208

بی جے پی پربھی بغاوت کے منڈلاتے بادل!

بی جے پی پربھی بغاوت کے منڈلاتے بادل!
جموں میں نئی سیاسی پارٹی بنانے کی تیاریاں زوروں پر، اعلان جلد متوقع
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی طرح بغاوت کے بادل بھارتیہ جنتا پارٹی کی جموں وکشمیر اکائی پر منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں اور پارٹی کی ممکنہ توڑ پھوڑ کا اندیشہ ہے۔ باوثوق ذرائع نے اڑان کو بتایاکہ بھاجپاسے وابستہ متعدد اراکین قانون سازیہ بھی پارٹی سے کنارہ کشی کرنے کے موڑ میں ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ متعدد اراکین قانون سازیہ ایسے ہیں جن سے متعلق کئی شکایات ہیں اور مرکزی ہائی کمان کے پاس ان کی اچھی رپورٹ نہیں۔اس لئے انہیں آئندہ دوبارہ سے منڈیٹ ملنے کے آثار کم دکھائی دے رہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق درپردہ جموں کے لئے ایک نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی کوششیں جاری ہیں جس میں مختلف سیاسی سماجی ، تجارتی تنظیموں کے لیڈران کے درمیان صلاح ومشورہ، بند کمروں میں میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھاجپا سے وابستہ ممبر اسمبلی بسوہلی چوہدری لال سنگھ بہت جلد اعلان بغاوت کر کے اپنی نئی سیاسی جماعت کا اعلان کرنے جارہے ہیں جس میں کانگریس، نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی، پینتھرز پارٹی سے وابستہ بھی کئی چہرے ایکساتھ دیکھنے کو ملیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ سابقہ وزیر اور کانگریس لیڈر شام لال شرما جنہوں نے چند ماہ قبل باقاعدہ طور جموں وکشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے ریاستی نائب صدر عہدہ سے استعفیٰ دے دیاتھا، بھی اس نئی سیاسی جماعت کی تشکیل میں شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق لال سنگھ اِ ن دنوں ا س سیاسی پارٹی کے ساتھ متعدد سیاسی، سماجی، تجارتی تنظیموں کے نامی گرامی چہروں کو جوڑنے کے ساتھ ساتھ جموں کے نامی گرامی وکلاءسے بھی رابطے قائم کر کے انہیں اپنے ساتھ جوڑنے کی کوششیں جاری ہیں۔ تین برس تک بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں رہنے کے بعد بھی مسائل ومشکلات کے ازالہ میں کوئی خاطر خواہ کمی واقع نہ ہونے پر جموں میں ایک حلقہ کے اندر یہ سوچ پنپ رہی ہے کہ کشمیر مرکوز سیاسی جماعتیں’نیشنل کانفرنس‘، پی ڈی پی ہوں یا پھر قومی سیاسی جماعتیں بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس وہ جموں صوبہ کو لیکر کوئی زیادہ فکر بند نہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اب ایک حلقہ کا ماننا ہے کہ اب جموں کے مسائل ومشکلات کے ازالہ کے لئے مقامی مضبوط ترین علاقائی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے ۔ان کا ماننا ہے کہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو جموں کے لوگوں سے کچھ لینا دینا نہیں، قومی مفادات کے نام پر جموں کے لوگوں کے مسائل ومطالبات دب کر رہ جاتے ہیں، اس کے برعکس کشمیر نشین علاقائی سیاسی جماعتیں چاہئے وہ نیشنل کانفرنس ہو یا پھر پی ڈی پی، وادی کشمیر کے لوگوں کے دفاع کے لئے ہر ممکن کام کر رہی ہیں۔ادھر ممبر اسمبلی اور سابق وزیر چودھری لال سنگھ نے ایک نئی جماعت قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کواتوار کے روز جموں میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں لانچ کیاجائے گا۔ اس جماعت کا نام ’ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن‘ رکھا گیا ہے۔ لال سنگھ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ’غیرسیاسی جماعت‘ ہے اور اس کے قیام کا مقصد ریاست کی ڈوگرہ برادری کی عزت و وقار کو بحال کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کٹھوعہ عصمت ریزی و قتل کیس کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے تحقیقات کرانا ہے۔ تاہم بعض میڈیا رپورٹوں میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ لال سنگھ اس جماعت کو بعدازاں ایک سیاسی جماعت میں تبدیل کریں گے۔ لال سنگھ نے نامہ نگاروں کو بتایا ’میں اور میرے لوگ کٹھوعہ واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کرانے کے چکر میں پہلے سے ہی پڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم جموں کا بھی بھلا کریں گے۔ کل (اتوار کے روز) ہم ایک نان پولیٹکل آرگنائزیشن بھی لانچ کرنے جارہے ہیں۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ جموں کیسے چلتا ہے۔ اس کا ہم نے ایک خوبصورت نام رکھا ہے۔ ہم نے اس کا نام ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن رکھا ہے۔ ہم کل آپ کو پارٹی کے نظریہ سے بھی آگاہ کریں گے‘۔ انہوں نے کہا ’میں جو کچھ کررہا ہوں وہ میں جموں اور جموں کے لوگوں کے لئے کررہا ہوں۔ جموں کے ساتھ گذشتہ 70 برسوں سے ناانصافی ہورہی ہے۔ میں اس کے خلاف لڑرہا ہوں‘۔ لال سنگھ نے سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو پرو ریپسٹ اور پرو کرمنل قرار دیتے ہوئے کہا ’لوگوں نے ایک چھوٹی سے مانگ سامنے رکھی تھی۔ وہ مطالبہ کررہے تھے کہ کٹھوعہ واقعہ کی سی بی آئی انکوائری کرائی جائے۔ ہماری بہن محبوبہ مفتی نے دودھ اور پانی کو الگ کرنے کے چکر میں دودھ بھی پھاڑ دیا اور پانی بھی خراب کردیا۔ جموں کے لوگوں پر لیبل لگایا کہ تم زانیوں کے حامی ہو۔ وہ (مفتی) خود پرو ریپسٹ ، پرو کرمنل اور پرو ملی ٹینٹ ہیں۔ یہ میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ انہوں نے ایک ایسے بندے سے تحقیقات کرائی، جو خود ریپ کیس میں ملوث رہ چکا ہے۔ وہ سوا سال تک ریپ کیس میں جیل میں بند رہا ہے‘۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی بی جے پی کے اراکین قانون سازیہ جن کے خلاف یاتو پارٹی سطح پر انکوائری چل رہی ہے یا پھر ان کے خلاف شکایات ہیں، لال سنگھ ان سے بھی رابطہ کر نے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ان کی حمایت حاصل کر کے نئی پارٹی بنائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں