نیوز ڈیسک نئی دہلی //پاکستان پر جنگجوﺅں کی دراندازی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے سرحدی حفاظتی فورس یعنی بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما نے کہا ہے کہ دراندازی کے راستوں کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور بی ایس ایف مستقبل میں کسی بھی قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کےلئے تیار ہے۔ نئی دلی میں سالانہ پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان کی طرف سے جنگجوﺅں کی دراندازی کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔اس ضمن میں ان کا کہنا تھا”پاکستان دراندازی کی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہے، ہم اس کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے“۔ان کا کہنا تھا کہ سرحدی حفاظتی فورس دراندازی پر قابو پانے کے حوالے سے ہمیشہ پیش پیش رہی ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ڈی جی بی ایس ایف نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا” ہم نے ان (دراندازوں) کے راستوں کی نشاندہی کرلی ہے اور ہم مستقبل میں کسی بھی قسم کی صورتحال کا مقابلہ کرنے کےلئے تیار ہیں“۔انہوں نے کہا کہ بار بار احتجاج درج کرنے کے باوجود پاکستانی فوج کی طرف سے لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحدوں پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔کے کے شرما نے بتایا کہ پاکستانی رینجرس کے ساتھ رواں ماہ کے اوائل میں بی ایس ایف کی سالانہ میٹنگ انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی جس دوران فریقین نے مختلف معاملات ایک دوسرے کے سامنے رکھے۔ان کا کہنا تھا”ہم نے میٹنگ کے دوران دراندازی اور جنگ بندی کی خلاف ورزی کا معاملہ بھی اٹھایا لیکن یہ سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔

نیوز ڈیسک
اسلام آباد // ممبئی حملہ کیس میں سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش ہو ئیں۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے کیس کی سماعت کی۔ تہمینہ جنجوعہ نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ امید ہے جلد بھارتی گواہوں سے متعلق پیش رفت ہوگی۔سماعت میں ٹھٹھہ سے تعلق رکھنے والے پٹواری عبدالصمد نے اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے بتایا کہ ملزم ریاض اور اسد اللہ کی علی نواز شاہ گاوں میں جائیداد تھی، لیکن بینظیر کی شہادت کے بعد مظاہروں میں اراضی کاریکارڈ جل گیا۔ عدالت نے امریکہ میں مقیم گواہ نذر الشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے اور انتقال کر جانے والے دو گواہوں سے متعلق ڈائریکٹر ایف آئی اے سے جواب طلب کرلیا۔ کیس کی سماعت چھ دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔15 نومبر کو پچھلی سماعت میں عدالت نے کیس میں 27 بھارتی گواہوں کے بیانات قلمبند نہ ہونے پر ایف آئی اے کے ڈائریکٹر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے بھارتی گواہوں سے متعلق رپورٹ طلب کی تھی۔ ایف آی اے ڈائریکٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وزارت داخلہ و خارجہ ممبئی حملہ کیس سے متعلق 2 کانفرنسز کرچکے ہیں، امید ہے معاملہ جلد ہوجائے گا۔ اس پر عدالت نے وزارت داخلہ اور خارجہ کے سیکریٹریز کو رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔واضح رہے کہ 26 نومبر 2008 کو بھارت کے شہر ممبئی میں دہشت گردی کے حملوں میں 22 غیر ملکیوں سمیت 195 افراد ہلاک اور 127 زخمی ہوگئے تھے۔ بھارتی حکومت نے ممبئی حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ بھارت نے کہا کہ عسکریت پسند حملے کے لیے سمندر کے راستے کشتی کا سفر طے کر کے آئے تھے۔