دلی تیار،حریت کا انکار مذاکرات محض شوشہ اور دنیا کی آنکھو ں میں دھول جھونکنا : علیحدگی پسند

اڑان نیوز
سری نگر//علیحدگی پسند لیڈرشپ نے’’مرکزی سرکارکی مذاکراتی پیشکش نامنظور‘‘کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں یہ واضح کردیاکہ ہمارا ہدف اندرونی خودمختاری نہیں بلکہ مکمل آزادی ہے ۔سیدعلی گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اورمحمدیاسین ملک نے باہمی صلاح مشورے کے بعدکہاکہ جن لوگوں کواٹانومی کی بات تک برداشت نہیں ،اُن سے مسئلہ کشمیرکے حل کی اُمیدرکھناخیالِ عبث ہے۔انہوں نے نامزدمذاکرات کار دنیشورشرماکے بیانات کوموصوف کے ایجنڈے کاعکاس مانتے ہوئے کہاکہ مذاکرات کا مقصد مسئلہ کشمیر کا مستقل حل تلاش کرنا ہوتوہم اس کے خلاف نہیں ہیں۔ علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے حیدرپورہ میں ایک اہم میٹنگ کی ۔ میٹنگ کے بعد جاری بیان کے مطابق مزاحمتی قائدین نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان میں جس میں انھوں نے بھارت کے سابق وزیر داخلہ چدمبرم کے اُس بیان جس میں انھوں نے اندرونی خودمختاری کی بات کی تھی، کے جواب میں کہاتھا کہ ’’جموں کشمیر میں بھارت کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے فوجی مررہے ہیں، خودمختاری کی بات کیوں کی گئی‘‘ ،پر اپنے ردعمل میں کہا کہ ہمارا ہدف بھارتی قبضے سے مکمل آزادی ہے اور ہمارا کبھی بھی اندرونی خودمختاری یا آزادی کے ماسوا کسی اور حل کا مؤقف نہیں رہا ہے ۔انھوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی وزیر اعظم کے بیان سے ہمارے اس موقف کو تقویت حاصل ہورہی ہے کہ مذاکرات کا شوشہ کھڑا کرکے بھارت دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہا ہے، انھوں نے واضح کیا کہ جو لوگ اپنے ہی لوگوں کی جانب سے اٹانومی کی بات تک کو قبول نہ کریں ،ان سے اس بات کی توقع رکھنا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں کوئی پیش رفت کریں گے اور حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے والوں سے بات کریں ،ایک خیالِ عبث ہے ۔بیان کے مطابق مزاحمتی قیادت نے بھارتی نامزد مذاکرات کار دنیشور شرما کے اُس بیان کا حوالہ دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ وہ کشمیر جاکر نوجوانوں کو سمجھائیں گے کہ اسلام اور آزادی کا مطالبہ دہراکر وہ اپنی زندگیاں ضائع کررہے ہیں اور اس طرح وہ جوانوں کو اسلام سے دُور رہنے کا سبق پڑھارہے ہیں۔ موصوف نے شام کی بات چھیڑ کر اسے ایک مذہبی اور فرقہ دارانہ جنگ سے جوڑ کر کہا تھا کہ وہ کشمیر کو دوسرا شام بننے نہیں دیں گے ۔مزاحمتی قیادت نے ان کے بیان پر اپنے تبصرے میں کہا کہ دنیشور شرما نام نہاد امن قائم کرنے کے مشن پر ہیں ،نہ کہ مسئلہ کشمیر حل کرنے کے مشن پر اور یہ بات واضح کی کہ شام اور جموں کشمیر کے سیاسی حالات کا کوئی موازنہ نہیں اور دونوں ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ مسئلہ کشمیرکو اس کے تاریخٰی پس منظر میں اور حق خودارادیت کی بنیاد پرحل کیا جانا چاہئے اور اس طرح نہ صرف بھارت بلکہ سارے بر صغیر میں امن قائم ہوگا ۔ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ بھارت ایک طرف بات چیت کرنے کے لئے مذاکرات کی پیشکش کررہا ہے اور دوسری طرف خود ہی اپنے ایجنڈے کو منظر عام پر لاکر اس بات کا عندیہ دے رہا ہے کہ مسئلہ صرف نام نہاد امن کے قیام تک محدود ہے ۔ مزاحمتی قیادت نے واضح کیا کہ ہم کبھی بامعنی مذاکراتی عمل خلاف نہیں رہے ہیں بشرطیکہ انکا واحد مقصد نتیجہ خیز اور مسئلہ کشمیر کا مستقل حل تلاش کرنا ہو۔بیان کے مطابق مزاحمتی قیادت نے اپنے اصولی موقف کا ایک بار پھر اعادہ کرتے ہوئے اس بات کو واضح کردیا ہے کہ دنیشور شرما نے مذاکرات سے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ ان مذاکرات سے مسئلہ کشمیر حل کرنا اور نہ عوامی خواہشات کا احترام مطلوب ہے اور ظاہرہے کہ ان مذاکرات میں شمولیت سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا جو مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے اپنی اپنے جبری فوجی قبضے کو جاری رکھنا ہے۔مزاحمتی قیادت نے کہا کہ بھارت کے نامزد مذاکرات کار کا نام نہاد قیام امن کا مشن ایک فضول مشق ہے اور اس عمل کا حصہ بننا وقت کے زیاں کے سوا کچھ نہیں لہٰذا عوام کو چاہئے کہ وہ شہیدوں کے خون سے مزین تحریک کے تئیں اپنی وابستگی کا عمل پوری استقامت کے ساتھ جاری رکھیں۔مزاحمتی قیادت نے اس بات کا خلاصہ کیا کہ ریاست میں سرکاری دہشت گردی ،مار دھاڑ قید و بند ،خواتین کی تذلیل اور نوجوانوں کو قتل کرنے سے نہ ہمارے حوصلے پست ہوں گے اور نہ ہم آزادی سے کم کسی چیز پر راضی ہیں اور اس سب کے باوجود تحریک مزاحمت اپنی منزل کی جانب گامزن رہے گی ۔