مارشلوں کی مبینہ مارپیٹ سے انجینئر رشید زخمی ’ایوان مجھے قبرستان اور شمشان گھاٹ سے بھی زیادہ خوفناک لگتا ہے‘ اسمبلی کارروائی کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//قانون سازیہ کے ایوان زیریں میںمنگل کو ایک غیرمعمولی واقعہ پیش آیا جس دوران ڈپٹی اسپیکر کی ہدایت پر ’ایوان بدر‘کرنے کے دوران مارشلوں نے آزاد رکن اسمبلی انجینئر رشید کی مارپیٹ کی جس سے وہ زخمی ہوگئے۔جس وقت مارشلوں نے گھسیٹ کر انجینئر رشید کو ایوان سے باہر لایا ، اس وقت اسمبلی کے ووٹینگ ہال میں موجود عام شہری نے انجینئر رشید کو گالیاں بھی نکالیں۔رشید نے اسمبلی کی کارروائی سے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اسمبلی ہال کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا وہ تب تک اسمبلی کی کاروائی کا مکمل بائیکاٹ کریں گے جب تک نہ اس سارے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے ۔ انجینئر رشید نے بتایاکہ وزیر خزانہ کی بجٹ پر جاری بحث کے دوران ا نہوں نے چور درازوے سے کی جارہی تقرریوں کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے حکومت سے کہاکہ اس عمل کو بند کرو¿، نیشنل کانفرنس والے اقتدار میں ہوتے ہیں، وہ چور درازوے سے تعیناتیاں کرتے ہیں، آپ (پی ڈی پی۔ بی جے پی)اقتدار میں آئے آپ نے ایس پی اوز کے نام پر چور درازو ے سے تعیناتیاں عمل میں لائیں۔ انجینئر رشید نے کہا”میں نے اکبر لون ، جنہوں نے کل بجٹ پر اپنی تقریر میں چور درازے سے تقرریوں کا ذکر کیا، نے بھی جب اسمبلی اسپیکر تھے، نے 80افراد کو تعینات کیا، اس پر اکبرن لون برہم ہوگئے اور ماں بہن کی گالیاں مجھے دیں، موقع غنیمت سمجھتے ہوئے پی ڈی پی ۔ بی جے پی والے بھی ان پر برس پڑے، ڈپٹی اسپیکر نے ’تارا مسیحی‘کا رول نبھاتے ہوئے مجھے ’ایوان بدر‘کرنے کا حکم دیا“۔ انہوں نے کہاکہ یہاں اسمبلی میں مارشلوں کی صورت میں گنڈے پال رکھے ہیں، انہیں باہر نکالتے وقت مارشلوں نے لاتیں، گھونسے مارے، مجھے پر پانی پھینکا، کسی سویلین نے مجھے گالی دی، یہ کیا ہورہاہے، یہاں سچائی بولو تو یہ حالت ہوتی ہے۔ انہوں نے ریاست بھر کے نوجوانوں کی حق تلفی کی بات کی تھی، کوئی جرم نہیں کیاتھا۔ انہوں نے کہا”میں دس سال سے ایم ایل اے ہوں ، میں نے کبھی ناشائستہ الفاظ استعمال نہیں کیا، نہ ہی ایسی کوئی بات کی جس سے کسی کو ذک پہنچی ہو، میں تو اپنے جمہوری حق کا استعمال کر کے سچ کی بات یہاں رکھتا ہوں لیکن مجھ پر ہی ظلم کیاجاتاہے۔انہوں نے کہاکہ اسمبلی مجھے اب قبرستان اور شمشان گھاٹ سے بھی زیادہ خوفناک لگتا ہے ، یہاں بے گناہوں کا خون ہوتا ہے، یہ قتل کی سازشیں ہوتی ہیں، میں اب اسمبلی کے اندر تب تلک نہیں جاو¿ں گا جب تک اس سارے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات نہیں ہوتی اور ملزم کو سزا نہیں ملتی۔مارشلوں کے اس غیر جمہوری اور غیر آئینی رویہ سے انہیں بہت ٹھیس پہنچی ہے، یہ لنگیٹ کے لاکھوں رائے دہندگان کی تزلیل ہے جن کی میں یہاں نمائندگی کرتا ہوں۔رشید نے کہا ”2008سے اب تک چور دروازے سے بھرتیوں کے خلاف آواز اٹھائی ، تو دونوں اطراف کے ممبران نے مجھ سے گرم گفتاری کی اور محمد اکبر لون گالی گلوچ پر اتر آئے۔ سوالات کا کوئی جواب نہ دینے پر مجھے ڈپٹی اسپیکر نے مارشلوں کے ذریعے انجینئر رشید کو باہر نکلوایا جنہوں نے تمام اخلاقی اور آئینی حدیں عبور کرکے مجھے پر گھونسوں کی بارش کر کے مجھے زخمی کر دیا“۔ اس سے قبل بجٹ پر تقریر کے دوران انجینئر رشید نے قانون ساز کونسل کو فوری طور ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد ایوان بالا کی کوئی اخلاقی برتری نہیں ہے اور اسکا مقصد اسکے سوا کچھ نہیں رہا ہے کہ اس میں الیکشن میں شکست کھانے والے کچھ منظور نظر لوگوں کو پناہ دیکر عیش کی زندگی کا موقعہ دیا جائے۔انہوں نے سرکار کی جانب سے وائس چیرمین کے نام پر بے شمار آئینی عہدے قائم کرنے کی مذاحمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے میں نہ صرف سسٹم کے اندر سسٹم کھڑا ہوا ہے بلکہ اس سے سرکاری خزانے پر بے مطلب کا اور نا قابل برداشت بوجھ پڑ گیا ہے۔انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سرکار نے گریز،کپوارہ،چناب ویلی اور پیر پنچال جیسے دور دراز علاقوں کو بری طرح نظر انداز کیا ہے جوکہ انتہائی مذموم عمل ہے جس سے بچنے کیلئے فنڈنگ کے مروجہ طریقے میں تبدیلی لائی جانی چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ کرناہ،کارے،بور اور سرحدی علاقوں کے ان دیگر مہاجرین کے حق میں مالی پیکیج واگذار کیا جانا چاہے ک لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔نئی دلی کی جانب سے جموں کشمیر کو دل کھول کر مالی امداد دئے جانے کو محض ایک مفروضہ قرار دیتے ہوئے انجینئر رشید نے کہا کہ دراصل جموں کشمیر کو ایک بھکاری ریاست کی طرح لیاجاتا رہا ہے اور دلی والے ہمیں اس سے بڑھکر نہیں سمجھتے ہیں۔انہوں نے تاہم کہا کہ نئی دلی کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے کہ جموں کشمیر لاکھوں بھارتی فوجیوں اور پیرا ملٹری فورسز کو روزگار فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایوان کو یہ حقیقت یاد کرائی کہ نئی دلی ریاست پر کوئی احسان نہیں کرتی ہے کیونکہ اس نے یہاں کے ذرائع لوٹے ہیں یہاں تک کہ بقیہ ہندوستان کے مفاد میں اس نے ریاست کا پانی تک پاکستان کو بیچ دیا ہے۔انہوں نے ریاستی وزراءکو سفید ہاتھی قرار دیتے ہوئے انکے اخراجات میں کمی کئے جانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جوابدہی کے بغیر کتنے ہی مالی پیکیج حاصل کیوں نہ کئے جائیں ان سے کچھ بھی حاصؒ نہیں کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں نام نہاد وی آئی پی کلچر کو ختم کئے جانے تک زمینی سطح تک جمہوریت کے فوائد پہنچانے کا خواب تک نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔