اسمبلی میں’تحریک تخفیف ‘کے جواب میں محکمہ تعمیرات عامہ کے غلط اعدادوشمار! عمر عبداللہ سمیت پوری اپوزیشن کا برہم ، ڈپٹی اسپیکر نے انکوائری کا حکم دیا

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//اسمبلی ڈپٹی اسپیکر نذیر گریزی نے غلط اعدادوشمار پیش کرکے ایوان کو گمراہ کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو تعمیرات عامہ محکمہ کے افسران کے خلاف انکوائری کرانے کا حکم دیتے ہوئے قصور وار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے حکومت کو سخت وراننگ دی ہے کہ ایوان کو ہلکے سے مت لیاجائے۔یہ احکامات ڈپٹی اسپیکر نے محکمہ تعمیرات عامہ کے مطالباتِ زرپر بحث کے دوران اس وقت جاری کئے جب، این سی ممبر الطاف احمد کلو نے محکمہ کی طرف سے تحریک تخفیف(Cut Motion)کے جواب میں دیئے گئے اعدادوشمار کی پارلیمانی امور کے وزیر عبدلرحمن ویری نے تردید کی۔الطاف کلو نے سال 2017-18کے دوران ریاست کے تمام اسمبلی حلقوں میں سڑکوں پر کی گئی بلیک ٹاپنگ کے اعدادوشمار بتاتے ہوئے الزام لگایاکہ حزب اختلاف نیشنل کانفرنس اور کانگریس ممبران سے وابستہ حلقوں میں بہت کم بلیک ٹاپنگ ہوئی ہے جبکہ اس کے برعکس پی ڈی پی اور بی جے پی ممبران کے حلقوں میں زیادہ کلو میٹر بلیک ٹاپنگ کی گئی۔ انہوں نے ’کٹ موشن‘کے جواب میں لگ لگ حلقوں کے اعدادوشمار پڑھتے ہوئے جب بجبہاڑہ حلقہ کا ذکر کیا اور کہاکہ وہاں 74کلومیٹر بلیک ٹاپ کیاگیا تو پارلیمانی امور کے وزیر عبدلرحمن ویری، جوکہ بجبہاڑہ سے ایم ایل اے ہیں، نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ یہ اتنی بلیک ٹاپنگ نہیں ہوئی۔ اگر’تحریک تخفیف‘میں یہ جواب دیاگیا ہے تو غلط ہے، افسرکے خلاف کارروائی ہوگی۔ ان کا یہ کہنا تھاکہ سبھی اپوزیشن ممبران چراغ پاہوگئے۔اس دوران ایم ایل اے ہوم شالی بگ نے بتایاکہ انہیںCuT motionکا جوجواب ملا ہے، اس میں بجبہاڑہ میں68کلومیٹر بلیک ٹاپنگ دکھائی گئی ہے اور دیگر حلقوں کے الگ الگ اعدادوشمار ہیں، اسی طرح مبارک گل کی تحریک تخفیف کے جواب میں بھی الگ اعدادوشمار تھے۔ این سی کے سابقہ وزیر اعلیٰ اور ایم ایل اے بیراہ عمر عبداللہ ، اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور اس پر سخت تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ڈپٹی اسپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا” کٹ موشن کے جواب میں غلط اعدادوشمار بتانا افسوس کن ہے، ہم وزیر عبدلرحمن ویری کی بات پر یقین کریں یا یہ جواب جو ہمیں ملا ہے، اس پر کس پربھروسہ کیاجائے۔ سبھی حلقوں کی الگ الگ صورتحال ہے“۔ انہوں نے کہاکہ ”ایک ہی دن میں، ایک ہی محکمہ سے متعلق ایک ہی سوال کے جواب میں الگ الگ اعدادوشمار ، اس ایوان کو گمراہ کیاجارہاہے، افسر کے خلاف کارروائی کی جائے کہ کس نے ایسا کیا“۔علی محمد ساگر نے کہا” جوسوال اسمبلی /کونسل میں دیاجاتاہے ، وہ تبھی آتا ہے جب اس پر منسٹر دستخط کرتا ہے، اس میں غلطی منسٹر کی بھی ہوسکتی ہے، کیا ان کے کہنے پر افسران نے یہ اعدادوشمار دیئے یا پھر محکمہ کے افسران نے ہی غلط جواب دیا، اس کو اچھے سے دیکھاجائے“۔ ڈپٹی اسپیکر جوکہ اس وقت اجلاس کی صدارت کر رہے تھے، نے اس پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا”ایم ایل اے صاحبان کو ہلکے سے (Forgranted)نہ لیاجائے، آج وہ وقت نہیں کہ افسران کچھ بھی لکھ کر دے دیتے تھے اور ممبران چپ رہتے تھے، رات دیر تک ایم ایل اے حضرات تیاری کرتے ہیں، ایک ایک پیرا اور لفظ کو باریک بینی سے پڑھتے ہیں، اس طرح کی لاپرواہی نہ برتی جائے اور ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش نہ کی جائے“۔ انہوں نے حکومت کو ہدایت دی کہ اس کی باقاعدہ انکوائری کرائی جائے جواس میں قصور وار ہے اس کے خلاف کارروائی ہو۔ انہوں نے حکومت کو وارننگ دی کہ آئند ہ ایسی غلطی دوہرائی نہ جائے۔