کسی بھی احتجاجی طالب علم کے خلاف ایک بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے طالب بالخصوص بالغ ایک مشکل دور سے گزر رہے ہیں تاہم ان کی صحیح رہنمائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔وزیر نے طلاب کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوںنے کہاکہ اس ضمن میں سٹوڈنٹس کونسل قائم کئے جانے چاہئیں جو سکولوں اور کالجوں کے معاملات پر کڑی نظر گزر رکھیں گے ۔الطاف بخاری نے کہا کہ ارکان قانون ساز یہ اور ممبران پارلیمنٹ کے اشتراک سے 100کروڑ روپے ایک اضافہ کارپس قائم کیا جائے گا تاکہ تعلیمی نظام کو فروغ دیا جاسکے ۔انہوں نے ان رقومات کو تار بندی اور طلاب کے لئے دوسری سہولیات پر خرچ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوںنے کہا کہ جب تک ہمارے سکولوں کی مکمل دیوار بندی اور مستقل واچ اینڈ وارڈ یقینی نہیں بن سکتا تب تک ان طلاب کے لئے سماج مخالف سرگرمیوں میں شامل ہونے کا خطرہ لاحق رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست جموںوکشمیر تشدد کا شکار نہیں ہے اور سلامتی ایک اہم پہلو بن جاتا ہے ۔ انہوں نے چوکیداروں کو کام پر لگا کر سکولوں کے واچ اینڈ وارڈ لائحہ عمل میں بہتر ی لانے کی بھی صلاح دی۔ انہوں نے کہاکہ ریاست ابھی بھی 2016ءکے نامساعد حالات سے بحال ہو کر اُبھر رہی ہے اس دوران تعلیمی سیکٹر کو کافی نقصان پہنچا اور سکول عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا جسے طلاب کو کافی نقصان ہوا۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں جدت لانے کے حوالے سے ارکان کی آراءسے اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کو ہنر مندی اور روزگار کے ساتھ جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے فارغ ہونے والے طلاب کو آسانی سے روزگار حاصل ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت 10ہنروں میں ووکیشنل تعلیم دی جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مناسب میپنگ کے بعد ان ٹریڈس کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا۔الطاف بخاری نے تعلیم ی بنیادی ڈھانچے کے لئے فراخدلانہ رقومات مختص کرانے کی ضرور ت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اکثر سرکاری سکول ابھی بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی سیکٹر کو دوبارہ پٹری پر لانے کےلئے بنیادی ڈھانچے کی تفاوت کو دور کرنا ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بنیادی ڈھانچے کو تقویت بخشنے کے لئے محکمہ تعلیم کو اضافی 2500 کروڑ روپے کی فنڈنگ درکا ہوگی ۔ انہوںنے کہا کہ اسی طرح اعلیٰ تعلیمی سیکٹر کے لئے بہتر بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لئے 1300کروڑ روپے درکا ر ہوں گے ۔انہوں نے کہا کہ ایک جامع تجزیہ اور فیڈ بیک کے بعد محکمہ نے اگلے تین برسوں کے لئے ایک جامع منصوبہ تیارکیا ہے تاکہ تعلیمی شعبے میں نمایاں تبدیلی دیکھنے مل سکیں۔انہوںنے کہا کہ اس منصوبے کے تحت پہلی کڑی کے طور پر سکولی تعلیمی محکمہ 400کروڑ روپے جبکہ اعلیٰ تعلیمی محکمہ پر 200کروڑ روپے صرف کئے جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ تعلیمی سیکٹر کو آگے بڑھانے کے لئے آر یو ایس اے کے تحت کئی اختراعی اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ہائی اور ہائیرسکینڈری سطح پر 3200 جبکہ پرائمری اور اَپر پرائمری سطح پر 5500اضافی کلاس روم تعمیر کرنے کے اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں میں سرعت لانے کے لئے ان کی وزارت نے محکمہ کے لئے ایک الگ سے ایک انجینئر نگ وِنگ قائم کے احکامات صادر کئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کی تفاوت کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ معیاری تعلیم کی طرف خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ ایس ایس اے اور رمسا کے تحت بھی کئی اقدامات کئے جارہے ہیں جن کے خاطر خواہ نتائج سامنے آرہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ یہ سکھانے والے عمل ہمارے اساتذہ کو بچوں کو سیکھنے کی سطح سمجھنے میں انفرادی و اجتماعی طور پر مدد کرتی ہے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ طلاب کے ایکسچینج پروگرام منعقد کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ ریاستی طلاب کو ملک کے دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے طلاب کے ساتھ مل کر نئے تجربات حاصل کرنے میںمدد ملے گی۔انہوں نے کہاکہ اس وقت 550طلاب او راساتذہ دلّی میں ایک ایسے ہی ایک ایکسچینج پروگرام میں حصہ لینے کی غرض سے گئے ہوئے ہیں۔مقررہ نشانے کو حاصل کرنے کو ایک اور کامیابی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت ایم ایچ آر ڈی کے ساتھ ایم او یو میں داخل ہوا ہے جس کے تحت تعلیمی معیار کو بڑھانے کے لئے رقومات کی فراہمی اور ماہرانہ رہبری حاصل ہوگی تاکہ طلاب مختلف سطحوں بہتر کار کردگی کا مظاہرہ کرسکیں۔ممبران کی طرف سے اٹھائے گئے معاملات کا ذکر کرتے ہوئے وزیرنے کہاکہ نجی تعلیمی ادارے بیشک ریاست میں معیار ی تعلیمی فراہمی میں بڑ ی حد تک معاونت ثابت ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ نجی سکولوں میں ہمارے ہی بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ اسلئے ہمیں ان سکولوں کو تعلیم کے میدان میں حقیقی شراکت دار کے طور پر اپنانا ہوگا۔ تاہم ان سکولوں کی کارکردگی میں چند ایک مسائل موجود ہیں جن میں فیس ڈھانچہ کو باقاعدہ بنانا وغیرہ شامل ہیں اور جن پر ایوان نے بارہااپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔اس مسئلے کے حل کے لئے سکولی تعلیمی محکمہ تمام نجی سکولوں کے فیس ڈھانچے کو باقاعدہ بنانے کے لئے ایک لیجسلیشن ایوان نے لانے پر غور کر رہا ہے تاکہ یہ سکول صرف منافع کمانے والے ٹک شاپ نہ ہوں ۔امتحانات کے عمل میں بہتری لانے کے سلسلے میں کئے جارہے اقدامات کا ذکرکرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ جے اینڈ کے سٹیٹ بورڈ آف سکول ایجوکیشن اس سلسلے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے ۔وزیر نے کہا کہ حکومت نقل کی وبا کو روکنے کے سلسلے میں کوئی بھی کسر اٹھانی نہیں رکھے گی اور حالیہ اقدامات کے تحت کئی افسران اور ملازمین کے خلاف غیر ذمہ دارانہ رویہ کے مدنظر قانون طور پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔انہوں نے کہا کہ جے اینڈکے سٹیٹ بورڈ آف سکول ایجوکیشن کا ایک بورڈ آف گورننس تشکیل دیا گیا ہے جو نصابی کتابوں کے معیار میں بہتری لانے اور امتحانات شفافیت کے ساتھ منعقد کرانے میں موثر اقدامات تجویز کر ے گا۔وزیرنے کہا کہ وادی کے حالیہ بورڈ امتحانات کے نتائج نے یہ ثابت کیا کہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی سرگرمیوں میں بہت حد تک بہتری لائی گئی ہے ۔ دسویں جماعت کے امتحان میں نتائج کافی حوصلہ افزا ثابت ہوئے جبکہ بارہویں جماعت کے نتائج 60فیصد ریکارڈ کئے گئے اور 35طلاب نے دس پوزیشنیں حاصل کیں۔آرٹس ، ہوم سائنس اور کامرس سٹریم میں طلاب نے پہلی پوزیشن حاصل کی جبکہ 9000ڈسٹنکشنز اور 7000 ڈسٹنکشنز سرکاری سکولوں نے حاصل کیں۔انہوںنے کہا کہ طلاب کی کامیابی کا سہرا اساتذہ کو بھی جاتا ہے جنہوں نے اپنی محنت اور کاوشوں کی بدولت طلاب کو تعلیم کی طرف مائل کیا ۔اساتذہ کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلے میں حکومت کی طرف سے یقین دہانیوں کا ذکرکرتے ہوئے وزیر تعلیم نے کہا کہ اساتذہ کو کیئر یر پروگراشن کا مسئلہ درپیش ہے اور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ایک سپیشل ہیومن ریسورس منیجمنٹ کو منظوری دے کر کاڈر منیجمنٹ کے مسئلے کو حل کرنے میں مدد دیں۔وزیر نے کہا کہ 933 نئے لیکچرروں نے مختلف مضامین میں محکمہ میں جوائن کیا ہے اور انہیں مختلف سکولوں میں بھی تعینات کیا گیا جبکہ 1409 نئے منتخب شدہ اسسٹنٹ پروفیسروں کے حق میں اعلیٰ تعلیم محکمہ کی طرف سے تقرری کے احکامات جاری کئے گئے ۔انہوںنے کہاکہ اسسٹنٹ پروفیسروں کی 469اسامیوں کو پبلک سروس کمیشن کو ریفر کیا گیا ہے تاکہ ان اسامیوں کو پُر کرنے کے عمل میںتیزی لائی جاسکے۔انہوں نے کہا کہ سکولی تعلیم محکمہ میں عملے کی کمی سے نمٹنے کے لئے 2454 اساتذہ اور 1296غیر تدریسی عملے کی اسامیوں کو سروس سلیکشن بورڈ کو پُر کرنے کے لئے بھیجا گیا ہے ۔وزیرنے کہاکہ وزرات تعلیم رہبر تعلیم اساتذہ کو باقاعدہ بنانے کے دائرے میں لانے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔اس سے قبل تعلیم اور اس سے منسلک محکموں کے مطالبات زرپر کئی ممبران نے بحث میں حصہ لیاجن میں ست پال شرما، میاں الطاف احمد ، جاوید حسن بیگ ، اصغر علی کربلائی ، حکیم محمد یاسین ، نیلم کمار لنگے، آغا روح اللہ ، آغا سید روح اللہ مہدی ، محمد خلیل بندھ، دلدان نمگیال ، محمد یوسف تاریگامی ، شکتی راج پریہار ، علی محمد ساگر ، عبدالرحیم راتھر ، اعجاز احمد خان، پون کمار گپتا ، جیون لال ، بشیر احمد ڈار ، جاوید احمد رینہ ، یاور احمد میر ، جی ایم سروری ، چودھری سکھ نندن ، سید فاروق احمد اندرابی ، وقار رسول وانی ، عمر عبداللہ ، الطاف احمد وانی ، دلیپ سنگھ پریہار ، راجا منظور احمد ، شمیم فردوس ، محمد اکبر لون ، چودھری محمد اکبر ، عبدالمجید پڈر ، عثمان مجید ، شاہ محمد تانترے ، شیخ اشفاق جبار ، نور محمد شیخ ، عبدالمجید بٹ لارمی ،چودھری قمر حسین ،مبارک گل اور انجم فاضلی شامل ہیں۔بعد میں ایوان نے تعلیم ، امور نوجوان و کھیل کود ، تکنیکی تعلیم و دیگر منسلک محکموں کے حق میں 882755.90 لاکھ روپے کے مطالباتِ زر پاس کئے ۔