وزیر اعلیٰ کے4327 نوجوانوں کے خلاف کیس واپس لینے کے احکامات گزشتہ سال634 اشخاص کے خلاف کیس واپس لئے گئے تھے

جموں// وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے4327 نوجوانوں جو744 کیسوں میں ملوث پائے گئے ہیں، کے خلاف کیسوں کو واپس لینے کو منظوری دی ہے۔ یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی جس کی سربراہی ڈائریکٹر جنرل پولیس کر رہے ہیں، کی سفارشات کی روشنی میں لیا گیا۔محبوبہ مفتی نے2008 سے2014 تک نوجوانوں کے خلاف کیسوں پر جائیزہ لینے کے عمل کو پھر سے شروع کیا ہے اور حکومت سنبھالنے کے دو ماہ کے اندر534 نوجوانوں کے خلاف کیسوں کو واپس لیا گیا تھا، جن کے خلاف 401 معاملات درج کئے گئے تھے۔ یہ عمل بدقسمتی سے پچھلے سال کے نامساعد حالات کے پیش نظر روک دیا گیا تھا۔اس طرح سے جن کیسوں کو واپس لیا گیا ہے، کی تعداد848 ہوگئی ہے اور4957 نوجوان اس عمل سے مستفید ہوئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے حال ہی میں2015-17 تک درج کئے گئے کیسوں کا جائیزہ لینے کی ہدایت دی ہے اور ہائی پاورڈ کمیٹی کی طرف سے رپورٹ آنے پر فیصلہ لیا جائے گا۔نوجوانوں کے خلاف کیسوں کو واپس لینے کا مطالبہ سماج کے کئی سیکشنوں سے برآمد ہورہے تھے اور ایسا کرنے سے بہت سارے لوگوں کو راحت کی سانس لینے کا موقعہ ملا ہوگا۔وزیر اعلیٰ نے آج کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور نوجوانوں کو اپنی زندگی کو بہتر بنانے کا موقعہ فراہم کرنے کی اُمید ظاہر کی ہے۔