سانحہ گاؤ کدل کی برسی سری نگر میں ہڑتال اور پابندیاں

یو ا ین آئی
سری نگر//) سری نگر کے سیول لائنز علاقوں میں سانحہ گاؤ کدل کی 28 ویں برسی کے موقعہ پر اتوار کو علیحدگی پسند لیڈروں کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی۔ احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر کشمیر انتظامیہ نے شہر کے 7 پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کر رکھیں جن کی وجہ سے ان علاقوں میں معمول کی سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ سیکورٹی فورسز نے مبینہ طور پر 21 جنوری 1990 ء کو سیول لائنز کے گاؤ کدل میں 52 مظاہرین کو ہلاک کیا تھا جن کی یاد میں سیول لائنز علاقوں میں ہر سال اس دن مکمل ہڑتال کی جاتی ہے۔ ہڑتال علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک اور دوسرے علیحدگی پسند لیڈروں کی اپیل پر کی گئی۔ ہڑتال کی وجہ سے سیول لائنز کے گاؤ کدل، مائسمہ، مدینہ چوک، ریڈ کراس روڑ، ایکسچینج روڑ، بڈشاہ چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، ککر بازار، حضوری باغ اور تاریخی لال چوک میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ تاہم سیول لائنز میں بیشتر روٹوں پر ٹریفک کی نقل وحمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہی۔ اس دوران لبریشن فرنٹ چیئرمین یاسین ملک جنہیں جمعہ کو حراست میں لیکر سینٹرل جیل سری نگر منتقل کیا گیا، کے گڑھ مانے جانے والے ’مائسمہ‘ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو بڈشاہ چوک، مدینہ چوک، گاؤ کدل اور ریڈکراس روڑ کی مقامات پر خاردار تار سے سیل رکھا گیا۔ اتوار کی صبح کسی بھی شہری کو اس علاقے میں داخل ہونے یا وہاں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ تاریخی لال چوک میں کسی بھی احتجاجی مظاہرے کی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات رکھی گئی تھی۔ سیول لائنز کے دسرے علاقوں میں بھی امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی اضافی نفری تعینات رکھی گئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ ریاستی پولیس نے سانحہ گاؤکدل کی برسی سے ایک روز قبل متعدد علیحدگی پسند لیڈروں کو حراست میں لیا۔ سبھی علیحدگی پسند جماعتوں نے سانحہ گاؤ کدل کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے عام شہریوں کی ہلاکت میں ملوث سیکورٹی فورسز کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انتظامیہ نے سانحہ گاؤ کدل کی برسی کے تناظر میں احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر سری نگر کے سات پولیس تھانوںمیں کرفیو جیسی پابندیوں کا نفاذ عمل میں لایا۔ سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’امن وامان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر شہر کے سات پولیس تھانوں بشمول خانیار، نوہٹہ، صفا کدل، ایم آر گنج ، رعناواری ، کرال کڈھ اور مائسمہ میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں ‘۔تاہم اس دعوے کے برخلاف پائین شہر کے ان علاقوں کی زمینی صورتحال بالکل مختلف نظر آئی۔ ان علاقوں میں پابندیوں کو سختی نافذ کرانے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں ریاستی پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کے اہلکار تعینات رہے۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے اتوار کی صبح پائین شہر کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ پابندی والے علاقوں میں تمام راستوں بشمول نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر چھتہ بل تک خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا۔ نالہ مار روڑ کے دونوں اطراف رہائش پذیر لوگوں نے نامہ نگار کو بتایا کہ انہیں اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات تھے جبکہ اس کے باب الداخلے کو مقفل کردیا گیا تھا۔ تاہم صفا کدل اور عیدگاہ کے راستے شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والی سڑکوں کو بیماروں اور تیمارداروں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا تھا۔ کشمیری علیحدگی پسند قیادت مسٹر گیلانی، میرواعظ اور یاسین ملک نے گذشتہ روز شہدائے گائوکدل، شہدائے ہندوارہ اور شہدائے کپوارہ کی برسیوں کے موقع پر 21، 25 اور 25 جنوری کو بالترتیب گائو کدل و ملحقہ علاقہ جات، ہندوراہ اور کپوراہ قصبوں میں مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی اپیل جاری کرتے ہوئے کہا تھا ’بھارتی فوجیوںنے 21 جنوری 1990ء میں اس وقت کشمیریوں کا قتل عام شروع کیا جب 21 جنوری کے روز عام شہریوں پر جو مظالم اور ناجائز تسلط کے خلاف احتجاج کررہے تھے پر بندوقوں کے دہانے کھول دیے گئے اور 50 سے زائد انسانوں کو پلک جھپکتے میں تہہ تیغ کیا گیا ۔ قتل عام کے اس سلسلے کو 25 اور 27 جنوری کے روزہندوارہ اور کپوارہ میں بھی جاری رکھا گیا جہاں فوجیوں نے سینکڑوں افراد کو گولیوں سے بھون ڈالا‘۔ یو این آئی