’کشمیر کوئی مسئلہ نہیں ‘ مذاکرات کار نہیں بلکہ خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے:جتندر سنگھ

نیوز ڈیسک
نئی دہلی//کشمیر مسئلے کی حل کی خاطر مذاکرات کار کی تعیناتی سے انکار کرتے ہوئے وزیرا عظم ہند کے دفتر میں تعینات وزیر مملکت نے کہاکہ مرکزی حکومت نے ایک خصوصی نمائندے کو تعینات کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وادی میں دن بدن حالات معمول پر آرہے ہیں اور مرکزی حکومت نے موقع غنیمت سمجھ کر ایک سینئر آفیسر کو تمام طبقوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا کام سونپ دیا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت کے مطابق کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مرکزی حکومت نے مسئلہ حل کرنے سے پہلے چرچا نہیں کی ۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر جتندر سنگھ نے واضح کردیا ہے کہ کشمیر میں تمام طبقوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کیلئے ایک خصوصی نمائندے کو تعینات کیا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت نے کسی مذاکرات کار کو تعینات نہیں کیا ہے۔مرکزی وزیر مملکت نے واضح کردیا ہے کہ وزارت داخلہ نے اس ضمن میں باضابط طورپر آرڈر نکالا ہے جس میں صاف لکھا گیا ہے کہ سابق آئی بی چیف کو کشمیر کیلئے خصوصی نمائندہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ وہ مختلف گروپوں کے ساتھ ملاقات کرکے اُن کی رائے حاصل کرکے مرکزی حکومت کو اس ضمن میں رپورٹ پیش کریں ۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے کیونکہ ریاست جموںوکشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور اس کی طرف کسی کو دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ وزیر مملکت کے مطابق بھارتیہ جنتاپارٹی کا موقف واضح اور صاف ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور دنیا کی کوئی طاقت کشمیر کو بھارت سے چھین نہیں سکتے ۔ وزیر مملکت کے مطابق لوگوں کے مشکلات کا ازالہ کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی جانب سے اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے مذاکرات کار نامزد کرنے اور بھارتیہ جنتاپارٹی پارٹی کو ہدف تنقید کا نشانہ بنانے کے ضمن میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت نے کہاکہ کانگریس اور دوسری سیاسی پارٹیاں غلط بیانی سے کام لے رہی ہے کیونکہ مرکزی حکومت نے صرف خصوصی نمائندے کو تعینات کیا ہے نہ کہ مذاکرات کار ۔ این آئی اے کی جانب سے حریت لیڈروں کی گرفتاری کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں مرکزی وزیر مملکت نے کہاکہ قومی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے کریک ڈاون جاری رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ حوالہ فنڈنگ کے معاملے میں گرفتار حریت لیڈر اور تاجر کے ساتھ پوچھ تاچھ ہو رہی ہے اور آنے والے دنوں کے دوران کئی سنسنی خیز انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہاکہ جہاں تک کشمیر مسئلے کا تعلق ہے تو بی جے پی کا ماننا ہے کہ کشمیر مسئلہ کب کا حل ہو چکا ہے تاہم اب پاکستانی زیر انتظام کشمیر کو پاکستان سے چھڑانے ہے اس سلسلے میں ہی مرکزی حکومت نے بات چیت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ بی جے پی کانگریس کی طرح نہیں ہے جو اقتدار میں رہ ایک اور اقتدار سے باہر دوسری بولی بولتی ہے۔ مرکزی وزیر مملکت کے مطابق ہمارا موقف واضح اور صاف ہے کہ کشمیر مسئلہ متنازعہ نہیں بلکہ یہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے ۔