خون کا عطیہ جموں کے اس نوجوان کا مشن ہے اب تک 3درجن سے زائد مرتبہ خود عطیہ دے چکے ہیں انسانیت کی خدمت کا اس سے بہترین طریقہ اور کوئی نہیں ہوسکتا، دلی سکول ملتا ہے: روہت بڈیال

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//’بھوکوں کو کھانا کھلانا ‘اور ’عطیہ خون ‘ ایسے کام ہیں جوکہ خدمت حلق میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ عطیہ خون ایک ایسا کام ہے جس سے نہ صرف آپ کسی کی جان بچاتے ہو بلکہ خود بھی کئی بیماریوں سے محفوظ رہتے ہو۔شہروں و قصبہ جات اور تعلیم یافتہ لوگ عطیہ خون دینے کیلئے کافی آگے آرہے ہیں لیکن دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں لوگ ایسا کرنے سے بہت ڈرتے ہیں جنہیں لگتا ہے عطیہ خون کرنے سے وہ کمزور پڑھ جائیں گے۔اس کار خیر سے کئی لوگ جڑے ہیں جوگمنام رہ کر اس انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔سرمائی راجدھانی جموں کے ’روہت بڈیال ‘نہ صرف طالبعلمی کے دور سے عطیہ خون دے رہے ہیں بلکہ انہوں نے اس کہیں لوگوں کو ایسا کرنے کے لئے تیار کیا ۔ اس کے لئے وہ باقاعدہ تحریک بھی چلا رہے ہیں۔ بڈیال ملکی سطح پر رجسٹرڈ شدہ’ آل انڈیا یوتھ ہاٹ بلڈ ایسو سی ایشن ‘ کے سرپرست اعلیٰ ہیں جس کے تحت جموں وکشمیر اور ہماچل پردیش سے کافی رضاکار جڑے ہیںجوکہ ضرورت پڑنے پر عطیہ خون کرتے ہیں۔ روہت بڈیال نے اڑان سے تفصیلی بات چیت کید وران بتایاکہ سال 2001میں جی جی ایم سائنس کالج جموں کے باہر بم دھماکہ ہوا تھا جس میں کافی لوگ زخمی ہوگئے تھے۔ اس وقت وہ بغیر کسی کے کہنے پر رضاکارانہ طور اسپتال خون دینے چلے گئے۔ جب انہوں نے خون عطیہ کیاتو انہیں ایک عجیب سا سکون ملا جس کے بعد انہوں نے اس کام کو اپنا مشن بنالیا۔ ان کے مطابق ابھی تک وہ تین درجن سے زائد مرتبہ خون عطیہ کر چکے ہیں۔پھر وہ آل انڈیا یوتھ ہاٹ بلڈ ایسو سی ایشن کے ساتھ منسلک ہوگئے جوکہ 1998سے عطیہ خون کیلئے کام کر رہی ہے۔ روہت بڈیال کے مطابق اس تنظیم کو2003میں جموں وکشمیر حکومت نے رجسٹرکیا اور سال 2011میں حکومت ہند کے ساتھ رجسٹرڈ کرایاگیا۔ ایسو سی ایشن کے کام کاج بارے بڈیال نے بتایاکہ اس تنظیم کے ساتھ انہوں نے اودھم پور، کٹھوعہ، سانبہ، ریاسی ، جموں اور ہماچل پردیش سے کافی رضاکاروں کو جوڑا ہے جوکہ مسلسل آپسی رابطہ میں رہتے ہیں، جس وقت بھی کہیں خون کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ رضاکارانہ طور خون دینے پہنچ جاتے ہیں، اس کے علاوہ بیداری کیمپ منعقد کر کے نوجوانوں کو عطیہ خون کی ترغیب دی جاتی ہے۔ سول، پولیس انتظامیہ یا اگر نجی طور پر کوئی ایسو سی ایشن یا تنظیم عطیہ خون کیمپ کا انعقاد کرتی ہے تو اس میں نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ حصہ لینے کی بھی ترغیب دی جاتی ہے۔انہوں نے بتایاکہ جموں میں بھی جہاں کہیں عطیہ خون کیمپ منعقد ہوتے ہیں وہ نوجوانوں کو وہاں بھیجتے ہیں کہ خون عطیہ کرؤ۔ آج تک کتنے لوگوں نے ان کی تنظیم کے بینر تلے عطیہ خون کیا بارے پوچھے جانے پر انہوں نے بتایاکہ اس کا انہوں کوئی حساب کتاب نہ رکھا تاہم اوسطاً دو تین کیس تو روزانہ ہی ہوتے ہیں۔وہ مزید کہتے ہیں ان کا مشن ہے کہ ریاست بھر میں ہر جگہ ایسے رضاکار تیار ہوں تاکہ قیمتی جانیں بچائی جاسکیں، عطیہ خون سے انسان کمزور نہیں ہوتا، اس سے الفاظ میں بیان نہ کرنے والا سکون اور اطمینان ملتا ہے‘‘ماہرین کے مطابق ہر انسان کے بدن میں تین بوتل اضافی خون کا ذخیرہ ہوتا ہے، ہر تندرست فرد ، ہر تیسرے ماہ خون کی ایک بوتل عطیہ میں دے سکتا ہے۔ جس سے اس کی صحت پر مزید بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کا کولیسٹرول بھی قابو میں رہتا ہے۔ تین ماہ کے اندر ہی نیا خون ذخیرے میں آ جاتا ہے ، اس سلسلے میں ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ نیا خون بننے کے ساتھ ساتھ بدن میں قوت مدافعت کے عمل کو بھی تحریک ملتی ہے۔ مشاہدہ ہے کہ جو صحت مند افراد ہر تیسرے ماہ خون کا عطیہ دیتے ہیں وہ نہ تو موٹاپے میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ انہیں جلد کوئی اور بیماری لاحق ہوتی ہے۔ لیکن انتقال خون سے پہلے خون کی مکمل جانچ پڑتال ضروری ہے۔ کیونکہ بہت سی مہلک بیماریاں جیسے ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض انتقال خون کی وجہ سے ایک سے دوسرے تک منتقل ہوتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق خون کا اکثر عطیہ کرنا دوران خون کے نظام میں بہتری لانے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس سے شریانوں کو نقصان کم پہنچتا ہے جس سے خون کے بلاک ہونے کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ آسان الفاظ میں ایسے افراد میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خون عطیہ کرنے والے افراد کم بیمار ہونے کے باعث ہسپتال بھی بہت کم داخل ہوتے ہیں اور وہاں بھی ان کا قیام مختصر عرصے کے لیے ہوتا ہے، جبکہ ہارٹ اٹیک، کینسر اور فالج وغیرہ کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔صحت مند بالغ افراد کے جسم میں پانچ گرام آئرن کی موجودگی ضروری ہوتی ہے جن میں سے بیشتر خون کے سرخ خلیات میں ہوتی ہے، جبکہ بون میرو میں بھی یہ جز پایا جاتا ہے۔ جب خون عطیہ کیا جاتا ہے تو کچھ مقدار میں آئرن بھی کم ہوتا ہے، جو کہ عطیہ کیے جانے کے بعد خوراک سے دوبارہ بن جاتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق آئرن کی سطح میں اس طرح کی تبدیلی صحت کے لیے بہتر ہوتی ہے کیونکہ اس جز کی بہت زیادہ مقدار خون کی شریانوں کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ رضاکارانہ بنیادوں پر خون کا عطیہ کرتے ہیں، ان میں مختلف امراض سے موت کا خطرہ کم ہوتا ہے اور اوسط عمر میں چار سال تک کا اضافہ ہوجاتا ہے۔یاد رہے کہ دنیا میں ہر سال 14 جون کو خون عطیہ کرنے یا ‘بلڈ ڈونر ڈے’ منایا جاتا ہے جس کا مقصد خون کی محفوظ منتقلی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا اور ساتھ ہی ایسے افراد کا شکریہ ادا کرنا ہوتا ہے جو بغیر کسی لالچ کے اپنا خون دوسروں کی زندگیاں بچانے کے لیے عطیہ کرتے ہیں۔