46

مقبول بٹ کی 34 ویں برسی مشترکہ مزاحتمی قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال اقوام متحدہ فوجی دفتر تک مارچ پولیس نے ناکام بنادیا

یوا ین آئی
سری نگر// وادی کشمیر میں اتوار کو جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے بانی محمد مقبول بٹ کی 34 ویں برسی کے موقع پر مزاحمتی قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران سری نگر سمیت وادی کے سبھی ضلعی اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ مقبول بٹ کو سنہ 1984 میں آج ہی کے دن دہلی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دی گئی تھی اور وہیں دفن کیا گیا تھا۔ ان کی برسی پر وادی میں ہر سال علیحدگی پسند جماعتوں کی اپیل پر ہڑتال کی جاتی ہے اور تہاڑ جیل میں مدفون اُن کے باقیات کو لوٹانے کے مطالبے کے لئے احتجاج کیا جاتا ہے۔ مقبول بٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے 14 ستمبر 1966 کو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کرائم برانچ سی آئی ڈی کے ایک انسپکٹر امر چند کو قتل کیا۔ کشمیری مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کے علاوہ دیگر متعدد علیحدگی پسند راہنماو¿ں نے محمد مقبول بٹ کو پھانسی دیے جانے کے 34 برس مکمل ہونے پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ 11فروری کو مکمل اور ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال ہوگی جبکہ اسی دن افضل گورو اور مقبول بٹ کی جسد خاکی اورباقیات کی واپسی کے حوالے سے اقوام متحدہ کے مقامی مبصر آفس پر جاکر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام ایک یادداشت بھی پیش کی جائے گی۔ قابل ذکر ہے کہ سری نگر کے عیدگاہ علاقہ میں واقع تاریخی مزار شہداءمیں دو قبریں افضل گورو اور مقبول بٹ کی باقیات کے لئے خالی رکھی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے مقبول بٹ کی 34 ویں برسی کے پیش نظر علیحدگی پسند راہنماو¿ں اور کارکنوں کو کسی بھی احتجاجی جلوس یا ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے بدستور تھانہ یا خانہ نظربند رکھا۔ اس کے علاوہ سری نگر میں حساس مانے جانے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رکھی گئیں۔ شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ جو کہ مقبول بٹ کا آبائی ضلع ہے، کے مختلف حصوں بالخصوص آبائی گاو¿ں ترہگام میں بھی کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رکھی گئیں۔ ترہگام میں لوگوں نے گذشتہ رات مقبول بٹ کی برسی کے سلسلے میں ایک شبانہ جلوس نکالا جو بعدازاں پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔ سیکورٹی وجوہات کی بناءپر وادی بھر میں ریل سروس معطل رکھی گئی۔ اس دوران ریاستی پولیس نے اتوار کو قریب ایک درجن علیحدگی پسند راہنماو¿ں و کارکنوں کو گرفتار کرکے ان کا اقوام متحدہ کے مقامی مبصر کےدفتر تک مارچ ناکام بنادیا۔ مختلف علیحدگی پسند جماعتوں بالخصوص جے کے ایل ایف سے وابستہ درجنوں رہنماو¿ں و کارکنوں نے اتوار کی صبح مائسمہ میں سیکورٹی پابندیاں توڑتے ہوئے سونہ وار میں واقع اقوام متحدہ کے دفتر کی جانب پیش قدمی شروع کی۔ تاہم وہاں پہلے سے موجود سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی بھاری نفری نے مزاحمتی کارکنوں کی پیش قدمی روکتے ہوئے قریب ایک درجن رہنماو¿ں و کارکنوں کو حراست میں لیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق علیحدگی پسندوں کے اقوام متحدہ دفتر تک مارچ کو ناکام بنانے کے لئے سونہ وار میں اس دفتر کی جانب جانے والی تمام سڑکوں کو سیل کیا گیا تھا جبکہ اس کے اردگرد سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ بزرگ علیحدگی پسند راہنما و حریت (گ) چیئرمین سید علی شاہ گیلانی کو گذشتہ آٹھ برسوں سے ائرپورٹ روڑ پر واقع حیدرپورہ میں اپنی رہائش گاہ پر نظر بند رکھا گیا ہے۔ حریت (ع) کے ایک ترجمان نے بتایا کہ چیئرمین میرواعظ کو 11 روز کی مسلسل نظربندی کے بعد 6 فروری کو رہا کیا گیا، لیکن اگلے روز یعنی 7 فروری کو انہیں دوبارہ نظربند کیا گیااور تب سے لے کر اب تک انہیں بدستور نظربند رکھا گیا ہے۔ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک کو 6 فروری کو گرفتار کرکے سینٹرل جیل سری نگر منتقل کیا گیا۔ فرنٹ کے ایک ترجمان نے بتایا ’ ملک کو 6 فروری کو ایک اور فرنٹ قائد غلام محمد ڈار کے ہمراہ اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ یہاں فرنٹ کے دفترواقع آبی گزر پر موجود تھے۔ بعدازان دونوں گرفتارشدگان کو عدالتی تحویل پر سری نگر سینٹرل جیل منتقل کیا گیا‘ ۔ ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ ہم نے ریل سروس کو سیکورٹی وجوہات کی بناءپر معطل کیا ‘۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان اتوار کو کوئی بھی ریل گاڑی نہیں چلے گی۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ’ریل سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ ریاستی پولیس کی جانب سے اس حوالے سے ہدایات ملنے کے بعد لیا گیا ہے‘۔ مزاحمتی قیادت کی جانب سے بلائی گئی ہڑتال کے نتیجے میں سری نگر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سری نگر کے پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے کرفیو جیسی پابندیاں نافذ رہیں جن کی وجہ سے وہاں تمام طرح کی سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ پولیس نے بتایا کہ پائین شہر اور سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔ تاہم ایسے علاقوں میں زمینی صورتحال پولیس کے دعوو¿ں کے برخلاف نظر آئی کیونکہ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا جارہا تھا کہ علاقہ میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ پابندی والے بیشتر علاقوں میں سڑکوں کو خاردار تاروں سے سیل کردیا گیا تھا۔ پائین شہر کے سبھی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی بھاری جمعیت تعینات رہی۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ نالہ مار روڑ کو خانیار سے تارہ بل نواح کدل تک سیل رکھا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بلبل لانکر، نواح کدل، کاوڈارہ، رانگر اسٹاف، گوجوارہ، کاو¿ڈارہ اور راجوری کدل علاقوں کی بنیادی سڑکیں بھی بند کردی گئی تھیں۔ عام دنوں میں انتہائی مصروف رہنے والے سیول لائنز اور بالائی شہر میں بہت ہی کم راہگیراور سبزی و پھل فروخت کرنے والے چھاپڑی فروش نظر آئے۔ ٹی آر سی کراسنگ سے ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ تک ہر اتوار کو لگنے والا سنڈے مارکیٹ بھی بند رہا۔ سیول لائنز میں مائسمہ جہاں جے کے ایل ایف کا ہیڈکوارٹر واقع ہے، کی طرف جانے والی سڑکوں کو خاردار تار سے بند رکھا گیا تھا۔ تاہم تاریخی لال چوک کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھا گیا ۔ شمالی کشمیر کے تمام قصبوں و تحصیل ہیڈکوارٹروں میں بھی علیحدگی پسند راہنماو¿ں کی اپیل پر مکمل ہڑتال کی گئی۔ مقبول بٹ کے آبائی ضلع کپواڑہ میں تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بند رہی۔ ضلع کپواڑہ میں مقبول بٹ کی برسی پر احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کی اضافی نفری تعینات رہی۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع کے مختلف حصوں میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے پابندیاں نافذ رہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز نے کپواڑہ میں بٹ کے آبائی گاو¿ں ترہگام کی طرف جانے والی سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کیا تھا۔ بارہمولہ سے بھی مکمل ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئیں ۔ قصبے میں اولڈ ٹاون کو سیول لائنز کے ساتھ جوڑنے والے پلوں پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات رہی۔ اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے اس اور دیگر قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں بھی ہڑتال کی وجہ سے معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج رہے۔ جنوبی کشمیر میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا۔ تاہم سری نگر جموں قومی شاہراہ پر اکا دکا گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ ایسی ہی رپورٹیں وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام اور گاندربل سے بھی موصول ہوئیں۔ یو اےن آئی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں