33

پہاڑی ریزرویشن بل کی منظوری میں غیر ضروری تاخیر

پہاڑی ریزرویشن بل کی منظوری میں غیر ضروری تاخیر
قانون سازیہ پر راج بھون بھاری!
پچھلے چار دہائیوں سے ریاست جموں وکشمیر میں پہاڑی زبان بولنے والا قبیلہ اپنے دیرینہ مطالبات کے حق کے لئے برسرِ جدوجہد ہے۔ اس میں اہم مطالبہ قبیلہ کو ایس ٹی درجہ دینا ہے تاکہ وہ بھی سماج کے دیگر طبقہ جات کے شانہ بشانہ ترقی کے اس دور میں آگے بڑھ سکیں۔ ان کی سماجی، معاشی اور تعلیمی صورتحال بہترہو۔ریاستی ومرکزی سطح پرسرکاری ملازمتوں میں مناسب نمائندگی ملے۔ایس ٹی اسٹیٹس کا معاملہ اس وقت مرکزی حکومت کے زیر غور ہے۔سال 2014کو سابقہ این سی۔ کانگریس مخلوط حکومت نے ایس ٹی درجہ ملنے تک ریاستی کوٹہ سے پہاڑی طبقہ کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالہ سے قانون سازیہ کے دونوں ایوانوں میں متفقہ طور پر قانون پاس کر کے گورنر کے پاس منظور ی کے لئے بھیجا گیا لیکن گورنر موصوف نے اس پر چند اعتراضات لگائے۔ سال 2018میں ان تمام اعتراضات کا ازالہ کر کے دوبارہ سے فروری ماہ میں بجٹ اجلاس کے دوران قانون سازیہ سے ایکبار پھر اس قانون کو پاس کر کے راج بھون بھیجاگیا۔ریاستی گورنر نے پھر سے چند افراد کی چھٹی کی بنا پر بل پر اعتراضات لگادئے۔ریاستی سرکار نے ان اعتراضات کا بھی مدلل جواب دیا۔ نیز پہاڑی طبقہ سے وابستہ موجودہ وسابقہ قانون سازیہ کا اعلیٰ سطحی وفد بھی گورنر سے ملا مگر اس کے باوجود 3ماہ اور22دن گذر چکے ہیں ابھی تک گورنر نے بل پر دستخط نہ کئے جبکہ جموں وکشمیر آئین کے تحت گورنر مذکورہ بل پرفوری منظوری دینے کے پابند ہیں۔ جموں وکشمیر کے آئین کی دفعہ78کے تحت گورنر کسی ایسے بل پر اعتراض نہیں لگا سکتا جس سے اسمبلی نے پہلی بار لگائے گئے اعتراصات کا ازالہ کر کے یا کئے بغیر دوبارہ پاس کر کے گورنر کی منظور کے لئے بھیجا ہو جیسا کہ پہاڑی ریزرویشن بل نمبر 18 کیساتھ ہوا تھا۔ اس بل کو 2014 میں اسمبلی نے پاس کر کے گورنر کی منظوری کیلئے بھیجا تھا مگر گورنر نے اس پر اعتراضات لگائے جنہیں دور کر کے اس اسمبلی نے دوبارہ اسے گورنر کو ارسال کیا تھا لیکن گورنر نے پھر سے اعتراضات لگائے ہیں جو کہ آئین کے خلاف ہے ۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گورنر منظوری نہیں دیتا تو حکومت مجاز ہے کہ وہ از خود بل کی از خود منظوری کا نوٹیفکیشن جاری کرئے جیساوہ کرنے کی آئین کے تحت پابند ہے۔ ماہرین کے مطابق گورنرنے دوبارہ جب بل پر اعتراضات ظاہر کئے تھے تو تب حکومت ان کا جواب دینے کی آئین کے تحت قطعی پابند نہ ہے اور نہ گورنر کو آئین یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ دوبارہ بل پر اعتراض ظاہر کرے ۔گورنر نے ایسا کر کے قانون سازیہ کے اعتمادیت، وقار کو چیلنج کیا ہے جوکہ افسوس کن ہے۔وہیں لوگوں گورنر کے اس رویہ سے پہاڑی طبقہ کے سیاسی، سماجی لیڈران اور دیگر شخصیات اور دانشوروں میں کافی غم وغصہ ہے۔ ان کا کہنا ہے گورنر سے قواعد وضوابط اور آئین کے من وعن سے پاسداری کی توقع ہوتی ہے لیکن اس معاملہ میں انہوں نے آئین کو بھی بالائے طاق رکھا ہے جس سے صاف عیاں ہے کہ اس میں سیاست کا عمل دخل ہے۔ راج بھون میں پہاڑی ریزرویشن بل کو سیاست کا شکار بنایاجانا افسوس کن ہے۔ غور طلب ہے کہ 26دسمبر1993کو جموں وکشمیر کے گورنر کے وی کرشنہ راو¿ نے سرکاری طور مرکزی وزیر برائے سماجی بہبود سیتا رام کیسری کو مکتوب لکھا جس میں پہاڑی طبقہ کو ایس ٹی زمرہ میں شامل کرنے کی پرزور سفارش کی تھی لیکن موجودہ گورنر بظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ چندمفاد پرست عناصر سے متاثرہوکرپہاڑی قبیلہ کی نہ صرف مخالفت کر رہے ہیں بلکہ اس کے لئے انہوں نے آئین کی خلاف ورزی تک کرنا گوراہ کر لی ہے۔ریاستی سرکار کو چاہئے کہ پہاڑی ریزرویشن بل پر گورنرکے غیر آئینی اعتراضات پر’لولیٹر‘لکھنے کے بجائے حکومت آئین کی دفعہ 78 کے تحت نوٹیفیکیشن جاری کرے اور طبقہ کی دیرینہ مانگ کو پورا کیاجائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں