ایوان بالاءمیں محکمہ دیہی ترقی وپنچایتی راج کے کام کاج پر بحث کالی بھیڑوں کیلئے محکمہ دیہی ترقی میں کوئی جگہ نہیں،ای ایف ایم ایس نظام سے شفافیت آئی:حق خان

اڑان نیوز
جموں//وزیر برائے دیہی ترقی و پنچایتی راج عبدالحق خان نے ملازمین و افسران کی سراہنا کرتے ہوئے کہاکہ کالی بھیڑوں کیلئے محکمہ میں کوئی جگہ نہیں۔انہوں نے کہاکہ پہلے چوری پکڑی نہیں جاتی تھی لیکن ہم نے پہلے ہی سال سے شفافیت کے ساتھ گاؤں کو روابط سے جوڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ کا چارج سنبھالنے کے وقت چار سو کروڑ کی رقومات واجب الادا تھیں جس کو ختم کرنے کے بعد گاؤں کو سڑک اور پلوں کہ کی مدد سے جوڑا گیا جس سے بچے سکول جانے لگے اور ندی نالوں کی طغیانی میں بہہ کر موت کا شکار بن جانے والوں کو تحفظ ملا۔ انہوں نے کہاکہ جہاں اثاثے قائم ہوئے وہیں روزگار بھی دیا گیا۔وزیر کا کہناتھا کہ جیو ٹیگ میں ریاست کو اعزاز سے نوازا گیا اور اس نظام کے بعد بے ضابطگی کے امکانات ختم ہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ رقومات کی ادائیگی میں کئی رکاوٹیں تھی لیکن اب ای ایف ایم ایس نظام شروع کیا گیا جس سے بی ڈی او براہ راست لوگوں کے بنک کھاتے میں پیسہ منتقل کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے یہ شکایات تھیں کہ جاب کارڈ سرپنچ کے پاس رہتے ہیں لیکن اب یہ نظام بھی ٹھیک کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ شفافیت کی خاطر ایک اور اقدام کرتے ہوئے ضلع سطح پر محتسب مقرر کئے گئے ہیں جو شکایات کا ازالہ کریں گے۔ وزیر کے مطابق ایک اور اہم اقدام کے طور پر سوشل آڈٹ یونٹ قائم کیا جارہا ہے جس سے مزید شفافیت لائی جاسکے گی۔ انہوں نے کہاکہ آج کوئی یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ میں نے کام کیا اور پیسہ نہیں ملا۔ پی ایم اے وائی سکیم کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہاکہ اس عمل میں ایسا نظام قائم کیا گیا ہے جس سے اس پیسہ کا غلط استمال نہیں ہوسکتا اور قسطوں کی واگزاری میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ ایس ای سی سی لسٹ پر حکومت ہند سے معاملہ اٹھایا گیا ہے اور سکیم کے تحت رقومات براہ راست بنک کھاتوں میں جاتی ہیں۔انہوں نے بتایاکہ اس سکیم میں مستحقین کو ڈیڑھ لاکھ روپے ملتے ہیں اور سکیم کی نگرانی صرف ریاست ہی نہیں بلکہ حکومت ہند بھی کررہی ہے اور لہذا اس میں بے ضابطگی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے جوائنٹ سیکرٹری کی قیادت والی ٹیم کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ٹیم کام دیکھ کر حیران ہوگئی اور جوائنٹ سیکرٹری نے اس بات کا اعتراف کیاکہ جو کام محکمہ دیہی ترقی میں کم قیمت پر ریاست جموں و کشمیر میں ہوئے ہیں وہ ملک کی کسی بھی دوسری ریاست میں نہیں ہوئے۔ وزیر نے کہاکہ کرپشن کی کوئی جگہ نہیں اور کرپٹ افسران و ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ پچھلے تین سال میں 2 لاکھ 17 ہزار اثاثے قائم ہوئے ہیں اور ان میں ایسے اثاثے بھی ہیں جو کروڑوں روپے میں بنے جن میں ایک پل دریائے چناب پر بن رہاہے جبکہ اننت ناگ میں دریا پر بنائے گئے ایک پل کا انہوں نے کل ہی کل ہی افتتاح کیا۔ انہوں نے کہاکہ پانی کے روایتی ذخائر کی تجدید ہورہی ہے اور محکمہ نے سیلاب سے حفاظت کے اہم اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کیلئے کھیل کود میدان بنائے گئے ہیں۔وزیر کے مطابق آبپاشی نہریں تعمیر ہورہی ہیں۔ ماہی پروری کے تالاب بنے اور اس سال ہمارا ارادہ پانی ذخیرہ کرنے کیلئے ٹینکوں کی تعمیر کرناہے تاکہ پانی کی قلت کا مسئلہ حل ہو سکے اور اس میں یقینا تبدیلی دیکھنے کو ملے گی۔ امید سکیم کا ذکر کرتے ہوئے وزیر نے کہاکہ 2 لاکھ خواتین کو روزگار دیا گیا اور اسی طرح سے حمایت سکیم کے تحت نوجوانوں کو تربیت فراہم کرکے روزگار دلانا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ ایک اہم سکیم ہے جس کیلئے ممبران بھی نوجوانوں کو بھیج سکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ واجب الادا رقومات جلد واگزار کردی جائیں گی۔قبل ازیں تمام ممبران قانون ساز کونسل نے وزیر موصوف کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ ان کی قیادت میں محکمہ ترقی کی نئی بلندیوں پر پہنچا ہے اور گاؤں گاؤں قیمتی اثاثے قائم ہوئے ہیں اور بنیادی ڈھانچہ مستحکم ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ محکمہ کے تحت پلوں اور سڑکوں کی تعمیر دیکھ کر حیران ہوتے ہیں۔ انہوں مرحوم مفتی سعید کو اپنا استاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ انہیں یاد ہے کہ مرحوم نے اپنی رحلت سے قبل اننت ناگ میں ایک تقریب کے دوران محکمہ دیہی ترقی کی طرف سے پل کی تعمیر پر کہاتھاکہ پتہ نہیں عبدالحق پلوں کی تعمیر کیلئے پیسہ کہاں سے لاتا ہے اور انہوں نے محکمہ کی کارکردگی سے متاثر ہو کر مزید پلوں کی تعمیر کی ہدایت دی۔قانون ساز کونسل میں ممبران کی محکمہ دیہی ترقی پر بحث کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پہلے یہ محکمہ پارٹی کارکنان کو فائدہ دینے تک محدود تھا لیکن انہوں نے کوشش کی کہ نظام بدلا جائے اور خود پنچایت سطح پر کاموں کا جائزہ لیا۔