210

اینٹی بایوٹکس ادویات کے ساتھ شراب پی سکتے ہیں یا نہیں؟

بہت سی جگہ لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ اگر وہ اینٹی بایوٹکس دوائیں لے رہے ہیں تو کیا وہ شراب پی سکتے ہیں یا نہیں۔
بہت سی حاملہ خواتین جو اپنے حمل کو چھپانا چاہتی ہیں وہ بھی شراب نہ پینے کے لیے اینٹی بایوٹکس کو عذر بناتی ہیں۔لیکن کیا یہ عذر واقعی درست ہے؟بہت سے افراد یہ تسلیم کرتے ہیں کہ شراب پینے سے اینٹی بایوٹکس مناسب طور پر اپنا اثر نہیں دکھاتیں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ اینٹی بایوٹکس کے ساتھ شراب پی جائے تو اس کے برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔لندن کے جینی ٹورنری کلینک نے اس سلسلے میں 300 سے زیادہ افراد کا سروے کیا۔81 فیصد کا خیال ہے کہ شراب پینے والوں پر اینٹی بایوٹکس بہت مؤثر نہیں ہوتیں جبکہ 71 فیصد افراد کا خیال تھا کہ اینٹی بایوٹکس کے ساتھ شراب پینے کے سائیڈ ایفکٹس ہوتے ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر اینٹی بایوٹکس کے بارے میں ان میں سے دونوں تصورات بالکل غلط ہیں۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ یہ غلط تصوارت لوگوں کو شراب پینے سے بچاتے ہیں۔ لہذا وہ اس غلط فہمی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تاکہ مریض اپنی دوائیں وقت پر لیتے رہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سب سے زیادہ اینٹی بایوٹکس پر الکحل کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے۔ بہرحال بعض اینٹی بایوٹکٹس ایسے ہیں جن کے ساتھ شراب نہیں پینا ہی بہتر ہے۔اگر سیفالوسپورن سیفوٹیٹان دوا کے ساتھ شراب پیتے ہیں تو اس کے جسم پر مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ان دونوں کے ملنے سے اسیٹلڈیہائڈ نامی کیمیائی مادہ بنتا ہے جس کی وجہ سے سر چکرانے، متلی، قے ہونے، سر درد، چہرے کا رنگ بدلنے سانس پھولنے اور سینے میں درد کی شکایتیں ہو سکتی ہیں۔اسی طرح کی علامات اس وقت ظاہر ہوسکتی ہیں جب آپ ڈائیسلفیرم نامی دوا لیتے ہیں۔ اس دوا کو شراب کی لت سے نجات دلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی مریض شراب پیے تو اسے برا محسوس ہو اور وہ شراب سے دور رہے۔بہت ساری اینٹی بایوٹکس کے ساتھ شراب نہ پینا ہی بہتر ہے۔ ان میں ٹینیڈازول، لائنیزلڈ اور ایریتھرومائسن جیسی ادویات شامل ہیں اور ڈاکٹروں اس کے ساتھ شراب سے پرہیز تجویز کرتے ہیں۔بہت سے اینٹی بایوٹکس کے ساتھ شراب نوشی میں کوئی نقصان نہیں اور ان کی فہرست لمبی ہے۔تاہم شراب نوشی بیماری سے چھٹکارا حاصل کرنے میں تاخیر کا باعث ہوتی ہے کیونکہ شراب کے بعد آپ تھکن اور پیاس محسوس کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں