کیا اب کی بار جموں سے مسلم ہائی کورٹ کاجج بنے گا….؟

Reading Time: 4 minutes

کیا اب کی بار جموں سے مسلم ہائی کورٹ کاجج بنے گا….؟
88سالہ تاریخ میں صوبہ سے طبقہ کوعدالت عالیہ میں نمائندگی نہیں مل پائی
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی88سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ جموں کے کسی مسلم وکیل کا نام جج بنائے جانے کے پینل میں شامل کیا گیا ہے ۔ ہائی کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس بدر دریز احمد کی سربراہی والے کالجئیم (Collegium) کی طرف سے تیار کئے گئے پینل میں سینئر ایڈوکیٹ وسیم صادق کو بھی جگہ ملی ہے ۔اگر ان کا نام کلیئر ہو جاتا ہے تو وہ صوبہ جموں سے تعلق رکھنے والے مسلم طبقہ سے تعلق رکھنے والے پہلے ہائی کورٹ جج ہوں گے ۔ذرائع کے مطابق جموں وکشمیر ہائی کورٹ نے ججوں کی تعیناتی کے لئے 5ناموں کاپینل تیار کیا ہے جس میں ایک طویل عرصہ بعد پھر ایک مسلم وکیل کا نام شامل کیاگیاہے۔ اس پینل میں4وکلا، جن میں سے دو جموں اور دوکشمیر صوبہ سے ہیں جبکہ ایک سنیئر جوڈیشل آفیسر شامل ہے۔ وکلا میں نذیر احمد بیگ، ایس اے مکرو ،وسیم صادق نرگال، سندھو شرما اور رشید علی ڈار شامل ہیں۔رشید علی ڈار اِس وقت پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سری نگر تعینات ہیں۔ ایڈوکیٹ سندھو شرما جموں وکشمیر ہائی کورٹ جموں ونگ میں اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل آف انڈیا ہیں۔ وہ ریاست سے پہلی خاتون وکیل بھی ہیں جواسسٹنٹ سالیسٹر جنرل آف انڈیا تعینات کی گئی ہیں۔ایڈوکیٹ وسیم صادق نرگال اس وقت سنیئر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ہیں جنہوں نے ہائی کورٹ جموں ونگ میں ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل(محکمہ داخلہ)کے طور پر کام کیا ہے۔ ایس اے مکر و، سرینگر ہائی کورٹ ونگ میں اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل آف انڈیا رہ چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق نذیر احمد بیگ کی دوسری مرتبہ ہائی کورٹ کولیجم نے سفارش کی ہے۔ اس سے قبل جنوری 2014میں اس وقت کے چیف جسٹس ایم ایم کمار نے بھی،نذیراحمدکے نام کی سفارش کی تھی لیکن فائنل لسٹ میں وہ جگہ نہیں پاسکے تھے۔اس پینل کی چیف جسٹس آف انڈیا اور مرکزی وزارت قانون وانصاف باریک بینی سے چھان بین کرے گا، ان کے پیشہ ور ٹریک ریکارڈ کو مختلف ذاویوں سے جانچا پرکھاجائےگا جس کے بعد ان کی بطور ہائی کورٹ جج تعیناتی پرعدالت عظمیٰ کے 2سرکردہ جسٹس کے صلاح ومشورہ کے بعد چیف جسٹس آف انڈیا مہرثبت کریں گے۔ یاد رہے کہ جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں چیف جسٹس سمیت کل ججوں کی منظور شدہ تعداد17ہے جس میں اس وقت 12 ہی تعینات ہیں جن میں جسٹس آر سدھاکر، جسٹس محمدیعقوب میر، جسٹس آلوک ارادھے، جسٹس علی محمد ماگرے، جسٹس دھیرج سنگھ ٹھاکر، جسٹس تاشی ربستان، جسٹس جنک راج کوتوال، جسٹس باواسنگھ والیہ، جسٹس سنجیو کمار شکلا، جسٹس ایم کے ہانجور اور جسٹس سنجے کمار گپتا اور چیف جسٹس بدر دریز احمدشامل ہیں۔ رواں برس جون ماہ میں مرکزی وزارت قانون نے نوٹیفکیشن نمبرK 13021/01/2016-US.IIجاری کے تحت جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں سنجیو کمار شکلا، مہراج کرشن ہانجوا اور سنجے کمار گپتا ہائی کورٹ کے جج تعیناتی عمل میں لائی تھی۔ ریاستی ہائی کورٹ کی تاریخ میں ابھی تک صوبہ جموں سے کوئی مسلم یا سکھ جج نہیں بنایا گیا ہے جب کہ زیادہ ترکشمیری مسلم، کشمیری پنڈت اور جموں کے ہند طبقہ سے تعلق رکھنے والے وکلا منتخب ہو ئے ہیں ۔ اسی طرح جسٹس تاشی ربستان لاداخ خطہ سے پہلے جج تھے جو مارچ2013 میں اس منصب کے لئے منتخب ہو ئے تھے ۔آج تک جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے 33چیف جسٹس ہوئے ہیں جن میں سے 11مسلم تھے۔ان میں سے 3یعنی میاں جلال الدین (1978-80)، مفتی بہا الدین(1983) اور بشیر احمد بشیر(2007)کشمیری تھے جبکہ باقی 8 ، بشمول موجودہ چیف جسٹس بدر دریز احمد بھی شامل ہیں ، بھارت کی دیگر ریاستوں سے ہیں ۔ ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست کی 88سالہ تاریخ میں ابھی تک تما م مسلم چیف جسٹس 3سال سے کم مدت کے لئے فا ئز رہے ہیں۔ میاں جلال الدین واحمد کشمیرمسلم تھے جوکہ ایک سال سے زائد عرصہ تک جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے۔ وہ اس عہدہ پر15افروری1978سے 22فروری1980تک رہے۔ اسی طرح جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے اب تک کے 74ججوں میں سے 27مسلم ہوئے ہیںجن میں سے 23کا تعلق وادی کشمیر سے تھا جبکہ باقی ملک کی دیگر ریاستوں سے تھے ۔ ہائی کورٹ کے تین سکھ جج بھی رہے ہیں اور تینوں کا تعلق پنجاب سے تھا۔ان میں ایس ایس کنگ(1989-93)، ٹی ایس ڈوبیہ(1997-2003)اور جسٹس وریندر سنگھ(2007-2014)شامل ہیں۔صوبہ جموں سے ہندو طبقہ سے بڑی تعداد میں و کلا نہ صرف جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے جج رہے اورچیف جسٹس بنے بلکہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس بھی رہے جبکہ کئی نے عدالت عظمیٰ کے ججوں کے طور بھی اپنی خدمات انجام دیں۔ واضح رہے کہ صوبہ جموں میں مسلمان کل آبادی کا قریب 40فیصد ہیں اور10اضلاع میں سے 5 میں مسلم آبادی50فیصد سے ہے جن میں راجوری، پونچھ، کشتواڑ، ڈوڈہ اور رام بن شامل ہیں۔ ریاسی میںسال2011کی مردم شمار ی کے مطابق مسلم آبادی49.66 % او راودھم پور ضلع میں 11فیصد ہے۔ جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن جموں میں3400کے قریب وکلاءمیں سے کم وپیش700مسلم ہیں۔لیکن ان میں سے کسی کو ابھی تک ہائی کورٹ کا جج بننے کا موقع نہیں ملا۔ صوبہ جموں کے سکھ وکلاءکی تعدادجموںوکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن میں10فیصد ہے لیکن ان مین سے بھی کسی کو آج تک جج منتخب ہونے کا موقع نہیں ملا ۔ ذرائع کے مطابق قانون، قواعد وضوابط کے تحت ایسا کہیں بھی نہیں کہ جج اور چیف جسٹس کو نسلی، علاقائی، مذہبی، لسانی، اور تمدنی شناخت کی بنا پر تعینات کیاجائے اور اس میں صرف اس کی اہلیت وقابلیت پیمانہ ہے۔ لیکن یہ بھی کہا جا تا ہے کہ ماضی میں ریاست میں ہمیشہ متعدد پریشرگروپوں اور نئی دہلی میں مسند اقتدار حکمرانوں کی مداخلت سے ججوں کی تعیناتیاں مذہبی اور علاقائی بنیاد وںپر ہوتی رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق ماضی میں اگرچہ جموں سے چند مسلم وکلا کے نام پینل میں ڈالے بھی گئے لیکن سیاست سے وابسگی کی بنا پر ان کی تعیناتیاں ممکن نہ ہو سکیں ۔ان میں نامور فوجداری وکیل مرحوم غلام نبی گونی، ان کے فرزند وسابق ایڈوکیٹ جنرل محمد اسلم گونی اور سابق ایڈوکیٹ جنرل شبیر حسین سلاریہ ، جو بعد میں راجیہ سبھا رکن بھی بنے ، شامل ہیں۔قابلِ ذکر ہے کہ 2012میں جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن نے اس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو دورہ ¿جموں کے دوران ایک میمورنڈم پیش کیاتھا جس میں صوبہ جموں کے مسلموں کو بھی ہائی کورٹ میں نمائندگی دینے کی بات کہی گئی تھی لیکن 2013میں جسٹس علی محمد ماگرے،جسٹس دھیرج سنگھ ٹھاکر ، جسٹس تاشی ربستان اورجسٹس جنک راج کوتوال کے علاوہ 2016میں جسٹس بی ایس والیہ ،جسٹس راما لنگم اور جسٹس الوک آرادے کو تعینات کیاگیا اور جموں سے کسی مسلمان کو جگہ نہیں ملی ۔