119

جوڈیشل مارشل لا کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں: چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ملک میں ‘جوڈیشل مارشل لا’ لگائے جانے کی باتوں کو افواہیں قرار دیتے ہوئے رد کر دیا اور کہا کہ ملک میں آئین میں اس قسم کے نظام کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔جمعہ کو لاہور میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں ثاقب نثار ن بڑے واشگاف انداز میں کہا کہ جب تک وہ چیف جسٹس کے عہدے پر موجود ہیں ملک میں آمرانہ نظام نہیں لایا جا سکتا۔یاد رہے کہ پاکستان میں آئندہ دو ماہ میں موجودہ حکومت کی پانچ سال کی آئنی مدت ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد وفاق اور صوبوں کی سطح پر نگران حکومت کا قیام عمل میں لایا جانا ہے۔اس پس منظر میں کچھ سیاسی حلقوں کی طرف سے ملک میں جوڈیشل مارشل لا لگانے جانے کی بات کی گئی ہے۔دوسری طرف سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے نگران وزیر اعظم کے اختیارات کو واضح کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی تجویز پیش کی ہے۔گذشتہ روزہ احتساب عدالت میں پیشی کے بعد انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین نگران وزیر اعظم کے اختیارات کے بارے میں واضح نہیں ہے اور ان کو واضح کیے جانے کی ضرورت ہے۔میاں نواز شریف نے اداروں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کی بات بھی کی ہے جس کو میاں صاحب کے لب وہ لہجے میں واضح تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔لاہور کے ایک چرچ میں یوم پاکستان کی مناسبت سے ہونے والی اس تقریب میں چیف جسٹس آف پاکستان نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین کسی جوڈیشل مارشل لا کی اجازت نہیں دیتا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ انھوں نے آئینِ پاکستان کی پاسداری کرنے کا حلف اٹھا رکھا ہے اور وہ کسی صورت میں اس حلف سے رو گردانی نہیں کریں گے۔ملک میں جمہوری نظام کے تسلسل کو یقینی بنانے کا عزم کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آئین سے ہٹ کر کسی اقدام کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔انھوں اس امید کا اظہار کیا کہ ملک میں آیندہ انتخابات ہر سطح پر غیر جانبدارانہ اور منصفانہ انداز میں کرائے جائیں گے اور مستقل کی منتخب حکومت آئین کی روح کے مطابق قائم ہوگی۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک جج کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ ایک عام شہری اور کسی حکمران کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں