یمن میں 80لاکھ سے زائد افراد بھوک مری کے شکار

اقوام متحدہ //اقوام متحدہ کے انسان دوستانہ امور کے کوآرڈینیٹر جیمی میک گولڈریک نے ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ یمن کی صورتحال انتہائی ابتر ہو گئی ہے اور چوراسی لاکھ افراد قحط اور بھوک مری کے خطرے سے دوچار ہیں۔اقوام متحدہ کے انسان دوستانہ امور کے کوآرڈینیٹر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یمن کا ہر طرف سے محاصرہ ہو جانے کے نتیجے میں ایندھن، غذائی اشیا، دواؤں اور دیگر بنیادی ضرورتوں کی چیزیں تقریبا ختم ہو رہی ہیں اور ایسے لوگوں کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جنھیں فوری طور پر انسان دوستانہ امداد کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسف کے علاقائی امور کے ڈائریکٹر نے بھی اس سے پہلے کہا تھا کہ گیارہ ملین سے زیادہ یمنی بچوں کو فوری طور پرانسان دوستانہ امداد کی ضرورت ہے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنٹونیو گوترش نے بھی پیر کو سی این این سے گفتگو کے دوران کہا تھا کہ یمن پر سعودی عرب کی جنگ حماقت آمیز ہے۔یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں میں، جو مارچ دو ہزار پندرہ سے جاری ہیں، اب تک دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہو چکے ہیں جبکہ اس ملک کی اسّی فیصد سے زائد بنیادی تنصیات تباہ ہو گئی ہیں اور محاصرے کے سبب ملک میں وبائی امراض اور ہیضہ، تیزی کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے-اعداد وشمار کے مطابق یمن میں ہر دس منٹ میں ایک بچہ غذائی قلت اور بیماری کی وجہ سے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے-