بھارت ، پاک ’اینٹ کا جواب پتھر ‘ کی پا لیسی ترک کریں پاکستان ایفائے عہد کرے مسائل حل کرنے کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنا نا چاہئے : محبوبہ مفتی

اُڑان نیوز
ریاسی // وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پاکستان سے ایفا ئے عہد کرنے کی تلقین کرتے ہوئے اس وعدے کی یاددلائی جو سابق صدر پرویز مشرف نے وزیر اعظم واجپائی کے ساتھ کیا تھااور جس کا مقصدسرحدوں پر پُرامن فضا قائم رکھنا تھا تاکہ ریاست میں جاری کشت و خون کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین جاری تصادم کا خمیازہ ریاستی عوام کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے سربراہوں کو’ ’اینٹ کا جواب پتھر سے دینے‘ ‘کی پالیسی ترک کرکے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔ اتوار کو یہاں پولیس ٹریننگ سینٹر تلواڑہ میں زیر تربیت پولیس ریکروٹس کی پاسنگ آوٹ پریڈکا معائنہ کرنے کے بعد ا پنے خطاب میں انہوں نے کہا ’’ بہت سارے مسئلے ہیں لیکن ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ٹکراؤ ہے۔ طرفین کے مابین تصادم ہے۔ دونوں کہتے ہیں کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ اینٹ کیا ہوتی ہے اور اس کا جواب پتھر کیا ہوتا ہے۔ مجھے یہ معلوم ہے کہ کل گولی چلی اور ہماری فوج کا ایک اہلکار شہید ہوگیا۔ کچھ دن پہلے فدائین حملہ ہوا۔ کچھ دن پہلے آئی ای ڈی دھماکہ ہوا۔ کچھ دن پہلے ایک تصادم کے دوران ایک شیرخوار بچی کی ماں جاں بحق ہوئی‘‘۔انہوں نے کہا ’’کل پارمپورہ میں ناکہ تھا ، کوئی گاڑی رکی نہیں، گولی چلانی پڑی تو دو لوگ زخمی ہوئے‘‘۔ محبوبہ مفتی نے جنگجوئوں کی دراندازی کو ایک چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ’’ دراندازی جو ہوتی ہے اور باہر سے جو جنگجو آتے ہیں، یہ ہمارے لئے چیلنجز ہیں۔ یہ چیلنج پچھلے 70 برسوں سے ایک طرف سے تھا اور پچھلے تیس برس سے اس نے بندوق کی شکل اختیار کی ہے۔ میرا یہ ماننا ہے، جیسے سابق وزیر اعظم باجپئی جی بار بار کہتے تھے کہ ہم اپنے دوست بدل سکتے ہیں، لیکن ہمسایہ نہیں۔سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کے ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں۔ ہماری عوام مصیبت میں پھنسی ہوئی ہے۔ امن قائم کرنے میں بہتسارے مشکلات ہیں۔ امن نہیں ہوگا تو ترقی کیسے ہوگی‘‘۔ انہوں نے دونوں ممالک سے اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی پالیسی ترک کرنے کی اپیل کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ جو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی روایت چلی آئی ہے، اس کو دونوں طرف سے بند کیا جائے گا۔دریں اثنا وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’’تلواڑہ ریاسی جموں میں پولیس پاسنگ آوٹ پریڈ کا معائنہ کیا۔ میں تربیت حاصل کرکے جارہے پولیس اہلکاروں کے لئے نیک نیک خواہشات کا اطہار کرتی ہوں۔ امید ہے کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران محنت، ایمانداری اور انسانی جذبہ کا مظاہرہ کریں گے‘‘۔انہوں نے کہا کہ واجپائی جی پاکستان گئے تھے اور وہاں جنرل پرویز مشرف نے ان سے یہ وعدہ کیا تھا کہ جموں وکشمیر کے اندر جنگجو نہیں بھیجیں گے اور پاکستان کی سرزمین کو ہندوستان کے خلاف استعمال نہیں کریں گے۔ مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ دس برسوں تک ہماری سرحدوں پر سیز فائر رہا، امن رہا اور راستے کھل گئے‘۔ وزیر اعلیٰ نے سرحدی رہائشیوں کے لئے بنائے جانے والے بنکروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’آج سرحدوں میں رہائش پذیر ہمارے لوگ دربدر ہیں۔ آج ہم بنکر بنانے کی بات کرتے ہیں۔ گویا ہم سرحدی رہائشیوں کو کوئی بڑا انعام دے رہے ہیں۔ ارے یہ وقت تو سرحدی رہائشیوں کو اچھے اسپتال فراہم کرنے کا ہے۔ اچھے اسکول دینے کا ہے، اچھی تعلیم دینے کا ہے۔ اچھے کالج دینے کا ہے۔ روزگار کے اچھے مواقع فراہم کرنے کا ہے۔ ہم پیچھے اس زمانے کی طرف جارہے ہیں جب انسان غاروں میں رہتے تھے‘۔