ڈاکٹر فاروق عبدالہہ نے پھر کہا : ’جموں و کشمیر بھارت کا حصہ بنا رہے گا ، کنٹرول لائن پار پاکستان کا ‘

اڑان نیوز
جموں // نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایک مرتبہ پھر دوہرایا ہے کہ جموں و کشمیر بھارت کا حصہ بنا رہے گا جب کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر پاکستان کا حصہ ہی رہے گا ۔ انہوں نے کہا ہے کہ موجودہ صورت میں کوئی تبدیلی ہو نے والی نہیں ہے ۔
این سی صدر یہاں پر پارٹی دفتر شیر کشمیر بھون میں منعقدہ خواتین کے ایک روزہ کنونشن سے خطاب کر رہے تھے ۔انہوں نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کرگل لڑائی کے دوران کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول پار کر کے اس کا تقدس پامال نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے دفاعی اعتبار سے اہم حاجی پیر کا بھی ذکر کیا جس پر اگرچہ 1965کی جنگ کے دوران قبضہ کر لیا گیا تھا لیکن بعد میں واپس کر دیا گیا ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا تھا ” اس وقت نیشنل کانفرنس نے ایسا کرنے کو نہیں کہا تھا لیکن بھارت کی لیڈر شپ نے خود اس کا فیصلہ کیا “۔ انہوں نے مفادِ خصوصی رکھنے والوں کی طرف سے فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ رجحان اتحاد ، رواداری ، بقائے باہمی اور امن کی روح کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ سماج اسی صورت میں ترقی کر سکتا ہے جب لوگ صدیوں کی رویات برقرار رکھیں اور ان لوگوں کو الگ تھلگ کریں جو سیاسی مفادات کے لئے لوگوں کو تقسیم کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وقت آچکا ہے کہ لوگ امن اور اتحاد کی دشمن قوتوں کو الگ تھلگ کردیں ۔ انہوں نے پارٹی کارکنان سے کہا کہ وہ سماج کے مختلف طبقوں کے درمیان اتحاد و بھائی چارہ قائم کرنے کی سمت میں کام کریں ۔ ریاست کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر عبداللہ نے دوہرایا کہ جموں و کشمیر کے موجودہ سٹیٹس میں کچھ بھی تبدیل ہو نے والا نہیں ہے ۔ ریاست کا یہ حصہ بھارت کا حصہ ہی بنے رہے گا تو پاکستانی زیر انتظام کشمیر پاکستان کے ساتھ ہی رہے گا ۔ نیشنل کانفرنس صدر نے الزام لگایا کہ ماضی میں بھی اور آج بھی پی ڈی پی کی زیر قیادت حکومت نے ترقی کو پسِ پشت ڈال دیا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مخلوط حکومت ریاست کے وسائل بالخصوص پن بجلی پروجیکٹوں کا استعمال بھی نہیں کر پائی ہے جس کی وجہ سے مجموعی طور پر ریاست کو مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے خواتین کو آئندہ پنچایت انتخابات کے لئے تیار رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ 33فیصد ریزرویشن ان کے زمینی سطح پر جمہوری اداروں میں فیصلہ سازی میں زیادہ حصہ داری کو یقینی بنائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پنچایتیں خواتین کو سیاسی طور پر با اختیار بنانے کے اہم ادارے ہیں ۔ یہ کنونشن سابق ایم ایل اے بملا لوتھرا نے منعقد کیا تھا ۔ نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکریٹری علی محمد ساگر ، پارٹی کے صابائی صدر جموں اور ایم ایل اے نگروٹہ دویندر سنگھ رانا اور ناصر اسلم وانی نے بھی کنونشن سے خطاب کیا ۔