دہشت گردی بنیادی رکاوٹ تشدد اور مذاکرات ساتھ نہیں چل سکتے پولیس پارٹیوں یا عام شہریوں کو نشانہ بنانا بزدلانہ کارروائیاں:راجناتھ سنگھ

اڑان نیوز
نئی دہلی //پڑوسی ممالک کے ساتھ پُرامن ماحول میں مذاکرات کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہاہے کہ تشدد اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں تاہم مناسب ماحول کو تیار کرنے کیلئے نتیجہ خیز مذاکرات کی امید کی جاسکتی ہے ۔ نئی دہلی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا کہنا تھاکہ بھارت اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کا حامی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ہو یا بنگلہ دیش یا چین ہو سبھی ممالک کو بھارت کی خودمختاری کا احساس کرکے ہی بات چیت کیلئے ماحول سازگار کرنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت پڑوسی ممالک بشمول بنگلہ دیش اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کا نیا دور شروع کرنا چاہتا ہے جس میں امن کیلئے کوشیش کی جاسکتی ہیں تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ مذاکرات اور تشدد ایک ساتھ چل نہیں سکتے اور نہ ہی مذاکرات تشدد آمیز ماحول میں کئے جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر مسلسل دراندازی کرکے ہمارے فوجیوں اور سیکورٹی فورسز یا پولیس پارٹیوں یا عام لوگوں کو نشانہ بناتے اور فدائین حملے کرکے درپردہ جنگ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی کارستانی ہے کیونکہ وہ یہ نہیں چاہتے کہ دو ملکوں کے درمیان بہترین دوستانہ ماحول قائم ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں سے پاکستان کو کچھ حاصل نہیں ہونے والا اوریہ کارروائی بزدلانہ حرکات ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان کو پہلے ان درپردہ حملوں کو روک کر ماحول کو سازگار بناکر پھر بات چیت ہوسکتی ہے ورنہ بھارت اتنا کمزور نہیں کہ وہ دیکھتا رہے ،ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دے سکتے ہیں مگر تبھی ہم صبر سے کا م لیتے ہیں ۔انہوں نے کہا بھارت ایسے کاموں میں سنجیدہ ہے کہ مسائل کو ایڈریس کیا جائے کیونکہ ہم اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ امن مذاکرات کو جارے رکھنے کیلئے تیار ہیں ۔پڑوسی ممالک سے بھی مثبت ردعمل ملنا لازمی ہے ۔بھارت پاکستان کے ساتھ بھی ایک نئے دور کا آغاز چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کو نہایت ہی نیک نیتی اور سنجیدگی سے قدم اٹھانے ہونگے مزید ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سورتحال کو بہتر بنانے کیلئے پہلے بات چیت کو راستے کو ہی اپنایا جائے تاکہ صورتحال کو بہتر بنایا جاسکے۔راجناتھ نے کہا کہ بی جے پی کے حوالے سے جو شبیہ پڑوسی ممالک کے ساتھ پیش کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ بھارتی جنتا پارٹی خطے میں صرف امن بحالی کے حق میں ہے اور بھارت میں لوگوں نے اس دلخراش سانحہ پر ماتم کیا اور ایسے واقعات اگررونما ہوتے رہے تو ہم بھی دیکھنے والے نہیں ہیں ۔