123

بنی سفری ڈاکومنٹری ’راہِ مضطر‘11ویںانٹرنیشنل ٹورازم فیسٹیول’ٹورفلم ریگا‘کیلئے منتخب

حکومت کی نظروں سے اوجھل پونچھ عالمی سیاحتی منظر نامہ پرمتعارف
قدرتی حسن سے مالامال سرحدی ضلع پر بنی سفری ڈاکومنٹری ’راہِ مضطر‘11ویںانٹرنیشنل ٹورازم فیسٹیول’ٹورفلم ریگا‘کیلئے منتخب
جموں//جموں وکشمیرحکومت کی طرف سے ہرمحاذ پر نظر انداز ’ضلع پونچھ‘کی حسین وجمیل وادیوں اور قدرتی مناظر نے عالمی سطح کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ حکومتی سطح پر نظر انداز قدرتی حسن سے مالامال سرحدی ضلع پونچھ کی حسین وجمیل وادیوں، آبشاروں، سرسبز میدانوں، شفاف بہتے دریاو¿ں پر بنائی گئی مختصر سفری ڈاکومنٹری فلم ’راہِ مضطر‘کو 27اپریل2018کو ریگا، لاتویا ( Riga, Latvia)میں منعقدہونے جارہے 11ویں انٹرنیشنل ٹورازم فیسٹیول’ ٹورفلم ریگا‘کے لئے منتخب کیاگیاہے۔یہ وہی جگہ ہے کہ جہاں گذشتہ سال شارخ خان کی دوبئی ٹورازم فلم”بی مائی گیسٹ“نے ایوارڈ حاصل کیاتھا۔ سیاحتی شعبہ میں نظر انداز پونچھ ضلع کی طرف حکومتی توجہ مرکوز کرانے کے لئے سال 2014میںسرنکوٹ کے گاو¿ں پمروٹ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سیّد جاذب علی کی اپنے ساتھیوں کے ساتھ چھوٹی سی کوشش نے پونچھ کو بین الاقوامی سیاحتی پلیٹ فارم فراہم کیا۔لاطیوہ شمالی یورپ کے با لٹک خطہ میں ایک آزاد جمہوری ملک ہے۔ فیسٹیول سی آئی ایف ایف ٹی کے زیر اہتمام ہورہا ہے جوکہ عالمی سطح کی نامی گرامی سیاحتی تنظیم ہے اور جس کی توثیق (یو این ڈبلیو ٹی او)ورلڈ ٹورازم آرگنائزیشن، یورپین ٹریول کمیشن(ای ٹی سی) اور پی اے ٹی اے(پیسیفیک ایشیاءٹریول ایسو سی ایشن )نے بھی کی ہے۔ 18منٹ54سیکنڈ کی سفری ڈاکومنٹری’راہِ مضطر‘میں پونچھ، سرنکوٹ ، لورن اور منڈی کے حسین وجمین وادیوں کو ظاہر کیاگیاہے۔ اس علاقہ کو ملی ٹینسی کی وجہ سے نظر انداز کیاگیا ، اس فلم میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہ خطہ کتنا پرسکون ہے اور سیاحوں کے لئے ایک بہترین جگہ ہے کیونکہ عسکریت پسندی کی وجہ سے پونچھ ضلع کافی بدنام رہا اوراکثر ذرائع ابلاغ میں صرف دراندازی، فائرنگ، شلنگ کی ہی خبریں سننے اور دیکھنے کو ملتی ہیں۔سال 2016میں باقاعدہ طور اس فلم کوریلیز کیاگیا تھا جوکہ نیو آرلین (ریاستہائے متحدہ امریکہ)میں منعقدہ سنی سائڈ شارفٹ فلم فیسٹیول2016کے سیمی فائنلسٹ رہی۔سال 2017کو میامی (امریکہ)میں منعقدہ ’Indie Wise Film Festival‘میں بھی ’راہِ مضطر‘نے فائنل میں جگہ پائی۔اس ڈاکومنٹری کو بنانے کا خیال سیدجازب علی کا تھااور انہیں کی ہدایات کاری میں اس کو بنایاگیا۔ آوازبھی انہیں ہی کی ہے۔ فلم میں اہم رول ادا کرنے والوں میں کیمرہ مین امت بنسل، سوربھ شرما، ابھشیک راٹھور ہیں جبکہ کلر/ساو¿نڈ ڈیزاننگ اور ایڈیٹنگ لکشے دھلہ نے کی ہے۔سید جازب علی 14برس تک جرم بے گناہی کی پادداش میں ایام اسیری کاٹنے والے محمد عامر خان نامی ایک لڑکے پر’Aamir a Trial for life‘شارٹ ڈاکومنٹری فلم بھی بناچکے ہیں جس سے کئی انعامات سے نوازہ جاچکا ہے۔ یہ ڈاکومنٹری عامر کی زندگی پر مبنی ہے۔ عامر فلم سال2017کو Cuprus انٹرنیشنل فلم فیسٹیول ول جوکہ Pafos, Cyprusمیں منعقد ہوا تھا کے لئے منتخب ہوئی۔اس کے لئے جے پور راجستھان میں ’جے پور انٹرنیشنل فلم فیسٹیول2017، پانڈیچری ہندوستان میں منعقدہ’آیوریلہ فلم فیسٹیول2017، کشمیر میں منعقدہ کشمیرورلڈ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول2017، چھترپتی شیواجی انٹرنیشنل فلم فیسٹول2016پونے ، بھارت اور پاکستان انٹرنیشنل فلم فیسٹیول2018جوکہ کراچی پاکستان میں منعقد ہوا کے لئے منتخب ہوئی ۔گرینڈ انڈی وائز فلم فیسٹیول 2017، میامی امریکہ کے فائنلسٹ میں رہی۔ سال2017کو ’عامر‘فلم برلن ورلڈ انٹرنیشنل فیسٹیول کے لئے بھی سلیکٹ ہوئی ، اس فیسٹیول کے لئے کل 10,784فلمیں جمع کی گئی تھیں جن میں سے 300کو منتخب کیاگیاتھا۔ آج ہر ایک کے پاس اچھے سے اچھے موبائل فون، ویڈیو کیمرے ہونے کے ساتھ ساتھ سستی انٹرنیٹ سہولیات بھی دستیاب ہیں۔ اپنے خطہ کی تعمیر وترقی ، تہذیب وتمدن وثقافت کے تحفظ وبقاءوفروغ کے لئے ہرنوجوان ویڈیو بناکر یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرسکتاہے، کیا پتہ آپ کی بھی چھوٹی کوشش بہت بڑی کامیابی میں تبدیل ہوجائے اور اس خطہ کی تقدیر بدل دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں