میاں الطاف احمد نے اسمبلی میں حکومت کو گھیرا کہا’خداراہ غریب لوگوں کو مت پریشان کرؤ، ان کی ہائے لگے گی‘

اڑان نیوز
جموں//رکن اسمبلی کنگن میاں الطاف احمد نے غریب افراد کو مکانات کی مرمت کے لئے سی ڈی ایف سے منظور رقم واگذار نہ کرنے پر ایوان زیریں میں حکومت کو گھیرا۔ میاں الطاف نے کہاکہ انہوں نے چند مستفیدین کو مکانات اپ گریشن کے لئے اپنے سی ڈی ایف سے پیسے دیئے، ڈپٹی کمشنر گاندربل کو چھٹی لکھی جنہوں نے آگے اے سی ڈی کو لکھا، مگر دو ماہ گذر جانے کے باوجود آج تک انہیں پیسے نہیںملے۔ میاں الطاف احمد نے کہا’’ لگاتار یہ غریب لوگ میرے گھر، ڈی سی دفتر، اے سی ڈی دفتر چک لگارہے ہیں لیکن کوئی سنوئی نہیں ہوتی، صوبائی کمشنر کشمیر یا پھر کمشنر سیکریٹری دیہی ترقی کی سربراہی والی انکوائری کمیٹی بٹھائی جائے اور پتہ لگایاجائے کہ ایسا کیوں نہیں ہورہا‘‘انہوں نے وزیر دیہی ترقی سے کہا’’خدا راہ غریب لوگوں کو مت پریشان کرؤ۔ ان کی ہائے لگے گی‘‘۔ حق خان نے دعویٰ کیاکہ ریاستی کے سبھی علاقوں میں آئی اے وائی کے تحت لوگوں کو پیسے دیئے گئے ہیں، کہیں بھی ایسا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا لیکن میاں الطاف نے کہاکہ ان کے حلقہ میں ایسا نہیں کیا، ان کے ساتھ نا انصافی کیوں ۔ عبدالحق خان نے میاں الطاف احمد کو بارہاجواب سے مطمئن کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے۔ میاں الطاف نے کہاکہ اگر میں غلط ہوا تو میں ایوان کے اندر معافی مانگوں گا، اگر میں سچ ہوں تو افسران کے خلاف کارروائی ہوکہ کیوں غریب لوگوں کو پریشان کیاجارہاہے۔بشارت بخاری، عبدالرحمن ویری نے بھی بیچ مداخلت کی لیکن باوجود اس کے میاں الطاف کو تسلی بخش جواب نہ ملا۔ میاں الطاف نے اس معاملہ پر پوری حکومت کو گھیرا جس سے ایوان کے اندر غیر معمولی صورتحال دیکھنے کو ملی۔ دیہی ترقی و پنچائتی راج کے وزیر عبدالحق خان نے قانون ساز اسمبلی میں کہا کہ حکومت نے ارکانِ اسمبلی کو اپنے سی ڈی ایف میں سے 20 لاکھ روپے رواں مالی سال کے دوران آئی اے وائی کی طرز پر بی پی ایل مکانات تعمیر کرنے کی بقایاجات کلیئر کرنے کے لئے اختیارات دینے سے متعلق ایک حکمنامہ جاری کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس حکمنامے کی رو سے اگر آئی اے وائی کی کوئی واجب الادائیگی نہیں ہے تو ارکان سی ڈی ایف فنڈ میں سے مالی سال 2017-18کے دوران زیادہ سے زیادہ 20لاکھ روپے اس سکیم کے رہنما خطوط کے مطابق صرف کرسکتے ہیں۔وزیر موصوف میاں الطاف کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔اس دوران اس معاملے پر چودھری محمد اکرم ، حکیم محمد یاسین ، یاور دلاور میر اور جی ایم سروری نے بھی ضمنات ابھارے ۔