ہماری سرحدوں پر انسانی خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے جنگ کااکھاڑہ نہیں دوستی کا پل بنائیں سرحدکے دونوں طرف کشمیری مر رہے ہیں:محبوبہ مفتی

یو ا ین آئی
بارہمولہ//وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ریاست کی سرحدوں پر اس وقت انسانی خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اور سرحدی آبادی کو انتہائی تکلیف دہ صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں کے دونوں طرف کشمیری مر رہے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی اور پاکستان سے اپیل کی کہ وہ جموں وکشمیر کو جنگ کا اکھاڑہ نہ بنائیں بلکہ اس کو آپسی دوستی کا پل بنائیں۔ محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار اتوار کو یہاں پولیس ٹریننگ سینٹر شیری بارہمولہ سے تربیت پانے والے پولیس ریکروٹس کی پاسنگ آوٹ پریڈکا معائنہ کرنے کے بعد اپنی تقریر میں کیا۔ انہوں نے کہا ’ہماری سرحدوں پر اس وقت خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔ جہاں پورا ملک ترقی کررہا ہے۔ اچھے اسپتال اور سڑکیں بن رہی ہیں۔ اچھے کالج اور اسکول بن رہے ہیں۔ ہمارے وزیر اعظم (نریندر مودی) بار بار ترقی کی بات کررہے ہیں۔ سب کے لئے ترقی، بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ لیکن وہیں ہماری ریاست میں کچھ اور ہورہا ہے۔ ہماری ریاست میں سرحدوں کے نزدیک رہائش پذیر لوگ بنکروں کی تعمیر کا مطالبہ کررہے ہیں۔ وہ اپنے گھر چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں اور ہمارے اسکول بند پڑے ہیں‘۔ انہوں نے کہا ’میری اپنے ملک کے وزیر اعظم (مودی) اور ہمسایہ ملک پاکستان سے گذارش ہے کہ وہ جموں وکشمیر کو جنگ کا اکھاڑہ نہ بننے دیں۔ جموں وکشمیر کو دوستی کا پل بنائیں۔ ہم نے سری نگر مظفر اور پونچھ راولاکوٹ راستے کھولے تھے تاکہ کاروبار ہو۔ یہ خون کی ہولی بند ہونی چاہیے تاکہ ہمارے بچے واپس اسکولوں کو جاسکیں۔ ہماری لوگ اپنے گھروں میں رہ سکیں اور کھیتی باڑی کرسکیں‘۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں وکشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کا باعث بن گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری واحد ایسی ریاست ہے جو دو ملکوں کے درمیان ہے۔ ہماری ریاست ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تنازعہ کا باعث بن گئی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے سرحدوں پر گولہ باری چل رہی ہے۔ ہمارے کئی لوگ شہید ہوگئے ہیں۔ ہمارے عام شہری اور چھوٹے بچے مارے گئے۔ ظاہری طور پر ایسی ہی صورتحال سرحد کے دوسری طرف بھی ہوگی۔ سرحدوں کے دونوں کشمیری لوگ مر رہے ہیں‘۔ قابل ذکر ہے کہ جموں خطہ میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر گذشتہ چار دنوں سے ہلاکت خیز گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میں کم از کم 11 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں جن میں پانچ فوجی ہیں۔ زخمیوں کی تعداد درجنوں میں ہے۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق بھارتی فائرنگ سے وہاں بھی متعدد عام شہری جاں بحق ہوگئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے جموں وکشمیر پولیس کو درپیش چیلنجز کا تذکرہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ بندوقیں اٹھانے والے مقامی جنگجوؤں کی گھر واپسی کی کوششیں کریں۔ انہوں نے کہا ’باہر سے جنگجوؤں کا آنا اور یہاں بچوں کا بندوقیں اٹھانا بھی آپ کے لئے چیلنج ہے۔ آپ کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ جو مقامی نوجوان بندوقیں اٹھارہے ہیں، انہیں کسی طرح گھر واپسی پر آمادہ کیا جائے۔ ملی ٹنسی کا مقابلہ کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ کسی عام شہری کی موت نہ ہو‘۔ انہوں نے کہا ’سب سے زیادہ مشکل کام جموں وکشمیر پولیس کا ہے۔ آپ کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ صرف لاء اینڈ آڈر کو برقرار رکھنا، آپ کے لئے چیلنج نہیں۔ صرف قانون کی پاسداری نہیں ہے۔ آپ کو کبھی کبھی اپنے ہی لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کو صبر وتحمل سے کام لینا پڑے گا‘۔ مفتی نے پولیس ریکروٹس سے کہا کہ وہ منشیات کے استعمال کے خاتمے اور تشدد کی شکار خواتین کو انصاف فراہم کرنے میں بھی اپنا رول نبھائیں۔ انہوں نے کہا ’آج آپ یہاں سے ٹرین ہوکر جارہے ہیں۔ میری آپ سب لوگوں سے گذارش ہے کہ آپ اپنی ڈیوٹی دیتے وقت ہر ایک چیز کا خیال رکھیں۔ ہمارے یہاں منشیات کی لت ایک بڑی مصیبت بن گئی ہے۔ عورتوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ جیسے حال ہی میں کٹھوعہ میں ایک چھوٹی بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ اس ایس ایچ او کو معطل کرنا پڑا۔ اس نے شاہد کہیں نہ کہیں کوئی لاپرواہی کی ہو ۔ ہم نے معاملے کی جانچ کے لئے ایک ٹیم بنائی ہے ۔ اس لئے جب آپ فیلڈ میں جائیں گے تو اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ آپ اپنے لوگوں کے بیچ میں ہیں۔ اگر یہاں کی ماؤں، بہنوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے تو آپ کو اس کا خیال رکھنا ہے۔ ان کو انصاف دلانا ہے۔ میں پھر سے آپ کے والد اور گھر والوں کو مبارک باد پیش کرتی ہوں ۔ میں دعا کرتی ہوں کہ اللہ تعالی آپ کی حفاظت کرے۔ اور آپ اپنی ریاست اور ملک کی صحیح معنوں میں خدمت کرسکیں‘۔ دریں اثنا محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’بارہمولہ پولیس ٹریننگ سنٹر میں پاسنگ آوٹ پریڈ کا معائنہ کیا۔ میں ریاست میں قیام امن کے لئے پولیس کے کردار کی سراہنا کرتی ہوں۔ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جموں وکشمیر پولیس نے عظیم قربانیاں دی ہیں‘۔ یو این آئی