47

ارنیہ سیکٹر میں شدید گولہ باری ایس پی او سمیت 6 افراد زخمی درجنوں مویشی ہلاک ، کئی رہائشی مکانات کو نقصان ، متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی محفوظ مقامات کی جانب منتقلی

اڑان نیوز
جموں// ضلع جموں میں بین الاقوامی سرحد کے ارنیہ سیکٹر میں پیر کے روز ہند و پاک افواج کے مابین گولہ باری کا شدید تبادلہ ہوا جس میں ریاستی پولیس کے ایک اسپیشل پولیس آفیسر (ایس پی او) سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ گولہ باری کے تبادلہ کا تازہ واقعہ بارڈر سیکورٹی فورس کے اس دعویٰ کے چند گھنٹوں بعد ہی رونما ہوا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بھارت کی طرف سے جوابی گولہ باری سے پریشان ہو کر ”سیز فائر“ کی درخواست کی ہے ۔ سرکاری ذرائع نے 6 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ علاقوں کے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گولہ باری کے نتیجے میں 6 افراد کے زخمی ہونے کے علاوہ کئی رہائشی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا اور متعدد مویشی ہلاک ہوئے‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شدید زخمیوں کو علاج ومعالجہ کے لئے گورنمنٹ کالج و اسپتال (جی ایم سی) جموں منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا ’کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے پولیس اور دوسرے محکموں کی ٹیموں کو تیار حالت میں رکھا گیا ہے۔ ان کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئی ہیں‘۔ جی ایم سی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ سرحدی گولہ باری کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کے لئے ڈاکٹروں کی ٹیمیں بنائی گئی ہیں اور زخمیوں کو کھانا اور ادویات مفت فراہم کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا ’ہماری طرف سے پوری تیاری ہے۔ ہم نے زخمیوں کے لئے الگ وارڈ دستیاب رکھے ہیں۔ ان کے علاج ومعالجہ کے لئے ڈاکٹروں کی ٹیمیں بنائی ہیں۔ ہم نے کنٹرول روم بھی چالو کردیا ہے۔زخمیوں کو کھانا اور ادویاب مفت فراہم کی جارہی ہیں‘۔ بی ایس ایف کے ایک عہدیدار نے یہاں یو این آئی کو بتایا ’پاکستانی رینجرس کی طرف سے ارنیہ سب سیکٹر میں گذشتہ رات ہماری چوکیوں اور سرحدی دیہات کو نشانہ بناکر شدید اور بلااشتعال فائرنگ کی گئی‘۔ انہوں نے بتایا ’فائرنگ کا تبادلہ کچھ دیر تک جاری رہنے کے بعد رک گیا۔ لیکن پاکستان کی طرف سے پیر کی صبح قریب سات بجے پورے ارنیہ سیکٹر میں مارٹر گولے داغے گئے‘۔ انہوں نے مزید بتایا ’ہمارے فوجی پاکستان کی فائرنگ کا موثر اور منہ توڑ جواب دے رہے ہیں‘۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی فائرنگ سے ایک ایس پی سمیت چھ افراد زخمی ہوئے جن کو علاج ومعالجہ کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ زخمیوں میں تین کی شناخت درشنا دیوری، مہندر لال اور ایس پی او گرچرن سنگھ کی حیثیت سے کی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے داغا جانے والا ایک مارٹر گولہ پولیس تھانہ ارنیہ میں آگرا جس کے نتیجے میں ایس پی او گرچرن سنگھ زخمی ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق جموں اور سانبہ اضلاع میں بین الاقوامی سرحد کے نذدیک واقع علاقوں میں تعلیمی ادارے گذشتہ قریب پانچ دنوں سے بند پڑے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ بی ایس ایف نے اتوار کے روز دعویٰ کیا کہ پاکستانی رینجرز نے ان سے مواصلاتی رابطہ قائم کرکے ’بین الاقوامی سرحد‘ پر فائر بندی کی التجا کی۔ یہ پیش رفت بین الاقوامی سرحد پر 18 مئی کی ہلاکت خیز گولہ باری کے دو روز بعد سامنے آئی تھی۔ بی ایس ایف کے ایک ترجمان نے کہا تھا ’بی ایس ایف کی جانب سے پاکستان کی بلااشتعال شلنگ کا منہ توڑ جواب دیا جارہا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی رینجرس فائر بندی کی التجا کرنے پر مجبور ہوئے ہیں‘۔ انہوں نے کہا تھا ’پاکستانی رینجرز نے بی ایس ایف سے مواصلاتی رابطہ قائم کرکے فائرنگ روکنے کی درخواست کی‘۔ ترجمان نے مزید کہا تھا ’بی ایس ایف نے گذشتہ تین دنوں کے دوران پاکستانی رینجرز کو نشانہ بناکر اُن کو شدید نقصان پہنچایا‘۔ 18 مئی کو جموں اور سانبہ اضلاع میں بین الاقوامی سرحد پر پاکستانی رینجرز کی شدید مارٹر شلنگ کے نتیجے میں سرحد کے اس پار 4 عام شہریوں اور ایک بی ایس ایف کانسٹیبل سمیت 5 افراد ہلاک جبکہ قریب ایک درجن دیگر زخمی ہوئے تھے ۔ بی ایس ایف جموں فرنٹیئر کے انسپکٹر جنرل رام اوتار نے بین الاقوامی سرحد کی صورتحال کو انتہائی کشیدہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ بی ایس ایف اہلکاروں کی جوابی کاروائی سے پاکستان کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستانی میڈیا نے بتایا تھا کہ 18 مئی کو بھارتی فوج کی سیالکوٹ میں ورکنگ باو¿نڈری پر فائرنگ سے ایک ماں اور اس کے تین بچے ہلاک ہوئے۔ پاکستان میڈیا نے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے حوالے سے بتایا تھا کہ صوبہ پنجاب کے سیالکوٹ سیکٹر میں ورکنگ باو¿نڈری پر بھارتی فوج کی فائرنگ سے ایک ماں اور اس کے تین بچے ہلاک جبکہ 10 دیگر زخمی ہوگئے ۔ 15 مئی کو سانبہ میں پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں بی ایس ایف کا اہلکار جاں بحق ہوا۔ 17 مئی کو اسی سیکٹر میں پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں بی ایس ایف کا ایک اہلکار زخمی ہوا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق جموں وکشمیر میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی بین الاقوامی سرحد اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر رواں برس سرحدی شلنگ کی وجہ سے 38 لوگ مارے گئے۔ ان میں 18 سیکورٹی فورس اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق رواں برس کے دوران 700 سے زائد مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے واقعات پیش آئے۔ یہ بات یہاں قابل ذکر ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان 1999 ءکے تنازعے کے بعد سنہ 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ تاہم جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود سرحدوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں