جموں صوبہ سے ‘مسلم ‘ہائی کورٹ کا جج کیوں نہیں بن سکتا…؟ اسمبلی میں وقار رسول وانی اور چوہدری قمرحسین کا حکومت سے سوال

الطاف حسین جنجوعہ
جموں //صوبہ جموں کے مسلم طبقہ سے کسی کو ہائی کورٹ کا جج نہ بنائے جانے کا معاملہ جمعرات کو قانون ساز اسمبلی میں حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے ممبران نے اٹھاتے ہوئے حکومت سے سوال کیاکہ ’’کیاوجہ ہے کہ جموں صوبہ سے مسلم ہائی کورٹ کا جج نہیں بن سکتا۔ قانون وانصاف محکمہ کے مطالباتِ زر پر بحث کے دوران رکن اسمبلی بانہال وقار رسول وانی نے کہاکہ صوبہ جموں میں مجموعی طور40فیصد سے زائد آبادی مسلمانوں کی ہے لیکن آج تک کوئی مسلم کو ہائی کورٹ کا جج نہیں بنایاگیا۔ یہ اس طبقہ کے ساتھ بہت بڑی نا انصافی ہے۔ طبقہ کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے حکومت کو اس پر غور کرنا چاہئے۔مسلم طبقہ میں بھی ہائی کورٹ کا جج بننے کے لئے لوگ اہلیت رکھتے ہیں لیکن انہیں موقع نہیں ملتا۔ایم ایل اے راجوری قمر چوہدری نے خطہ پیر پنچال اور چناب کو نظر انداز کرنے کاالزام لگایا۔ انہوں نے کہاکہ جموں،کٹھوعہ اور اودھم پور سے ہی صرف جج تعینات کئے جاتے ہیں ، پیر پنچال اور چناب کو نظر انداز کیاجارہاہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم طبقہ میں بہت سارے قابل ترین وکلاء ہیں جوکہ ہائی کورٹ جج بننے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن انہیں کبھی موقع نہیں ملتا، اسی طرح بہت سارے مسلم جج بھی ترقی پاکر ہائی کورٹ کا جج بن سکتے ہیں لیکن انہیں نظر انداز کیاجارہاہے۔انہوں نے حکومت سے سوال کیاکہ اس بات کی وضاحت کی جانی چاہئے کہ ہائیکورٹ میں ججوں کی تعیناتی جموں ،کٹھوعہ اور سانبہ تک ہی محدود کیوں ہے اور کیوں جموں خطہ سے کوئی مسلمان جج کیوں نہیں بن سکتا…؟ ۔