اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف چارج شیٹ دائر نفرت انگیز تقریروں کے ذریعے نوجوانوں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کو اکسانے کا الزام

یو این آئی
ممبئی//قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے ) نے نفرت انگیز تقریروں کے ذریعے نوجوانوں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے اکسانے اور فرقوں کے درمیان تفرقہ پھیلانے کے الزام میں متنازعہ اسلامی مبلغ ڈاکٹرذاکر نائک کے خلاف خصوصی عدالت میں چارج شیٹ دائر کی ہے ۔ جمعرات کو یہاں این آئی اے کے ایک اہلکار نے کہاکہ ہم نے نائک کے خلاف چارج شیٹ دائر کی ہے ۔ فی الحال بیرون ملک مقیم 51 سالہ نائک کے خلاف دہشت گردی اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت جانچ جاری ہے ۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں دہشت گردانہ حملہ کے بعد یکم جولائی، 2016 کونائیک کی تعلیمات سے انہیں مشتبہ شدت پسندوں کے متاثرہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ . بنگلہ دیش میں دعوی کیا گیا تھا کہ دہشتگردوں کے حملے میں ملوث افراد نائیک کی تقریر سے متاثر ہوئے تھے ۔این آئی اے نے 18 نومبر، 2016 کو اپنی ممبئی میں نائک کے خلاف یواے پی اے قانون اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ ذاکر نائیک کی تنظیم ‘اسلامی ریسرچ فا¶نڈیشن’ (آئی آر ایف) نے پہلے سے ہی مرکزی وزارت داخلہ نے غیر قانونی تنظیم قرار دیا ہے ۔این آئی اے نے 58 صفحے کی رپورٹ میں یہ بات کہی ہے کہ ذاکر نائیک مفرورہے اور اس پر دیگر مذاہب کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کرنے کا الزام ہے ، ذاکر نائیک کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 295۔اے (لوگوں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا)، 298 (دیگر مذاپب پر حملہ) اور 505۔بی (لوگوں کو ریاست کے خلاف بھڑکانا) کے تحت چارج شیٹ دائر کی گئی ہے ۔