بیت المقدس فلسطین کا ابدی دارالحکومت ہے: سید حسن نصراللہ

ضیاحیہ //حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ بیت المقدس کے بارے میں اپنے فیصلے کا اعلان کر کے امریکی صدر ٹرمپ عالمی سطح پر تنہا پڑ گئے اور صرف صیہونی حکومت ہی ان کی حامی ہے۔حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں بیت المقدس کی حمایت میں ہونے والی ایک بڑی ریلی کے اختتام پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ عرب اور اسلامی اقوام کو جان لینا چاہئے کہ غاصبوں کے مقابلے میں مقبوضہ بیت المقدس کی حمایت میں ان کے مظاہرے اور اجتماعات بہت ہی اہم اور فیصلہ کن ہیں کیونکہ اس طرح کے احتجاجی مظاہروں کا مطلب صیہونی غاصبوں اور بیت المقدس کے بارے میں امریکی فیصلے کے مقابلے میں اٹھ کھڑا ہونا ہے-حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے بحرینی وفد کے دورہ اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ وفد بحرینی عوام کی نمائندگی نہیں کرتا-ان کا کہنا تھا کہ بحرینی حکومت فلسطین کی حمایت میں بحرینی عوام کے مظاہروں کو کچلتی ہے لیکن اسی وقت صیہونی دشمن کے ساتھ سازباز کرنے کے لئے انتہائی ذلت آمیز طریقے سے ایک وفد اسرائیل بھیجتی ہے اور یہ بحرینی حکومت کی ایک بڑی ذلت و رسوائی ہے-سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ٹرمپ کے فیصلے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ امریکا دہشت گردی کا حامی ہے اور امریکہ نے ہی داعش کو تشکیل دیا ہے-حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ صیہونی حکومت پر عوامی حلقوں کی جانب سے دباؤ ڈالا جائے اور حکومتیں اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات منقطع کر کے اس غاصب حکومت کو الگ تھلگ کر دیں-انہوں نے ایک متحدہ اسٹریٹیجی کے تعین کے لئے استقامتی محاذ کے اتحاد اور یکجہتی پر زور دیا اور کہا کہ ٹرمپ کے اقدام کا سب سے بہتر جواب تمام فلسطینی علاقوں میں انتفاضہ سوم کا شروع کیا جانا ہے-حزب اللہ کے سربراہ نے ایک بار پھر کہا کہ بیت المقدس فلسطین کا ابدی دارالحکومت ہے اور ہم اس سے دستبردار نہیں ہو سکتے اور اگر فلسطینی عوام اپنے اوپر پڑنے والے دباؤ اور ڈکٹیٹیش کا مقابلہ اور مخالفت کا اعلان کر کے بیت المقدس کو فلسطین کا ابدی دارالحکومت باقی رکھنے پر ڈٹ جائیں تو کوئی بھی انہیں ان کی سرزمینوں سے الگ نہیں کر سکتا-واضح رہے کہ لبنان کے دسیوں ہزار شہریوں نے ملک کے مختلف علاقوں سے بیروت کے علاقے ضاحیہ پہنچ کر اس بڑے مظاہرے میں شرکت کی جس کی اپیل حزب اللہ کے سید حسن نصراللہ نے دی تھی- مظاہرے کے دوران امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔مظاہرے کے شرکا کا کہنا تھا کہ بیت المقدس فلسطین کا ابدی دارالحکومت ہے- مظاہرین فلسطین کی آزادی اور بیت المقدس کی مکمل بازیابی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ مظاہرین نے امریکا اور صیہونی حکومت کے خلاف نعرے لگا کر ٹرمپ کا پتلا اور صیہونی حکومت کا پرچم بھی نذر آتش کیا- مظاہرین نے لبنانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکی سفیر کو ملک سے نکال دے-مظاہرین نعرے لگارہے تھے کہ ہم بیت المقدس کے لئے اپنی جان قربان کر دیں گے اور اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ صیہونی حکومت اس پر قبضہ کرے-