تازہ ترین خبر
Home / جموں شہر

جموں شہر

شہر جموں میںدیوالی سے قبل کی خریداری جاری نوٹ بندی اور جی ایس ٹی عمل آوری کا اثر واضح دکھائی دے رہاہے

الطاف حسین جنجوعہ
جموں//جموں میں روشنی کے تہوار دیوالی سے قبل کی خریداری جاری ہے۔البتہ ہندو¿طبقہ کے اس اہم تہوار پر بازاروں میں ہونے والا غیر معمولی رش اس مرتبہ صرف چند مخصوص دکانوں پر ہی دکھائی دے رہاہے۔ دیوالی تہوار کے پیش نظر حسب سابق تاجر برادری نے صارفین کے لئے خاص انتظام کئے ہیں۔ مختلف چیزوں کی خریداری پر دلچسپ آفر بھی دیئے جارہے ہیں لیکن خریداروں کا اتنا زیادہ رد عمل دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی عمل آوری کا واضح اثر شہر جموں کے بازاروں میں دیکھاجاسکتا ہے۔سال گذشتہ کے قابل کم ہی، سہی لیکن خریداری کا سلسلہ جاری ہے اور عام دنوں کے مقابلہ دکانوں پر بھیڑ دکھائی دے رہی ہے لیکن یہ خریداری چند مخصوص سامان کی دکانوں سے ہی ہورہی ہے۔الیکٹرانک سازوسامان کی دکانوں پر کم چہل پہل ہے۔ چندنامی ایک لڑکی نے بتایاکہ مودی حکومت نے اس اہم تہوار کی خوشیوں کو پھیکا کر دیا۔ ان کا کہناتھاکہ دیوالی کے پیش نظر ہرسال وہ کم سے کم 10سے 20ہزار روپے کی خریداری کرتی تھیں لیکن اس مرتبہ قیمتوں میں اضافہ سے وہ اتنی شاپنگ نہیں کرپائیں گیں۔پریڈ بازار جموں میں برتنوں کی خریداری کر رہی ایک خاتون کا کہنا تھاکہ اس اہم تہوار پر بالکل ہی خریداری بند تو نہیں کرسکتے ، البتہ وہ صرف ضروری ضروری چیزیں ہی خرید رہی ہیں جوکہ صر ف اس تہوار کے دن استعمال میں لائی جائیں گیں۔ مٹھائیوں پر سلیب ریٹس5فیصد،12فیصد اور28فیصد ہیں جس سے گاہک خوش نہیں ہیں۔ یاد رہے کہ دیوالی پرگاڑیاں، موٹرسائیکل، سکوٹیاں، فرنیچر،ٹیلی ویژن، فریج، کولر، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، موبائل فون وغیرہ پرتاجر کافی زیادہ ڈسکاو¿نٹ دیتے تھے لیکن اس مرتبہ جی ایس ٹی لگنے کی وجہ سے وہ چاہ کر بھی اتنا زیادہ ڈسکاو¿نٹ نہیں دے پارہے جس سے ان کے کاروبار پر اثر پڑا ہے۔ اس مرتبہ الیکٹریک سازوسامان کی قیم ہی خریدو فروخت ہورہی ہے جبکہ کپڑے، مٹھائیاں اور گھر میں سجاوٹ کی چیزیں تو معمول کے مطابق ہی خریدی جارہی ہیں۔ برتنوں کی دکانوں، مٹے کے دیئے، مٹھائی کی دکانوں اور سجاوٹی سازوسامان والی دکانوں پر ہی زیادہ رش دکھائی دے رہاہے۔صارفین کے ساتھ ساتھ تاجر برادری بھی اس بارکافی پریشان ہے۔جموںچیمبرآف کامرس صدرراکیش گپتا کا کہنا ہے کہ تاجروں کو اس تہواری سیزن سے کوئی خاص توقع نہیں ہے، کیونکہ خریداروں کی بہت کمی ہے۔ ایک قلیل مدت میں غیر منصوبہ بند طریقہ سے جی ایس ٹی کی عمل آوری کا اثر صاف بازار پر دکھ رہاہے۔ انہوں نے مزید بتایاکہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے جموں کے تجارت کو کافی نقصان پہنچایا اور بچی کچھی کسر لکھن پور پر ٹول ٹیکس نے نکال دی۔ چھوٹے اور متوسط طبقہ کے تاجروں کے لئے اپنے وجود کو بھی برقرار رکھنا مشکل ہورہاہے۔یہی صورتحال اودھم پور، سانبہ، کٹھوعہ، سانبہ، ریاسی، رام بن ، کشتواڑ، ڈوڈہ، پونچھ اور راجوری اضلاع کے قصبہ جات وشہروں میں بھی دیکھی جارہی ہے۔

دفعہ35-Aریاستی عوام کے محفوظ مستقبل کا ضامن

دفعہ35-Aریاستی عوام کے محفوظ مستقبل کا ضامن
خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑخانی حقِ ملکیت ختم کرنے کی گھناو¿نی سازش
سول سوسائٹی کشمیر کی رابطہ کمیٹی کے ممبران کی جموں میں سیاسی وسماجی لیڈران سے ملاقاتیں
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//دفعہ 35-A کے تحت جموں و کشمیر کے لوگوں کے ملکیتی حقوق کا تحفظ کرنے کی خاطر حال ہی میںسرینگر میں سول سوسائٹی کی طرف سے نامزد رابطہ کمیٹی کا5رکنی وفد نے جموں میں متعدد سیاسی، سماجی تنظیموں اور لیڈران سے ملاقاتیں کیں۔14 اکتوبر 2017ءکورابطہ کمیٹی کے ممبران ایڈوکیٹ غلام نبی شاہین ایڈوکیٹ میر جاوید ،مظفر شاہ سنیئر نائب صدر اے۔این۔سی ، مفتی ناصرالاسلام اور سردار جگموہن سنگھ رینہ جموں پہنچے تھے جہاں پر انہوں نے انفرادی و اجتماعی ملاقاتیں کر کے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن بارے اپنا موقف رکھااور یہاں کے لوگوں کا نقطہ نظر جانا۔ ذرائع کے مطابق رابطہ کمیٹی ممبران نے گل چین سنگھ چاڑک، مہاسبھا، گاو¿ رکشھا کے صدر، جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن جموں کے وفد کے علاوہ آئی ڈی کھجوریہ، محمد اسلم، نریندر کمار، شجا ظفر، سردار گیان سنگھ، راج کمار شرما اور تریپات سنگھ کے ساتھ انفرادی اور اجتماعی ملاقاتیں کیں۔ذرائع کے مطابق بار صدر بی ایس سلاتھیہ کے علاوہ باقی بیشتر لیڈران نے اس موضوع پر بحث کرنے کی بات کی اور یہ کہاکہ خصوصی پوزیشن سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی جانی چاہئے۔ پیر کے ر وز رابطہ کمیٹی کے ممبران نے پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا اور صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے کئے سوالات کے جواب بھی دیئے۔انہوں نے بتایاکہ انہوں نے صوبہ جموں کے لوگوں کو دفعہ 35-A کے بارے میں سازشی ہتھکنڈوں کو اچھے انداز میں سمجھا نے کی کوشش کی جس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہے۔ انہوں نے کہاکہ دفعہ 35-A کی برقراری ریاست کے تینوں خطوں کے لئے بہت ضروری ہے۔ خصوصی پوزیشن جموں وکشمیر کے سبھی خطوں کے لوگوں کے وسیع ترمفاد میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ خ±دا نخواستہ اگر دفعہ35-A پر کاری ضرب لگائی گئی تو سب سے پہلے جموں کے لاکھوں شہریوں کے شہری حقوق کا نہ صرف خاتمہ ہو گا بلکہ منصوبہ بند سازش کے تحت بیداری اور بے رحمی کے ساتھ ریاست کے لوگوں کا انخلا ءبھی عمل میں لایا جائے گا اور جموںکے لوگوں کی سرزمین جموں کے لوگوں کی نہیں رہے گی ۔اسی طرح کشمیر اور لداخ کے لوگوں کا وطن غیروں کا وطن بن کے رہے گا۔ 35-A کو آئین سے خارج کرنے کے پیچھے پوری ریاست جموں و کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے ب±نیادی حقوق اور حقِ ملکیت ختم کرنے کی ایک گھناونی سازش کا رفر ما ہے ۔اگر ریاستی عوام اس یلغار کے خلاف بیدار نہ ہو جائیں تو ج±رم ضعیفی کی صورت میں مرگ مفاجات ریاستی عوام کا مقدر بن کر رہ جائے گی۔انٹرنیشنلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر اندرجیت کھجوریہ نے اڑان کو بتایاکہ انہوں نے دوران ملاقات یہ موقف رکھا کہ اس وقت ریاست جموں وکشمیر کے تینوں خطوں کی عوام کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ دفعہ35-Aکے خلاف اُٹھ رہی آوازوں کے خلاف صف ِ آر ہوجائیں اور جموں ، کشمیر لداخ خطہ کی یکجہتی، وحدانیت اور یکجہتی وسالمیت کو یقینی بنائیں۔

 

روڑ سیفٹی آڈٹ ناگزیر:دویندر رانا دیہی علاقوں میں معقول ٹرانسپورٹ دستیاب رکھنے پرزور

اڑان نیوز
جموں//نیشنل کانفرنس صوبائی صدر دویندر سنگھ رانا نے سڑک حادثات میں روز افزوں ہورہے اضافہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناقص ٹریفک نظم ونسق ، تیز رفتاری اور بے احتیاطی سے گاڑی چلانے کے لئے متعلقہ افسران پر ذمہ داری عائد کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ دیہات میں ٹرانسپورٹ گاڑیوں کی کمی سے اوورلوڈنگ ہوتی ہے نتیجہ کے طور پر دلخراش سڑک حادثات رونما ہورہے ہیں ۔ بیرپور وجے پور میں پیر کی صبح ہوئے حادثہ کے زخمی ہوئے افراد کے رشتہ داروں کے ساتھ گورنمنٹ میڈیکل کالج اسپتال جموں میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے رانا نے کہاکہ ہم ناقص نظم ونسق اور دیگر عوامل کی وجہ سے سڑک حادثات میں لوگوں کو مرتے اور زخمی ہوتے نہیں دیکھ سکتے۔ انہوں نے ڈاکٹروں سے زخمی ہوئے افراد کی صورتحال بارے پوچھا اور کہاکہ انہیں مفت بہتر سے بہتر علاج فراہم کیاجائے۔ دویندر سنگھ رانا نے کہاکہ اسمبلی حلقہ نگروٹہ کے دیہات میں مسافر ٹرانسپورٹ کی کافی کمی ہے جس سے تیز رفتاری اور اوورلوڈنگ ایک معمول ہے۔ این سی ریاستی نائب صدر ٹھاکر کشمیرا سنگھ ،دین محمد اور رشیدہ بیگم بھی ان کے ہمراہ تھیں، جنہوں نے اسپتال میں کافی وقت گذارا اور زخمیوں کے رشتہ داروں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ رانا نے کہاکہ روڑ سیفٹی کا آڈٹ ہونا چاہئے۔ دور دراز علاقہ جات، دیہات میں مختلف روٹوں پر زیادہ سے زیادہ ٹرانسپورٹ گاڑیاں چلائی جائیں۔ ساتھ ہی ٹریفک قواعد وضوابط پر بھی عمل آوری کو یقینی بنایاجائے۔

رابطہ سڑکوں کو مرحلہ وار طریقے پر اَپ گریڈ کیا جائے گا:بالی بھگت حلقہ انتخاب رائے پور دومانہ میں بلیک ٹاپنگ کام کا آغاز کیا

اڑان نیوز
جموں//صحت و طبی تعلیم کے وزیر بالی بھگت نے پنچایت ہقال حلقہ انتخاب رائے پور ۔ دومانہ میں 1.04کرو ڑروپے کی لاگت سے بلیک ٹاپنگ کام کا آغاز کیا۔تین کلومیٹر لمبی سڑک جس پر کل بلیک ٹاپنگ کا کام شروع ہوا مقامی لوگوں کا یہ دیرینہ مطالبہ تھا۔ اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ سڑک رابطہ لوگوں کی ترقی کے لئے بہت اہم ہے اور حکومت نے اس خاص سیکٹر کی طرف توجہ دینے کے لئے اسے ترجیحات میں شامل کیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے وجود میں آنے سے اب تک رائے پور۔دومانہ کے 150کلومیٹر لنک روڈس کو بلیک ٹاپنگ کی گئی ۔حکومت کے اس اعادہ کو دہراتے ہوئے وزیر نے کہا کہ دیہی علاقوں کی خصوصی توجہ دی جارہی ہے ۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے اور ایک منظم طریقے سے ترقیاتی کاموں کو انجام دینے میں تعاون پیش کریں۔انہوںنے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ وہ اعلیٰ معیار کو مد نظر رکھتے ہوئے ترقیاتی کاموں کو انجام د یں اور اس سلسلے میں کسی بھی شکایت کی گنجائش نہ رکھے۔

کے اے ایس خواہشمند امیدوار پی ایس سی کے خلاف سراپا احتجاج 2016مینز امتحانات ملتوی کرنے کا مطالبہ

اڑان نیوز
جموں//ریاستی سطح کے تقابلی امتحان کشمیر ایڈمنسٹریٹیو سروسز(KAS)خواہشمند امیدوارایکبار پھر ’’جموں وکشمیرپبلک سروس کمیشن‘‘کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔2016کے اے ایس مینز (تحریری امتحان)کے لئے بے وقت جاری ڈیٹ شیٹ پر بڑی تعداد میں نوجوانوں نے پریس کلب کے باہر پی ایس سی کے خلاف احتجاج کیا اور مطالبہ کیاکہ امتحانی ڈیٹ شیٹ ملتوی کی جائے کیونکہ اس سے امیدواروں کے دیگر امتحانات کا شیڈیول متاثر ہورہاہے جس کے لئے بہت پہلے Date Sheetجاری کی گئی ہیں۔احتجاج کر رہے امیدواروں نے کہاکہ پی ایس ای نے نتائج ظاہر کرنے میں 8ماہ لگادیئے اور اب امیدواروں کو صرف ایک ماہ کا وقت دیاگیا۔ نیشنل سٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (نسوئی)جموں یونیورسٹی صدرویشال کوتوال کی قیادت میں احتجاج کر رہے امیدواروں نے بتایاکہ پی ایس سی میں پروفیشنل ازم، شفافیت اور جوابدہی کا فقدان ہے ۔بغیر کسی طریقہ کار وضابطہ کے اپنی من مرضی کے تحت فیصلے لئے جارہے ہیں۔ اب یہ معمول بن گیا ہے کہ ہرپی ایس سی امتحان کے بعد متاثرہ امیدوار عدالت کا رخ کرتے ہیںجس کی وجہ سے غیر ضروری تاخیر ہورہی ہے،نوجوان ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔ کے اے ایس 2016مینز امتحانات کو ملتوی کرنے کی مانگ کرتے ہوئے احتجاجی نوجوانوں نے بتایاکہ امتحان ملتوی کرنے کی یہی وجہ نہیں بلکہ کئی وجوہات ہیں۔ پی ایس سی نے حال ہی میں2014مینز امتحان کے نتائج ظاہر کئے، جس میں شامل بہت سارے امیدوار ایسے بھی ہیں جو2016مینز امتحان میں بھی حصہ لے رہے ہیں۔ اس لئے بہتر یہ رہے گاکہ پہلے 2014مینز کا انٹر ویو لیاجائے پھر اس کے بعد 2016مینز امتحان منعقد کیاجائے اگر ایسا نہیں کیاجاتا تو سلیکٹ امیدواروں کے لئے مشکل ہوجائے گی۔ 7دنوں کے اندر انٹرویو کے لئے تیاری نہیں کی جاسکتی۔ 429امیدوار جنہیں پی ایس سی نے دوبارہ نکالی گئی کٹ آف لسٹ سے باہر کر دیاتھا، کو عدالت نے مینز امتحان میں بیٹھنے کی عبوری راحت دی ہے، اس میں بھی حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔ یونین پبلک سروس کمیشن کی طرف سے ملکی سطح پر لیاجانے والاوقاری امتحانIASبھی 28اکتوبر سے 3نومبر2017تک منعقد ہورہاہے۔ دونوں امتحانات کا طریقہ کار، نصاب اعلیحدہ ہے، بہت سارے امیدوار ایسے ہیں جوKASاور IASکے امتحانات دے رہے ہیں۔ایسے میں بہت سارے امیدوار متاثر ہوں گے۔ سی جی ایل ٹائر تھرڈ امتحان بھی ہونے جارہاہے۔ امتحان شیڈیول سے محض ایک ماہ پہلے ڈیٹ شیٹ جاری کی گئی، وہ بھی ایسی صورتحال میں جب کہ معاملہ عدالت میں لٹکا ہواہے، کوئی بھی امیدوار یہ توقع نہیں کر رہاتھا کہ اتنے قلیل نوٹس پر امتحانات منعقد ہوں گے۔ احتجاج میں اکشے، راگہو، مکیش ، روہت، جگدیپ ، بشیر احمد، وکرم، عارف احمد، اعجاز احمد، گلزار جموال اور راہل شرما بھی شامل تھے۔

جموں وکشمیررہبرِ تعلیم ٹیچرز فورم کے انتخابات منعقد… عبدالعزیز چیئرمین ،ونود شرما صدر اور سلیم ساگرجنرل سیکریٹری منتخب

اڑان نیوز
جموں//آل جموں وکشمیر رہبرِ تعلیم ٹیچرز فورم کے انتخابات سنیچروار کو جموں اور سرینگر میں بیک وقت منعقد ہوئے۔ جموں میں چندر بھاگہ ہال اور سری نگر میں بخشی سٹیڈیم میں امیدواروں نے ووٹ ڈالے۔غازی عبدالعزیز نے فورم چیئرمین ، ونود شرما نے ریاستی صدر اور محمد سلیم ساگرنے جنرل سیکریٹری عہدہ کے انتخابات جیت لئے۔ واضح رہے کہ فورم کے الیکشن کمیشن نے مذکورہ الیکشن کیلئے باضابطہ ایک نوٹیفکیشن جاری کی تھی جس کی رو سے چیئرمین عہدے کیلئے پرویز اقبال شاہ اور غازی عبدالعزیز ، اسٹیٹ پریذیڈنٹ کیلئے ونود کمار شرما اور حمایت اللہ وانی اور جنرل سیکریٹری کیلئے قاضی سلیم اور سلیم ساگر نے اپنے نامزدگی کے فارم داخل کئے تھے ۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے الیکشن کیلئے 2 بوتھ جن میں جموں صوبہ کیلئے چندرباغ میونسپل پارک جموں اور صوبہ کشمیر کیلئے بخشی اسٹیڈیم سرینگر مقرر کئے تھے ۔ پولنگ دن کے 11 بجے بیک وقت دونوں صوبوں میں شروع ہوئی اور دن کے 2 بجے اختتام پذیر ہوئی ۔ پولنگ کی شرح 90 فیصد رہی ۔ ووٹنگ کی گنتی مکمل ہونے کے بعد غازی عبدالعزیز ، ونود کمار شرما اور سلیم ساگر کو بالترتیب چیئرمین ، اسٹیٹ پریذیڈنٹ اور جنرل سیکریٹری منتخب قرار دیا گیا ۔ کمیشن کے ممبران نے اعلان کے بعد منتخب شدہ عہدیداران میں باضابطہ طور اسناد تقسیم کئے ۔ اختتام پر منتخب شدہ چیئرمین اور جنرل سیکریٹری نے ضلع ذمہداران اور ورکنگ کمیٹی ممبران کو خطابات سے نوازا اور رہبر تعلیم کی امنگوں پر پورا اترنے کا عہد دہرایا ۔ جموں میں الیکشن نجم الحسن جعفری، گل زبیر احمد، منظور احمد خان اور راجیش سنگھ کی سرپرستی میں ہوا۔ رہبرِ تعلیم اساتذۃ فورم ضلع صدر پونچھ سید شاہ نواز حسین اور زونل صدر سرنکوٹ سید محمد یوسف شاہ نے نئے عہدادران کو مبارک باد پیش کی ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ہے۔ شاہ نواز نے امید ظاہر کی ہے کہ مذکورہ عہدادران رہبرِتعلیم اساتذہ کے مسائل ومطالبات کو اجاگر کرنے میں اہم رول ادا کریں گے۔

جموں میں ڈینگو بخار کا سایہ ست شرما نے بخشی نگراور سروال اسپتالوں کا دورہ کیا

اڑان نیوز
جموں//بی جے پی ریاستی صدر اور ایم ایل اے ست شرما نے بخشی نگر اور سروال اسپتالوں کا دورہ کر کے وہاں پر مریضوں کے لئے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔انہوں نے خاص طور سے ڈینگو بخار سے متاثرہ مریضوں کیلئے دستیاب سہولیات کا جائزہ لیا۔ اسپتال انتظامیہ سے فراہم کی جارہی سہولیات ِ خدمات بارے تفصیلی جانکاری حاصل کی۔ ممبر موصوف نے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ کسی قسم کی کوتاہی نہ برتی جائے، اگر ادویات یا دیگر ضروری چیزوں کی کمی ہے، اس کی اطلاع فوری اعلیٰ حکام کو دی جائے لیکن مریضوں کے علاج ومعالجہ میں کسی قسم کی کمی نہ رکھی جائے۔ انہوں نے جلد سے جلد ٹسٹ رپورٹ فراہم کرنے پربھی زور دیا۔ڈی سی جموں راجیو رانجن، پرنسپل جی ایم سی ڈاکٹر سونندا رینہ، ایم ایس سروال اسپتال ڈاکٹر رینو کھجوریہ بھی ان کے ہمراہ تھیں۔

امت شاہ کے فرزند اجے شاہ کی کمپنی کا تنازعہ عدالت عظمیٰ کے دو موجودہ ججوں کی سربراہی میں انکوائری کرائی جائے:کانگریس

اڑان نیوز
جموں//آل انڈیا کانگریس کمیٹی(AICC)کے ترجمان ڈاکٹر اجے کمار نے کل یہاں جموں میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بھاجپا کے قومی صدر امت شاہ کے فرزند اجے شاہ کی کمپنی سے متعلق حالیہ تنازہ پر کئے سوال کھڑے کئے۔ انہوں نے کہاکہ پوری قوم الزامات کی سچائی جاننا چاہتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ وزیر اعظم نریندر مودی کو فوری طور پر امت شاہ سے استعفیٰ لیکر عدالت عظمیٰ کے دو موجودہ ججوں کی سربراہی میں آزادانہ انکوائری کرانی چاہئے۔ پریس کانفرنس میں پی سی سی سنیئر نائب صدر شام لال شرما، رمن بھلہ اور رویندر شرما بھی موجود تھے۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے متعدد قومی صدور نے ایسے حالات اور الزامات کی مثالیں قائم کی ہیں جن میں جین حوالہ معاملہ میں لال کرشن ایڈوانی، پورتی گھوٹالہ میں بنگارو لکشمن اور نتن گڈکری اور اب امت شاہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بڑے بڑے دعوے کرنے والے نریندر مودی کے لئے یہ امتحان کی گھڑی ہے، انہیں فوری امت شاہ سے استعفیٰ لینا چاہئے۔

لفٹیننٹ جنرل سرنجیت سنگھ نے وائٹ نائٹ کارپس کی کمان سنبھالی

نیوزڈیسک
اودھم پور//لیفٹیننٹ جنرل سرنجیت سنگھ نے وائٹ نائٹ کارپرس کا عہدہ سنبھالا ہے۔ انہوں نے عہدہ کا چارج لیفٹیننٹ جنرل اے کے مشرا سے لیا۔اے کے شرما کے اعزاز میں الوداعی پارٹی کا بھی اہتمام کیاگیا جس میں فوجی افسران نے ان کے رول کی تعریف کی گئی۔ اودھم پور نشین دفاعی ترجمان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل سرنجیت سنگھ کو سال 1981کو سکھ لائٹ انفینٹری رجمنٹ میں کمیشنڈ تعینات ہوئے تھے۔ وہ ولنگٹن آرمی وار کالج کے ، ڈی ایس ایس سی اور نیشنل ڈیفنس کالج نئی دہلی کے طالبعلم رہے ہیں۔ جنوبی پیر پنجال خطہ میں ایک بریگیڈ اور ڈویژن کی بھی وہ کمانڈ کر چکے ہیں۔ عہدہ کا چارج سنبھالتے وقت لیفٹیننٹ جنرل نے سبھی کودشمن کے ناپاک ارداوں کو ناکام بنانے کے لئے محنت ولگن اور قومی جذبہ کے ساتھ کام کرنے کی تاکید کی۔

جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن ریاست کے سبھی شہریوں کے محفوظ مستقبل کی ضامن

جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن ریاست کے سبھی شہریوں کے محفوظ مستقبل کی ضامن
علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کے بجائے ریاست اتفاق واتحاد کو مضبوط کرنے کی ضرورت:تاریگامی
جموں میںسی پی آئی (ایم)کاکنونشن منعقد، کیرلہ میں آر ایس ایس کے ظلم وستم اور غلط پروپگنڈہ کے خلاف قرار داد پاس
الطاف حسین جنجوعہ
جموں//آئین ہند کے تحت ریاست جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی پوزیشن کو کمزور کرنے کے لئے حکومتی سطح پر منظم کوششیں کی جارہی ہیں۔ دفعہ370کولگاتار کمزور کیاجارہاہے اور اس وقت یہ محض’زرسایہ‘کی مانند رہ گیاہے۔ ان باتوں کا اظہار سی پی آئی (ایم )سنیئر رہنما اور ایم ایل اے کولگام محمد یوسف تاریگامی نے یہاں جموں میں منعقدہ ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایک ایسے وقت میں جب کشمیر کے لوگوں میں احساس اعلیحدگی ناقابل تصور سطح تک پہنچ چکا ہے، حکومت ہند کا رد عمل اس ابھرتے چیلنج کو سیاسی طور سمجھنے اور اس کا ازالہ کرناہونا چاہئے لیکن بد قسمتی سے آر ایس ایس جوکہ موجودہ حکومت کی بنیاد ہے، جان بوجھ کر ایسے اقدامات کی وکالت کر رہی ہے جس سے ’اعلیحدگی کا احساس‘ختم ہونے کے بجائے مزید گہری ہورہی ہے۔ یہ کنونشن سی پی آئی (ایم)ریجنل کمیٹی کی طرف سے جموں میں منعقد کیاگیاجس میں آئین ہند کے تحت جموں وکشمیر کو دفعہ370کی روح سے حاصل خصوصی درجہ کو ہٹانے اور اس کو کمزور کرنے کے لئے ہورہی کوششوں بارے مقررین نے تبادلہ خیال کیا۔ کنونشن میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ تاریگامی نے کہاکہ دفعہ370کے تحت ریاست کو آئینی طور اٹانومی کی ضمانت دی گئی ہے جس کو کم کر کے محض ایک’سایہ ‘بنا دیاگیا ہے کیونکہ اس کو ہرگذرتے دن کے ساتھ نشانہ بنایاجارہاہے۔ لگاتار اُن افراد کی طرف سے بیانات آرہے ہیں جواقتدار کا حصہ ہیںاور وہ دفعہ 370اور دفعہ35-Aکو ہٹانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ اس مہم سے لوگوں کے وسیع طبقہ میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مودی سرکار کے ساتھ مشکل ہے یہ ہے کہ اس میں جامعیت کا فقدان ہے۔ طبقاتی اور علاقائی تقسیم کو فروغ دینے سے صرف سماج دشمن طاقتوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ برسر اقتدار لوگوں کی طرف سے جان بوجھ کر ایسے ایجنڈہ کی آبیاری کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں جس کا نتیجہ صرف فرقہ وارانہ خطوط پر ریاست کے تین پھاڑ ہوسکتا ہے۔ ریاست کے تمام خطوں کے لوگوں کے حقوق اور مفادات کو صرف اتفاق واتحاد کے ذریعہ سے ہی تحفظ دیاجاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ علاقوں اور طبقوں کے مابین بہتر تعلقات اور ہم آہنگی ہونا چاہئے ۔اتفاق واتحاد پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے تاکہ اس کو زک پہنچانے والے عناصر کی کوششوں کو ناکام بنایاجائے۔دفعہ370اور35-Aمیں ریاست جموں وکشمیر کے تمام مستقل باشندوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔ اس آئینی ضمانت کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ سے یہاں کے شہروں کے بنیادی مفادات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔ سی پی آئی(ایم )جموں کے ریجنل سیکریٹری شام پرساد کیسر نے خطہ کے آپسی بھائی چارہ کو نقصان پہچانے کے لئے کی جارہی کوششوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ ریاست کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی آوازیں ایک بہت بڑی سازش کا حصہ ہے جس کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں، کشمیر اور لداخ تینوں خطوں کے لوگوں کے درمیان اتحاد ریاست کی خوشحالی اور دیر پامن امن کی ضمانت ہے۔ کنونشن میں قرار داد پاس کی گئی جس میں کیرلہ میں آر ایس ایس کے ظلم وستم کی مذمت کی گئی جس سے کئی قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے تین دہائیوں کے دوران راشٹریہ سوئم سیوک نے کیرلہ ریاست کے اندر لوگوں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ہرممکن کوشش کی ہے اور اب جان بوجھ کر ملک بھر میں ایک غلط پروپگنڈہ چلایاجارہاہے۔ کنونشن سے ریاستی کمیٹی ممبران اوم پرکاش، کشور کمار اور بنارسی داس نے بھی خطاب کیا۔