سی آرپی ایف قافلہ پر حملہ ،5 اہلکار زخمی حملہ آور فرار،لشکر طیبہ نے ذمہ واری قبول کرلی

Indian security personnel stand guard near the bus that was carrying paramilitary soldiers damaged after a highway ambush by suspected rebels in Pampore, on the outskirts of Srinagar, Indian controlled Kashmir, Saturday, June 25, 2016. Some paramilitary soldiers were killed and about 20 were wounded in the incident. (AP Photo/Dar Yasin)

شاہ ہلال
اننت ناگ//جنوبی کشمیر کے کھنہ بل پہگام روٹ پر واقع لازبل اننت ناگ میں جنگجوﺅں نے سی آر پی ایف گاڑی پر جمعرات کی صبح گھات لگا کر اندھا دھند گولیاں چلائیں ۔فائرنگ کے اس واقع میں نیم فوجی دستوں سی آر پی ایف سے وابستہ 5اہلکار زخمی ہوئے جن میں 2ہیڈ کانسٹبل اور 3کانسٹبل شامل ہیں ۔ زخمی اہلکاروں کو فوری طبی امداد کے لئے مرزا محمد افضل بیگ میموریل ڈسٹرکٹ اسپتال اننت ناگ میں داخل کیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ کچھ دیرتک جاری رہا جس کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور بعد میں پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد نے وسیع علاقے کو گھیرے میں لے کر جنگجوﺅں کی تلاش شروع کردی۔لشکر طیبہ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فورسز کو بھاری جانی نقصان سے دوچار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔واقعہ کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ صبح ساڑھے8بجے کے قریب گھات میں بیٹھے جنگجوﺅںنے 6بسوں پر مشتمل سی آر پی ایف کی ایک کانوائے میں شامل ایک بس کو نشانہ بناتے ہوئے شدید فائرنگ کی ۔اس گاڑی میں فورس کی96بٹالین سے وابستہ اہلکار سوار تھے جو پہلگام کے نزدیک قائم اپنے کیمپ کی طرف جارہے تھے۔جواب میں فورسز اہلکاروں نے بھی گولیاں چلائیں اور یہ سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا ،جس جگہ یہ حملہ کیا گےا ،وہاں دن کے وقت مسافروں اور راہ گیروں کی بھاری بھیڑ موجود رہتی ہے، تاہم صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے نزدیکی بازاروں میںزیادہ دکانیں بھی کھلی نہیں تھیں ۔فائرنگ کی آواز سنتے ہی اتھل پتھل مچ گئی اکا دکا دکاندار اور راہگیر محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے کے لئے کوشاں تھے ،حملے کے فوراً بعدکھنہ بل پہلگام روڑ پر ٹریفک کی آوجاوی کافی دیر تک متاثر رہی ۔زخمی اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل ایس کے مہیش ،ہیڈ کانسٹیبل اندر جیت سنگھ،کانسٹیبل امت کمار،ہیڈ کانسٹیبل سبھاش،کانسٹیبل مدارک کمار 116بٹالین کی گئی ہے۔مذکورہ حملہ کے بعد پورے جنوبی کشمیرمیں فورسز کو چوکنا کردیا گیا۔ یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جنگجوﺅں نے کس سمت سے فورسز کو نشانہ بنایا، تاہم وہ حملے کے فوراً بعدافراتفری کے دوران ہی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ایک اطلاع کے مطابق دو حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھے ، تاہم پولیس نے اس کی تصدیق نہیں کی ۔حملے کے فوراً بعدسی آر پی ایف کے کئی اہلکاروںکوزخمی حالت میں پایا گےا ۔ زخمی اہلکاروں کو اسپتال پہنچایا گیا جہاں سے دو اہلکاروں کو بادامی باغ سرینگر میں قائم فوج کے92بیس اسپتال منتقل کیا گیا۔حملے میں سی آر پی ایف کی ایک بس کے کئی شیشے چکناچور ہوگئے اور بس پر کئی گولیاں بھی لگیں۔ سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حسین نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے اس حملے کابھرپور جواب دیا ۔حملے کے فوراً بعد پولیس ،ایس او جی ،سی آر پی ایف اور فوج کے سینئر افسران بھی جائے واردات پر پہنچ گئے اور صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ حملہ آﺅروں کو ڈھونڈ نکالنے کیلئے تلاشی کارروائی کی نگرانی کی ۔تاہم تلاشی کارروائی کے دوران کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔بعد میںآس پاس کی مزید کئی بستیوں کو بھی محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی انجام دی گئی جو آخری اطلاع ملنے تک جاری تھی۔حملے کے تناظر میں قصبہ میں حفاظت کے انتظامات مزید سخت کئے گئے اور کئی علاقوں میں گشت کا سلسلہ دن بھر جاری رہا۔جنگجو تنظیم لشکر طیبہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔تنظیم کے ترجمان نے سرینگر میں ذرائع