حزب ِ اختلاف کا کونسل کی کارروائی کا بائیکاٹ قانون سازیہ کے باہر دھرنا دیا، چیئرمین سے معافی مانگنے کا مطالبہ

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//قانون ساز کونسل میں منگل کو دوسرے دن بھی حزب اختلاف ممبران نے ’سجاد کچلو کو ایوان بدر‘دن بھر ایوان کی کارروائی سے بائیکاٹ کر کے اسمبلی کے سینٹرل گیٹ کے باہر دھرنا دیا۔احتجاج میں نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ممبران غلام نبی مونگا، علی محمد ڈار، سجاد کچلو، قیصر جمشید لون، شوکت گنائی، رانی گارگی بلوریہ، شام لال بھگت، ٹھاکر بلبیر سنگھ وغیرہ شامل تھے۔ انہوں نے ’پی ڈی پی چیئرمین ہائے ہائے، بی جے پی چیئرمین ہائے ہائے، مارشل چیئرمین ہائے ہائے۔ غیر جمہوری چیئرمین ہا ئے ہائے‘کے نعرے لگائے۔کچلو نے کہاکہ وہ جائز مانگ پر ہاو¿س کمیٹی کا مطالبہ کر رہے تھے، جنہیں مارشل آو¿ٹ کیاگیا۔ انہوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے مانگ کی قانون ساز کونسل کے چیئرمین اپنے رویہ پر معافی مانگیں ۔غلام نبی مونگا نے کہا کہ اگر سرکار چاہتی ہے کہ قانون ساز کونسل کے اپوزیشن اراکین واپس ایوان میں داخل ہو ،تو سجاد احمد کچلو کو ایوان بدر کرنے پر کونسل کے چیئرمین کو معذرت کرنی ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ سجاد احمد کچلو سرکار سے وضاحت چاہتے تھے ،اس پر اُنہیں مارشل آؤٹ یا ایوان بدر نہیں کیا جاسکتا ہے ،یہ پارلیمانی اداب کے منافی ہے ۔یاد رہے کہ پیر کے روز کشتواڑ میں پن بجلی پروجیکٹوں سے متعلق سوال پر وزیر مملکت آسیہ نقاش کے جواب سے مطمئن نہ ہوکر کچلو نے ہاو¿س کمیٹی کے قیام کا مطالبہ کیاتھا۔ و ہ احتجاج کے طور چاہِ ایوان میں بھی گئے جس پرچیئرمین نے انہیںمارشل آو¿ٹ کرنے کا حکم دیاتھا۔ادھر وقفہ سوال کے دوران ایم ا یل سی فردوس ٹاک نے یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے چیئرمین سے کہاکہ اپوزیشن ممبران کوواپس لایاجائے۔ حزب اختلاف کی عدم موجودگی میں وقفہ سوال چلا، اس کے بعد چیئرمین نے کہاکہ وہ پانچ منٹ کے لئے ایوان کی کارروائی ملتوی کرتے ہیں، حکومت اپوزیشن ممبران کو منوا کر واپس لائے۔ اس دوران بارہاکوشش کی گئی لیکن اپوزیشن ممبران معافی کے مطالبہ پر بضد رہے۔ناکام کوشش کے بعدپھر50منٹ کی تاخیر سے 12:50پر دوبارہ کونسل کی کارروائی شروع ہوئی۔