کچلو کا’ بیسٹ لیجسلیچر ایوارڈ ‘لینے سے انکار ©’کشتواڑ ضلع پانی میں غرقاب ہونے جارہا ہے توانعامات کاکیاکروں گا‘

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//این سی ایم ایل سی سجاد کچلو نے ”بیسٹ لیجسلیچر ایوارڈ“نہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ جن لوگوں کی بدولت وہ اس ایوان میں ہیں، اگر ان کے مسائل حل نہیں ہورہے تو مجھے انعامات لینے کا کوئی حق نہیں۔سجاد کچلو نے ضلع کشتواڑ میں تعمیر کئے جارہے پن بجلی پروجیکٹوںسے متاثر ہورہی آبادی کی مشکلات کا جائزہ لینے کے لئے جوائنٹ ہاو¿س کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیاتھا، جس کو حکومت کی طرف سے انکار کرنے کے بعد، ایوارڈ نہ لینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ ”میری پہچان میرے لوگ ہیں، جن کے ووٹ اور حمایت سے میں آج ایس ایوان کا ممبر ہوں، آج سجاد کچلو کوئی نام ہے تو، اس کو یہ پہنچان دینے والے کشتواڑ کے وہ لوگ ہیں، جوکہ پن بجلی پروجیکٹوں کی وجہ سے بے گھرہورہے ہیں، میں ایوارڑ حاصل کرنے ایوان میں نہیں آیاہوںبلکہ لوگوں اور متاثرین کی بات کرنے آیا ہوں“۔انہوں نے بتایاکہ ’اپوزیشن کے سبھی ممبران نے ہاو¿س کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ، حکومت نے ماننے سے انکار کردیا۔اس پر ووٹنگ کرائی جانی تھی لیکن چیئرمین نے شور شرابے کے بیچ ہی کونسل کی کاروائی ملتوی کرنے کا اعلان کیا جوکہ بڑی نا انصافی ہے۔ ا نہوں نے کہاکہ اگر ووٹنگ کرائی جاتی تو پی ڈی پی کی پول کھلتی لیکن جان بوجھ کر کارروائی جلدی ملتوی کر دی گئی۔