پارلیمانی انتخابات کے آخری مرحلے کیلئے سیکورٹی بندوبست چاک و چوبند نشست پر ووٹنگ آج

20 امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ 18.30 لاکھ ووٹران کریں گے
جنوبی نشست اننت ناگ پرماضی میںنیشنل کانفرنس6اور کانگریس4بار فاتح،پی ڈی پی نے بھی2بار بازی ماری
اُڑان ڈیسک
سرینگر؍؍جموں کشمیر میںپارلیمانی انتخابات کے آخری راوئنڈمیں آج ہفتہ کو مثالی سیکورٹی بندوبست کے بیچ پیر پنچال کے آر پار اننت ناگ،راجوری میں20 سیاسی کھلاڑیوں کے مابین انتخابی میدان میں مقابلہ ہوگا اور18لاکھ30 ہزار294رائے دہندگان انکی سیاسی تقدیر کو ووٹنگ مشینوں میں بندکریں گے۔اب تک پارلیمانی انتخابات کے دوران6مرتبہ اس نشست پر نیشنل کانفرنس اور4مرتبہ کانگریس کے علاوہ2بار پی ڈی پی اور ایک بار جنتا دل کے امیدواروں نے جیت درج کی۔ وائس آف انڈیا کے مطابق راجوری ،اننت ناگ پارلیمانی حلقے پرہفتہ کو20امیدواروں کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ18لاکھ30 ہزار294رائے دہندگان ووٹنگ مشینوں میں بندکریں گے۔ اس نشست پر سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور نیشنل کانفرنس کے امیدوار و سابق وزیر میاں الطاف احمد اور اپنی پارٹی کے ظفر منہاس سمیت20امیدوار میدان میں ہیں۔پارلیمانی الیکشن کی جنگ میں شامل امیدواروں میں پنتھرس پارٹی کے ارشد احمد لون،نیشنل لوک تانترک پارٹی کے امتیاز احمد، آل انڈیا فاروڈ بلاک کے جاوید احمد،ڈیموکریٹک پراگراسیو آزاد پارٹی کے محمد سلیم پرے، گریب ڈئموکریٹک پارٹی کے محمد مقبول تیلی ،نیشنل پیپلز فرنٹ کے شیخ مظفر احمد کے علاوہ آزاد امیدوار عبدالروف ملک، عبدالروف نائک،علی محمد وانی، بلدیو کمارا، دلیپ کمار پنڈتا،گلشن اختر، عمران شیخ رویندر سنگھ،سجاد احمد ڈار اورسوشیل کمار شرما شامل ہیں۔وی او آئی کے مطابق اننت ناگ،راجوری پارلیمانی حلقہ انتخاب بھی18اسمبلی حلقوں پر مشتمل ہے،جس میں زینہ پورہ،دمحال ہانجی پورہ،کولگام،دیوسر،دورو،کوکر ناگ،اننت ناگ ویسٹ،اننت ناگ،سرگفورہ بجبہاڈہ،شانگس،پہلگام،نوشہرہ،راجوری،بدھل،تھانہ منڈی،سرنکوٹ،پونچھ حویلی اور مینڈھر شامل ہیں۔اس پارلیمانی نشست میں حد بندی کے بعد ضلع پلوامہ کی تمام اسمبلی نشستوں کے علاوہ شوپیاں اسمبلی نشست کو حذف کیا گیا گیا جبکہ ضلع راجوری اور پونچھ کی7 نشستوں کو شامل کیا گیا۔ وی او آئی کے مطابق اننت ناگ،راجوری پارلیمانی حلقے میں حدبندی کے بعد تشکیل دی گئی7اسمبلی نشستوں کو بھی شامل کیا گیا۔18اسمبلی نشستوں پر پھیلے اس پارلیمانی حلقے میں مجموعی طور پر رائے دہندگان کی تعداد18لاکھ30 ہزار294ہے جن میں سے9لاکھ30ہزا379مرداور خواتین ووٹروں کی تعداد8لاکھ 99ہزار888 خواتین کے علاوہ27خواجہ سرا بھی شامل ہے۔ جنوبی نشست اننت ناگ راجوری کی پارلیمانی نشست انت ناگ،پلوامہ کیلئے25اپریل کو 20امیدواروںکی سیاسی تقدیر سازی ہوگی جبکہ وادی سے پارلیمنٹ جانے کی راہ بھی متعین ہوگی۔جنوبی کشمیر کو جہاں پی ڈی پی کا گڑھ مانا جاتا ہے وہی ماضی میں اس نشست پر نیشنل کانفرنس کی کارکردگی بہتر رہی ہے۔1967سے ہوئے11انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے جہاں6مرتبہ اس نشست پر اپنی فتح کا پرچم لہرایا ہے جبکہ ماضی میں انکی حریف جماعت کانگریس نے4 دفعہ کامیابی حاصل کی۔پی ڈی پی نے 2 اور جنتا دل کے امیدوار نے بھی ایک ایک بار اس نشست پر مخالفین کو چاروں شانے چت کیا ہے 1967میں اس نشست پر ہوئے انتخابات میں کانگریس کے محمد شفیع قریشی کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا جبکہ 1971میں ہوئے انتخابات کے دوران کانگریس کے ہی محمد شفیع قریشی نے آزاد امیدوار پیر غلام نبی شاہ کو تقریباً 60ہزار ووٹوں سے ہرا دیا۔ محمد شفیع قریشی نے ایک لاکھ 50ہزار 827ووٹ حاصل کئے جبکہ غلام نبی شاہ نے 90ہزار 434ووٹ حاصل کئے۔ اس نشست پر 1977میں ہوئے انتخابات کے دوران محمد شفیع قریشی نے ہیٹرک مارتے ہوئے تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کی اور اپنے نزدیکی مد مقابل آزاد امیدوار عبدالرزاق میر کو 8ہزار ووٹوں سے ہرا دیا۔ اس انتخاب میں محمد شفیع قریشی نے 79ہزار 742ووٹ حاصل کئے جبکہ عبدالرزاق میر نے 71ہزار 411ووٹ حاصل کئے۔ 1980میں نیشنل کانفرنس نے کانگریس کی لگاتارجیت پر بریک لگاتے ہوئے اس نشست کو اپنے نام کر دیا جبکہ نیشنل کانفرنس کے امیدوار نے اپنے نزدیکی مد مقابل آزاد امیدوار کو تقریباً 84ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ نیشنل کانفرنس کے امیدوار غلام رسول کوچک نے ایک لاکھ 79ہزار 20ووٹ حاصل کئے جبکہ آزاد امیدوار علی محمد نائک نے 95ہزار 50ووٹ حاصل کئے۔ اننت ناگ پارلیمانی نشست پر 1984میں نینل کانفرنس نے ایک مرتبہ پھر کامیابی حاصل کی اور بیگم اکبر جہاں نے تقریباً 82ہزار ووٹوں سے اس نشست کو اپنے نام کر لیا۔ بیگم اکبر جہاں پہلی خاتون تھی جس نے اس نشست پر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے 2لاکھ 40ہزار 973ووٹ حاصل کئے جبکہ ان کے مد مقابل کانگریس کے پیر حسام دین نے ایک لاکھ 58ہزار963ووٹ حاصل کئے۔ 1989میں نیشنل کانفرنس نے بھی ااس نشست پر ہیٹرک مار دی اور پارٹی کی طرف سے نامزد امیدوار پیارے لال ہنڈو نے آزاد امیدوار عبدارشید خان کو شکست دی۔ ادھر 1996میں اس نشست پر جنتا دل کے امیدوار محمد مقبول نے کامیابی کا پرچم لہرایا اور انہوں نے اپنے نزدیکی مد مقابل کانگریس کے تاج محی الدین کو تقریباً 52ہزار ووٹوں سے شکست دے دی۔ محمد مقبول ڈار نے ایک لاکھ 17ہزار 221ووٹ حاصل کئے جبکہ تاج محی الدین نے 59ہزار 137ووٹ حاصل کئے۔ 1998میں مفتی محمد سید نے کانگریس کی ٹکٹ پر اس نشست کو اپنے نام کر دیا اور انہوں نے نیشنل ک کانفرنس کے محمدیوسف ٹینگ کو تقریباً 52ہزار ووٹوں سے ہرا دیا۔ سابق وزیر اعلیٰ مفتی محمد سید نے مجموعی طور پر اس نشست پر ایک لاکھ 20ہزار 444ووٹ حاصل کئے جبکہ نیشنل کانفرنس کے محمد یوسف ٹینگ نے 68ہزار 444ووٹ حاصل کئے۔ 1999کے انتخابات میں نیشنل کانفرنس کے امیدوار علی محمد نائک نے مفتی محمد سعید جو اس نشست پر آزاد امیدوارکی حیثیت سے کھڑے ہوئے تھے کو تقریباً 13ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ نیشنل کانفرنس کے امیدوار علی محمد نائک نے 38ہزار 745جبکہ مفتی محمد سعید نے 25ہزار 253ووٹ حاصل کئے۔ محبوبہ مفتی 2004کے انتخابات میں دوسری ایسی خاتون ثابت ہوئی جس نے اننت ناگ پارلیمانی نشست پر کامیابی حاصل کی۔ محبوبہ مفتی نے اپنے مد مقابل نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر محبوب بیگ کو تقریبا ً 39ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ محبوبہ مفتی نے 74ہزار 436جبکہ ڈاکٹر مرزا محبوب بیگ نے 35ہزار 498ووٹ حاصل کئے۔وی او آئی کے مطابق 2009کے پارلیمانی انتخابات کے دوران نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر محبوب بیگ نے اپنے مد مقابل پی ڈی پی کے پیر محمد حسین کو تقریباً 5ہزار ووٹوںسے ہرا دیا۔ ڈاکٹڑ محبوب بیگ نے 1لاکھ 48ہزار 317جبکہ پیر محمد حسین نے 1 لاکھ 43ہزار 93ووٹ حاصل کئے۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے سال2014،میں اس نشست پر دوسری مرتبہ کامیابی حاصل کی اور اپنے نزدیکی مد مقابل نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر محبوب بیگ کو65ہزار417ووٹوں سے ہرادیا۔محبوبہ مفتی نے2لاکھ429جبکہ مرزا محبوب بیگ نے ایک لاکھ35ہزار12ووٹ حاصل کیں۔2019میں تاہم محبوبہ مفتی کو اس نشست پر شکست ہوئی اور نیشنل کانفرنس کے امیدوار جسٹس(ر) حسنین مسعودی نے اپنے نزدیکی مد مقابل کانگریس کے غلام احمد میر کو6676ووٹون سے ہرادیا۔جسٹس(ر) حسنین نے74ہزار436جبکہ غلام احمد میر نے35ہزار498ووٹ حاصل کیں۔اس بار اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا انتظار 25 مئی اور بعد میں 4جون کو ہوگا جب پارلیمانی انتخابات کے نتائج ظاہرہونگے۔