حزب اختلاف نے وادی میں بجلی بحران پر نائب وزیر اعلیٰ کو پھرگھیرا سوالات کی بوچھاڑ کی ، معقول جواب نہ ملنے پر یکے بعد دیگر ایوان سے واک آؤٹ

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ کوپیر کے روز ایکبار پھر ریاست میں بجلی بحران پر حزب اختلاف نے گھیرتے ہوئے سوالات کی بوچھاڑ کی اور معقول جواب نہ ملنے پر ایوان سے یکے بعد دیگر حکومت کوکھری کھری سناکرواک آؤٹ کیا۔ حزب اختلاف نے حکومت پرالزام عائد کیا کہ جان بوجھ کر اہلیان وادی کو مشکلات ومسائل سے دوچار کیا جارہا ہے ۔وقفہ سوال کے دوران پہلا ہی سوال محکمہ بجلی سے متعلق تھا، جس پر ممبران نے کئی ضمنی سوالات پوچھے لیکن جب، سی پی آئی (ایم )ممبر محمد یوسف تاریگامی کے سوال کا یہ جواب کے بعد نرمل سنگھ پر حزب اختلاف ممبرا ن نے سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ اگر چہ نائب وزیر اعلیٰ اپنی طرف سے ممبران کو مطمئن کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوے۔این سی کے ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر نے الزام عائد کیا کہ نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ ایوان کو ہلکے سے لے رہے ہیں، معقول جواب نہیں دیاجاتاہے۔علی محمد ساگر نے اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ آپ اپنے وزیر بجلی کے تئیں نرمی برت رہے ہو ،جو ناکام ہوچکے ہیں ۔ سرینگر میں ریسونگ اسٹیشن کی تعمیر میں تاخیر پر بجلی وزیر کی جانب سے دئے گئے جواب سے نامطمئن ہوئے اور علی محمد ساگر ’آپ جان بوجھ کر کشمیریوں کو مشکلات سے دو چار کررہے ہیں ۔انہوں نے اسپیکر کویندرگپتا پر الزام عائد کیا کہ آپ نامعلوم طاقتوں سے ہدایت لیتے ہیں ،آپا اپوزیشن کی آواز کو خاموش کررہے ہیں ۔نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ پائو ر پروجیکٹوں کی واپسی اور دیگر معاملات پر سوالات کے جوابات نہیں دے رہے ہیں ۔علی محمد ساگر کے بعداین سی کے ممبر اسمبلی الطاف کلو ،کانگریس کے ممبر اسمبلی عثمان مجید اور کانگریس کے ہی ممبر اسمبلی وقار رسول نے بھی ایوان سے واک آئوٹ کیا ۔اپوزیشن ممبران نے کہاکہ پوری وادی کے لوگ بجلی سپلائی سے محروم ہیں۔بجلی کی عدم دستیابی کیساتھ ساتھ بیشتردیہات پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں،جس وجہ سے عام لوگوں بالخصوص خواتین کوسخت پریشانی کاسامناکرناپڑرہاہے۔انہوںنے کہاکہ لوگ بجلی اورپانی کی عدم دستیابی کامعاملہ متعلقہ انجینئروں کی نوٹس میں بارہالاچکے ہیں لیکن اسکے باوجوددنوں لازمی سہولیات وضروریات کی فراہمی کوبہترنہیں بنایاگیاہے۔