ریاست این ایچ پی سی سے پروجیکٹ واپس لینے کی پوزیشن میں نہیں:نائب وزیر اعلیٰ مطلوبہ ڈھانچہ نہ وسائل ڈول ہستی پاور پروجیکٹ سے متعلق این ایچ پی سی کے ساتھ معاہدہ کی فائل گم ہونے کا اعتراف

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ این ایچ پی سی ریاست جموں وکشمیر کوپاور پروجیکٹ واپس دینے سے انکاری نہیں لیکن ہمارے پاس اتنے وسائل اور ڈھانچہ نہیں کہ ہم ان کو سنبھال سکیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وسائل اور پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے ہم پن بجلی پروجیکٹوں کی تعمیرکے لئے این ایچ پی سی کے پاس جانے کے لئے مجبور ہیں۔نائب وزیر اعلیٰ نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ڈول ہستی پن بجلی پروجیکٹ کے لئے این ایچ پی سی کیساتھ طے شدہ معاہدے (MOU)کی کوئی دستاویزموجودنہیں ہے اور جوابدہی عائد کئے جانے کے لئے تحقیقات جاری ہے۔۔کونسل رولز 51(1)کے تحت کشتواڑ میں پن بجلی پروجیکٹوں کی تعمیر سے متاثرہ آبادی بارے ہوئی ڈیڑھ گھنٹہ کی بحث کے جواب میں نائب وزیر اعلیٰ نے کہاکہ جموں وکشمیر کے پاس پروجیکٹ بنانے کے لئے پیسہ، وسائل اور مطلوبہ ڈھانچہ نہیں، اگر ہمارے پاس یہ سب ہوتا تو پھر ہم کیوں این ایچ پی سی کے پاس جاتے ۔ انہوں نے کہااین ایچ پی سی پروجیکٹ واپس دینے سے انکاری نہیں ہے لیکن ہم واپس لینے کی پوزیشن میں نہیں۔ انہوں نے کہا”ہم اس پوزیشن میں نہیں کہ ان پروجیکٹوں کو واپس لیکر ان کو سنبھال سکیں“۔ انہوں نے کہاکہ جب کشن گنگا پن بجلی پروجیکٹ کا معاملہ این ایچ پی سی کے ساتھ زیر بحث آیا تو سوال اٹھا کہ کیا،جموں کشمیر سٹیٹ پاؤر ڈیولپمنٹ کارپوریش کے پاس وسائل وڈھانچہ ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ نے کہاکہ ”ہم چھوٹے چھوٹے تھے جب رنجیت ساگر ڈیم کی تعمیر ہمیں پنجاب کو دینا پڑی، اگر ہمارے پاس پیسے ہوتے تو اس وقت بھی حکومت کو ایسا نہ کرنا پڑتا ہم مجبور ہیں، وسائل نہیں، پروجیکٹوں کی تعمیر،ان کی دیکھ ریکھ مذاق نہیں ہے۔ ابھی ہم اس پوزیشن میں نہیں تاہم انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر سٹیٹ پاور ڈولپمنٹ کارپوریشن کو اس قابل بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔دریں اثناءنائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ جن کے پاس وزارت بجلی کا قلمدان بھی ہے، نے اسمبلی میں سی پی آئی (ایم)محمد یوسف تاریگامی کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کاکہ ڈول ہستی پن بجلی پروجیکٹ کی تعمیرکے لئے جموں وکشمیر سرکاراورنیشنل ہائیڈرؤ پاؤر کارپوریشن (این ایچ پی سی)کے درمیان طے پائی گئی مفاہمت کی یادداشت (MOU)سے متعلق دستاویزی فائل کہیں گم ہوگئی ہے۔انہوں نے کہاکہ ان اہم فائلوں کی پُراسرارگمشدگی کے بارے متعلقہ افسروں کوذمہ داریاقصوروارٹھہرانے کیلئے سال2012میں ریاستی سرکارکی جانب سے ایک اعلیٰ افسروں پرمشتمل ایک ٹاسک فورس تشکیل دیاگیا۔تاریگامی نے اس پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ آج تک سرکار ذمہ داری عائد نہیں کر پائی ہے۔ کمیٹیاں، سب کمیٹیاں بنیں، یقین دہانیاں کرائیں گئیں لیکن آج تک کچھ نہ ہوا۔ انہوں نے نرمل سنگھ کو آڑتے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا”جوں جوں آپ نے محکمہ کے لئے کوئی کشش کی اندھیرا ہی اندھیرا ہوتاگیاہے، مجھے بتایاجائے کہ ذمہ داری کب تک فکس ہوگی، اس پر نرمل سنگھ کہاکہ ہاو¿س کمیٹی بنائی جائے گی ، حکومت ِ ہند سے بھی یہ معاملہ اٹھایاجائے گا اور ہر ممکن کوشش کی جائے گی کی جلد ی سے جلدی اس بارے کچھ سامنے آئے۔