نیتی آیوگ وائس چیئر مین کی وزیرا علیٰ سے ملاقات محبوبہ مفتی نے ریاست کےلئے مخصوص الوکیشن مد مقرر کرنے اور بر وقت رقومات واگذار کرنے کو کہاہنر مندی اقدامات کو بڑھاواد ینے کی بھی وکالت

سرینگر//نیتی آیوگ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر راجیو کمار نے ہفتہ کے روز یہاں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ ملاقات کی اور ریاست کے ترقیاتی منظرنامے سے جڑے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیرا علیٰ نے جموں وکشمیر کے منفرد حالات کے پیش نظر یہاں کی ضروریات کے مطابق الوکیشن ایجنڈا تیار کرنے کا معاملہ ڈاکٹر راجیو کمار کی نوٹس میں لایا۔ وزیرا علیٰ نے کہاکہ ریاست کو منفرد موسمی حالات ، جغرافیائی محل وقوع اور محدود کام کے سیزن کے چلتے کئی مشکلات کا سامنا ہے جنہیںرقومات مختص کرتے وقت ملحوظ رکھا جانا چاہئے۔محبوبہ مفتی نے ریاست کے لئے وقت پر رقومات واگذار کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ یہاں کی ترقیاتی سرگرمیوں کو وقت پر دوام حاصل ہوسکے ۔انہوں نے کہاکہ ان کی حکومت کی طرف سے کئے گئے کئی اختراعی اقدامات کی بدولت جموں وکشمیر نے بزنس چارٹ کے حوالے سے کافی بہتری حاصل کی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے ریاست میں ہنرمندی کو بڑھاوادینے اور سکیموں کے زیادہ سے زیادہ فوائد نوجوانوں تک پہنچانے میں نیتی آیوگ کی مداخلت طلب کی۔وائس چیئرمین نے محبوبہ مفتی کو ان کے ادارے کی طرف سے بھرپور تعاون دئیے جانے کا یقین دلایا تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ کو آیوگ کی طرف سے شروع کئے گئے اٹل انیوویشن مشن کے بارے میں جانکاری دی جس کے تحت تعلیمی اداروں میں انکیو بیشن مراکز قائم کئے جارہے ہیں۔انہوںنے اس طرح کے مراکز ریاست کے سکولوں میں بھی قائم کرنے کی تمنا ظاہر کی تاکہ طلاب میں کارخانہ داری کے جذبے کو فروغ دیا جاسکے۔ڈاکٹر راجیو کمار نے محبوبہ مفتی کو آیوگ کی طرف سے ریاستوں میں مرکزی معاونت والی سکیموں کے لئے اختیار کئے گئے مونیٹرنگ لائحہ عمل کے بارے میں جانکاری دی ۔انہوںنے تمام سکیموں اور سیکٹروں کی مونیٹرنگ اور تجزیہ کے لئے ڈیش بورڈ قائم کرنے کے امور کے بارے میں بھی وزیر اعلیٰ کو جانکاری دی۔ وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے ڈاکٹر کمار کو ریاست میں عملے کی آڈیٹنگ اور لیبر اصلاحات کو یقینی بنانے کے لئے کئے جارہے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی۔انہوںنے دیہی ترقی اور بجلی محکموں میں اثاثوں کی جیو ٹریکنگ کے اقدامات کے بارے میں بھی وائس چیئرمین کو بتایا۔ چیف سیکرٹری بی بی ویاس، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔سرینگر//نیتی آیوگ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر راجیو کمار نے ہفتہ کے روز یہاں وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ ملاقات کی اور ریاست کے ترقیاتی منظرنامے سے جڑے معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔وزیرا علیٰ نے جموں وکشمیر کے منفرد حالات کے پیش نظر یہاں کی ضروریات کے مطابق الوکیشن ایجنڈا تیار کرنے کا معاملہ ڈاکٹر راجیو کمار کی نوٹس میں لایا۔ وزیرا علیٰ نے کہاکہ ریاست کو منفرد موسمی حالات ، جغرافیائی محل وقوع اور محدود کام کے سیزن کے چلتے کئی مشکلات کا سامنا ہے جنہیںرقومات مختص کرتے وقت ملحوظ رکھا جانا چاہئے۔محبوبہ مفتی نے ریاست کے لئے وقت پر رقومات واگذار کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ یہاں کی ترقیاتی سرگرمیوں کو وقت پر دوام حاصل ہوسکے ۔انہوں نے کہاکہ ان کی حکومت کی طرف سے کئے گئے کئی اختراعی اقدامات کی بدولت جموں وکشمیر نے بزنس چارٹ کے حوالے سے کافی بہتری حاصل کی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے ریاست میں ہنرمندی کو بڑھاوادینے اور سکیموں کے زیادہ سے زیادہ فوائد نوجوانوں تک پہنچانے میں نیتی آیوگ کی مداخلت طلب کی۔وائس چیئرمین نے محبوبہ مفتی کو ان کے ادارے کی طرف سے بھرپور تعاون دئیے جانے کا یقین دلایا تاکہ ترقیاتی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ کو آیوگ کی طرف سے شروع کئے گئے اٹل انیوویشن مشن کے بارے میں جانکاری دی جس کے تحت تعلیمی اداروں میں انکیو بیشن مراکز قائم کئے جارہے ہیں۔انہوںنے اس طرح کے مراکز ریاست کے سکولوں میں بھی قائم کرنے کی تمنا ظاہر کی تاکہ طلاب میں کارخانہ داری کے جذبے کو فروغ دیا جاسکے۔ڈاکٹر راجیو کمار نے محبوبہ مفتی کو آیوگ کی طرف سے ریاستوں میں مرکزی معاونت والی سکیموں کے لئے اختیار کئے گئے مونیٹرنگ لائحہ عمل کے بارے میں جانکاری دی ۔انہوںنے تمام سکیموں اور سیکٹروں کی مونیٹرنگ اور تجزیہ کے لئے ڈیش بورڈ قائم کرنے کے امور کے بارے میں بھی وزیر اعلیٰ کو جانکاری دی۔ وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے ڈاکٹر کمار کو ریاست میں عملے کی آڈیٹنگ اور لیبر اصلاحات کو یقینی بنانے کے لئے کئے جارہے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی۔انہوںنے دیہی ترقی اور بجلی محکموں میں اثاثوں کی جیو ٹریکنگ کے اقدامات کے بارے میں بھی وائس چیئرمین کو بتایا۔ چیف سیکرٹری بی بی ویاس، وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری روہت کنسل اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔