16

آصفہ کیس کی سی بی آئی انکوائری کا مطالبہ واپس لیا
الطاف حسین جنجوعہ
جموں// ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے چوطرفہ تنقید کے بعد آصفہ عصمت دری و قتل کیس کی قومی تفتیشی ایجنسی سی بی آئی سے تحقیقات کا اپنا مطالبہ واپس لے لیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ بی ایس سلاتھیا کا کہنا ہے کہ چونکہ اب یہ معاملہ پوری طرح سے عدالت میں آگیا ہے، اس لئے بار ایسوسی ایشن نے سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ واپس لینے کا فیصلہ لیا ہے۔ واضح رہے کہ بار ایسوسی ایشن گذشتہ دو ماہ سے زیادہ عرصہ سے آصفہ کیس کی تحقیقات سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کررہی تھی۔ بار ایسوسی ایشن کی شہ پر کٹھوعہ بار ایسوسی ایشن اور ینگ لائرز ایسوسی ایشن سے وابستہ درجنوں وکلاءنے پیر کے روز چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت کے احاطے میں شدید ہنگامہ آرائی اور ہلڑبازی کرکے کرائم برانچ کے عہدیداروں کو آصفہ کیس کا چالان عدالت میں پیش کرنے سے روک دیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد احتجاجی وکلاءتنظیمیں شدید تنقید کی زد میں آگئی تھیں۔ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر راکیش گپتا نے منگل کے روز ایک پریس کانفرنس میں آصفہ کیس کی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سفاکانہ جرم میں جو لوگ ملوث ہیں، اُن کو کیفرکردار تک پہنچایا جانا چاہیے چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو۔ ہمیں اسے کوئی فرقہ وارانہ ایشو نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا ھا ”بار ایسوسی ایشن کے صدر کو پتہ ہونا چاہیے کہ کرائم برانچ جو تحقیقات کررہی تھ، اس کی ہائی کورٹ روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کررہا تھا“۔ چوطرفہ تنقید کی زد میں آنے کے بعد بار ایسوسی ایشن صدر ایڈوکیٹ سلاتھیا نے بدھ کے روز یہاں نامہ نگاروں کو بتایا’ ’کٹھوعہ واقعہ (آصفہ کیس) میں چونکہ چارج شیٹ داخل ہوچکی ہے، اب ہم اس کیس کی لڑائی قانونی طور پر عدالت میں لڑیں گے۔ یہ معاملہ اب ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار میں نہیں رہا ہے۔ ہم اس وجہ سے کیس کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کررہے تھے کہ کرائم برانچ کی طرف سے کی جارہی تحقیقات آزادانہ اور منصفانہ نہیں تھی۔ کرائم برانچ بے گناہوں کو اس کیس میں پھنسا رہی تھی“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں