’دربار ‘ کا استقبال ہڑتال سے ہو گا تجاراتی و کاروباری انجمنوں کی نمائندہ تنظیم نے 6نو مبر کو ’جموں بند “ کی کال دی ٹرانسپورٹروں کی طرف سے ”مکمل چکہ جام “ کی اپیل

الطاف حسین جنجوعہ
جموں// سرمائی دارالحکومت میں 6نومبر کو ششماہی دربار کھلنے کا استقبال ” جموں بند “ اور ” چکہ جام “ سے کرنے کی پوری تیاری ہے ۔جموں کی متعدد تجارتی و کاروباری تنظیموں کی نمائندہ انجمن’ چیمبر آف ٹریڈرز فیڈریشن ‘اور ٹرانسپورٹ یونین نے ریاست میں اشیاءوخدمات ٹیکس(جی ایس ٹی)لاگو ہونے کے باوجود دوسری ریاستوں سے درآمد ہونے والی اشیاءپر ٹول ٹیکس کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رکھنے کے خلاف 6 نومبر کو ’جموں بند‘ کی کال دی ہے۔ چیمبر آف ٹریڈرس فیڈریشن کے صدر نیرج آنند نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ سول سیکریٹریٹ کے جموں میں کھلنے پر تاجر” مکمل پرامن ہڑتال“ کریںگے۔ انہوں نے بتایاکہ حکومت سے اشیاءپر سے ٹول ٹیکس ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن یہ افسوس ناک امر ہے کہ جولائی ماہ سے آج تک تمام مذاکراتی اپنانے کے باوجود اس حوالے سے کوئی مثبت قدم نہیں اٹھایا گیا۔ نیرج آنند نے بتایاکہ انہوںنے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی ، نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر ست شرماسے بھی معاملہ کو حل کرنے کی بارہاگذارش کی تھی۔علاہ وزایں 4روزہ خصوصی ریاستی دورہ پر آئے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے بھی ملاقات کے دوران انہوں نے اس معاملہ کو زوروشور سے اٹھایا تھا۔ انہوں ( مرکزی وزیر داخلہ )نے نائب وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں کہا تھا کہ” ون نیشن ون ٹیکس“ میں ٹول ٹیکس جاری نہیں رہ سکتا ہے لیکن اس سب کے باوجود ٹول ٹیکس نہیں ہٹایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیمبر کے پاس اب ہڑتال کے سوا کوئی دوسرا چارہ کار نہیں بچا ہے۔ انہوں نے کہا’ ’ وہ ہڑتالی سیاست کے خلاف ہیں اور آج تک چیمبر آف ٹریڈرس فیڈریشن نے کبھی بھی بند کی کال نہیں دی ہے۔لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ تمام چینلوں کا استعمال کرنے کے بعد اب ہمارے پاس ہڑتال کے سوا کوئی اور راستہ نہیں بچا ہے“۔ انہوں نے کہا ”اشیاءپر ٹول ٹیکس کا اثر ایک عام صارف پر پڑ رہا ہے۔ بحیثیت بیوپاری ہمیں یہ ٹیکس جمع کرکے سرکار کو دینا ہے لیکن میں اور آپ سب صارف ہیں۔ جی ایس ٹی سے ایک عام آدمی کو جو فائدہ ملنا چاہیے ، وہ نہیں مل رہا ہے۔ اس کے خلاف ہم 6 اکتوبر کو جموں بند رکھیں گے“‘۔ چیمبر آف ٹریڈرس فیڈریشن کے صدر نے الزام لگایا کہ سرکاری کسی بھی مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا”ہم سول سوسائٹی، ٹرانسپورٹروں، بار ایسوسی ایشن، ٹیم جموں اور راج پوت سبھا کے رہنماو¿ں سے بھی ملے۔ سب نے یہی کہا کہ سرکار میں کوئی بات کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں سن رہا ہے“۔ آنند نے لوگوں سے پُر امن ہڑتال کو کامیاب بنانے کی اپیل کی تاکہ یہ حکومت نیند سے جا گے ۔ فیڈریشن صدر نے تجارتی تنظیموں، جموں کی سول سوسائٹی، ٹرانسپورٹروں، ٹیم جموں، راجپوت سبھا، جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن، سی سی آئی، انڈسٹریل فیڈریشن اور جموں کے سیاسی لیڈران سے اپیل کی کہ وہ بھی اس کال کو کامیاب بنانے میں تعاون دیں۔دریں اثنا جموں کے ٹرانسپورٹروں نے بھی اپنے مطالبات منوانے کے لئے 6 اکتوبر کو ریاست بھر میں پہیہ جام ہڑتال کی کال دی ہے۔ آل جے اینڈ کے ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسو سی ایشن صدر سردار تیجندر سنگھ وزیر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پر ٹرانسپورٹروں کے مسائل کے تئیں لاپرواہی برتنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا ”اس حکومت کا بننا ہمارے لئے ایک بدقسمتی ہے۔ جب سے یہ حکومت بنی ہے تب سے ریاست تباہی کی طرف جارہی ہے“۔ انہوں نے کہا کہ 6 نومبر کو دربار مو کے دفاتر کھلنے پر پہیہ جام ہڑتال سے استقبال کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر اس حکومت کی آنکھیں نہیں کھلیں تو غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کی جائے گی۔انہوںنے تمام تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ’جموں بند‘ کال کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور تعاون دیں۔فٹنس پر یومیہ 50رروپے جرمانہ کے فیصلہ کو واپس لینے، 29مارچ2017کو جاری نوٹیفکیشنHUD/LSG/ULBJK/79/2017کی عمل آوری کو یقینی بناتے ہوئے قومی شاہراہوں پرچلنے والی گاڑیوں سے اڈہ فیس نہ لینے، 15سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں پر دوگنی فیس چارج نہ کرنے، پسنجر ٹیکس پر ٹوکن ٹیکس سے مستثنیٰ رکھنے اور تمام کمرشیل گاڑیوں میں سپیڈگورنر کی تنصیب کے فیصلہ کو واپس لینے ، پسنجر ٹیکس میں ایمنسٹی سکیم دینے، لکھن پور ٹول ٹیکس ہٹانے جیسے مطالبات ہیں جنہیں عرصہ دراز سے حل نہیں کیاجارہا ہے۔ سردار تیجندر سنگھ وزیر نے عام لوگوں اور سیاسی و سماجی تنظیموں سے بھی چکہ جام ہڑتال کامیاب بنانے کی اپیل کی۔