جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کا مکمل دفاع کیاجارہاہے : حق خان پنچایتی انتخابات کرانے کے فیصلہ پر قائم،آئندہ ماہ عمل شروع ہوگا، حزب اختلاف سے تعاون طلب کیا

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//دیہی ترقی، پنچایتی راج اور قانو ن وانصاف کے وزیر عبدالحق خان نے کہا ہے کہ حکومت ریاست کے خصوصی پوزیشن پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔ انہوں نے کہاکہ دفعہ370اور35-Aکے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے حکومت وعدہ بند ہے۔ انہوں نے کہاکہ دفعہ35-Aکا معاملہ عدالت عظمیٰ میں ہے جہاں پر ریاستی سرکار نے اس کے دفاع کے لئے ملک کے بہترین وکلاءکی خدمات حاصل کی ہیں۔ حق خان نے حزب اختلاف سے تعاون طلب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے پنچایتی چناو¿ آئندہ ماہ فروری سے شروع ہوگی۔دیہی ترقی، پنچایتی راج، حق اور انصاف محکمہ جات کے مطالباتِ زر پر ایوانِ زیریں میں ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے عبدالحق خان نے آئین ہند کی دفعات 35اے اور370 (جن کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی پوزیشن حاصل ہے)پر بات کرتے ہوئے کہاکہ حکومت ان معاملات پر پوری سنجیدگی سے کام کررہی ہے ،اس مقصد کیلئے ملک کے بہترین وکلاءکی خدمات حاصل کی گئی ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ ازخود انہوں نے ان وکلاءسے کئی کانفرنسیں کی ہیں ،عدالت عظمیٰ میں سماعت ہونے سے قبل وہ دہلی جاکر وکلاءکی ٹیم سے بات چیت کرتے ہیں ۔ریاستی حکومت ان معاملات پر پوری طرح سے کوشش کررہی ہے لیکن چونکہ یہ کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں اس لئے اس بارے میں مزید کچھ نہیں کہاجاسکتا۔محکمہ قانون وانصاف کی دیگر حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے حق خان نے بتایاکہ گذشتہ سال ہائی کورٹ میں11,285نئے مقدمات دائر ہوئے جبکہ ماتحت عدالتوں میں98,896مقدمات دائر کئے گئے ۔ اس دوران 9830مقدمات کا ہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ میں78,496مقدمات (دیوانی/فوجداری)کانپٹارا کیاگیا۔ وزیرموصوف نے بتایاکہ ہائی کورٹ میں اس وقت 62040اور ماتحت عدالتوں میں1لاکھ60ہزار154مقدمات زیر التوا(Pendancy)ہیں ۔انہوں نے بتایاکہ کوشش کی جارہی ہے کہ ہائی کورٹ میں ججوں کی تمام آسامیاں پر کی جائیں۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ سرکاری محکموں سے متعلق مقدمات عدالتوں میں نہ جائیں کے لئے اسپیشل سیکریٹروں کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جوکہ ان کیسوں کا جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے لاءکمیشن بھی بنادی گئی ہے تاکہ پرانے قوانین کو ختم کیاجاسکے اور ضرورت کے مطابق نئے قانون لائے جاسکیں۔ عدلیہ کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں ۔انہوںنے کہاکہ چار فاسٹ ٹریک اور 8 جونائل عدالتیں کھولی جارہی ہیں اوراب ہر ایک شخص اپنے موبائل پر کیس کی سماعت کی جانکاری حاصل کرسکتا ہے جس کیلئے پہلے اسے قطاروں میں کھڑا رہناپڑتاتھا۔انہوںنے کہاکہ اس عمل کو نچلے درجے تک لے جائیں گے۔عبدالحق نے کہاکہ ٹہ مالو میں جنوبی ایشیاءکا سب سے اچھا کورٹ بنایاگیاہے اور حکومت نے عدلیہ ملازموں کی پے کمیشن کی مانگ بھی پوری کی ہے ۔انہوںنے یقین دلایاکہ عدالتوں میں بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اور نئی عدالتوں کے قیام کی کوشش بھی کی جائے گی۔وزیر موصوف نے کہاکہ ریزرویشن کی بنیاد پر ترقی کے معاملے پر وہ ممبران کے ساتھ مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل اپنائیںگے ۔پنچایتی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے عبدالحق خان نے کہاکہ حکومت پنچایت الیکشن کرنے کیلئے وعدہ بند ہے اوربہت جلد الیکشن ہونے جارہے ہیں ۔انہوںنے اپوزیشن ممبران سے تعاون طلب کرتے ہوئے کہا”آپ سب کا ساتھ ہونا چاہیے اور الیکشن اسی سال کرائے جانے ہیں ،ہم سارے میں سٹریم سے وابستہ ہیں اس لئے سبھی کو الیکشن عمل میں ساتھ دیناچاہئے “۔وزیر موصوف نے کہاکہ اس حوالے سے ساری تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں ۔ان کاکہناتھاکہ الیکشن سے جہاں جمہوری ادارے بنیادی سطح پر مضبوط ہوںگے وہیں فنڈز کی واگزاری کا سلسلہ بھی نہیں رکے گا، انہوں نے کہاکہ ایسے بیانات نہ دیئے جائیں جس سے دوسرے کیمپ کو فائیدہ ملے بلکہ اس جمہوری عمل کے کامیاب انعقاد کے لئے ہر ممکن تعاون دیاجائے۔ محکمہ دیہی ترقی کی حصولیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہاکہ جیوٹیگنگ ، ای ایف ایم نظام ،محتسب ( Ombudsman) کی تقرری ، سوشل آڈٹ ادارے کا قیام ، ہر کام کا معہ تفصیل بورڈاور پنچایت سطح پر 7رجسٹروں کی شروعات ایسے اقدامات ہیں جن سے مہاتماگاندھی نریگا سکیم میں شفافیت آجائے گی ۔جیوٹیگنگ میں ریاست نے اہم اہداف طے کئے جس کے اعتراف میں اسے قومی سطح کے اعزاز سے نوازاگیا ۔مہاتماگاندھی نریگا میں پچھلے تین سال میں دو لاکھ 73 ہزار اثاثہ جات قائم ہوئے جس سے دیہی علاقوں میں روابط استوار ہوئے ہیں ۔انہوںنے واضح کیاکہ حفاظتی باندھ بنانے پر پابندی نہیں ہے اور ضرورت کے مطابق اس کی تعمیر کی جائے گی ۔وزیر موصوف نے اعلان کیاکہ امسال مہاتماگاندھی نرگا اور آئی ڈبلیو ایم پی کے تحت پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک ترجیحی بنیادوں پر تعمیر کئے جائیںگے جن کیلئے رقومات بھی دستیاب ہیں تاکہ پانی کی کمی کو پورا کیاجاسکے ۔وزیر موصوف نے کہاکہ وہ سکیموں کی عمل آوری اور کامو ں کا جائزہ لینے کیلئے ریاست کے ہر ایک بلاک کا خود دورہ کرچکے ہیں ۔ممبران کی طرف سے ایس ای سی سی سروے کو از سر نو کرنے کے جواب میں انہوںنے کہاکہ ریاستی حکومت اس لسٹ میں کوئی تبدیلی تو نہیں کرسکتی البتہ مرکز کو سفارش کرسکتی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے سفارشات بھیجی ہیں ۔امید سکیم پر بولتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سکیم کے ساتھ دو لاکھ سے زائد خواتین جڑی ہیں اور اس کی بہتیرن عمل آوری پر ریاست کو قومی سطح پر اعزاز ملاہے۔انہوںنے کہاکہ اس سے جہاں خواتین خود کفیل بن رہی ہیں وہیں روزگار کے اسباب بھی پیدا ہورہے ہیں ۔انہوںنے حمایت کو ایک بڑا پروگرام قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس کے تحت 1لاکھ 24ہزار طلباءکو تربیت دی جانی ہے اور وہ ممبران سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھی اپنے اپنے حلقوںسے طلباءبھیجیں ۔مطالباتِ زر پر بحث میں22اراکین نے حصہ لیا۔ وزیر موصوف کی یقین دہانی پرمحمد یوسف تاریگامی، غلام محمد سروڑی، نوانگ ریگزن جورا، اعجاز احمد خان، آغا سعید روح اللہ ، جاویداحمد رانا، وقار رسوال وانی، عثمان مجید، انجینئر رشید، محمد امین بٹ، عبدالمجید لارمی، الطاف احمد وانی وغیرہ نے ’تحاریک تخفیف(Cut Motions)واپس لئے جس پرمطالباتِ زر پاس ہوگئے۔