121

نوجوان کی فوج کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کپوارہ اُبل پڑا،مہلوک سپرد خاک ہلاکت غلط شناخت کا معاملہ،کیس درج کرکے تحقیقات جاری:پولیس

اڑان نیوز
کپوارہ//فوج کے ہاتھوں 22سالہ نوجوان سوموڈرائیورکی سفاکانہ ہلاکت کے خلاف مہلوک نوجوان کے آبائی گاؤں ٹھنڈی پورہ کپوارہ میں ہزاروں لوگوں نے سڑکوں پرجمع ہوکرزورداراحتجاجی مظاہرے کئے جبکہ بٹہ پورہ سمیت کچھ مقامات پرمشتعل نوجوانوں کی سنگباری کے بعدپولیس اورفورسزاہلکاروں نے ٹیرگیس شلنگ کردی ۔اس دوران کرالہ پورہ سے ٹھنڈی پورہ کی جانب رواں دواں ایک احتجاجی جلوس کوروکنے کی کارروائی کے دوران پولیس نے ممبراسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید سمیت کئی افراد کو گرفتار کرلیا۔ایس ایس پی کپوارہ شمشیرحسین نے آصف اقبال کی ہلاکت کوکو غلط شناخت کا معاملہ قرار دیتے ہوئے بتایاکہ اس سلسلے میں پولیس تھانہ کرالہ پورہ میں کیس درج کرکے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ۔ایس ایس پی کپوارہ نے کہا کہ قصورواروں کو سزا دی جائے گی۔تاہم سرینگرمیں تعینات دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے دعویٰ کیاکہ معصوم آصف اقبال فوج اورجنگجوؤں کے درمیان ہوئی شبانہ جھڑپ کے دوران کراس فائرنگ کی زدمیں آکرجان بحق ہوا ۔دریں اثناءاتوارکوسخت ٹھنڈ کے باوجودٹھنڈی پورہ میں لاتعدادلوگوں نے22سالہ نوجوان آصف اقبال کی نمازجنازہ میں شرکت کی ،جس کے بعد سینکڑوں اشکبارآنکھوں کی موجودگی میں معصوم نوجوان کی میت سپردلحدکی گئی ۔اتوارکوصبح سے ہی ضلع کپوارہ کے کئی علاقوں ودیہات میں کشیدگی اورتناؤکی صورتحال پائی جارہی تھی کیونکہ سنیچرکورات دیرگئے فوج کے ہاتھوں ٹھنڈی پورہ گاؤں کے رہنے والے ایک نوجوان سوموڈرائیورکی ہلاکت کے خلاف لوگوں میں سخت ناراضگی اوراشتعال پایاجارہاہے ۔مہلوک نوجوان کے اہل خانہ نے بتایاکہ22سالہ آصف اقبال ولدمحمداقبال بٹ ساکنہ ٹھنڈی پورہ کپوارہ جو کہ سومو گاڑی چلاتا ہے ، کو سنیچرکی رات تقریباً ساڑھے 11بجے ایک فون کال ملی ، جس میں اسے ایک بیمار کو اسپتال منتقل کرنے کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جوں ہی آصف بیمار کو اسپتال لے جانے کی غرض سے اپنی سومو گاڑی لے کر اپنے گھر سے روانہ ہوا تو نزدیک میں تعینات فوجیوں نے اس پر فائرنگ کردی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ آصف کو شدید زخمی حالت میں کرالپورہ اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اسے سری نگر منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے بتایاکہ زخمی نوجوان آصف اقبال سری نگر پہنچائے جانے سے قبل ہی راستے میںسوپورکے نزدیک دم توڑ بیٹھا۔ادھر دفاعی ذرائع نے آصف کی ہلاکت کو غلط شناخت کا معاملہ قرار دیا ہے۔ سری نگرمیں تعینات دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے ایک بیان میںبتایاکہ جنگجوؤں کی علاقہ میں موجودگی سے متعلق اطلاعات کی بنیادپرفوج نے16اور14دسمبرکی درمیانی شب ٹھنڈی پورہ کپوارہ میں ناکہ لگادیاتھا۔اس دوران فوجی اہلکاروں نے رات کے لگ بھگ2بجکر25منٹ پر جب تاریکی میں مشتبہ نقل وحرکت دیکھی توانہوں نے نقل وحرکت کررہے افرادکوخبردارکیا۔انہوں نے دعویٰ کیاکہ اس کے بعدجنگجوؤں نے فوج کی ناکہ پارٹی پرفائرنگ کردی جس کاجواب دیاگیا۔دفاعی ترجمان کے بقول کراس فائرنگ کی زدمیں آکرایک نوجوان آصف اقبال بٹ ولدمحمداقبال ساکنہ ٹھنڈی پورہ جان بحق ہوگیا۔کرنل راجیش کالیہ نے بتایاکہ اس کے بعدیہ بات سامنے آئی کہ کراس فائرنگ کے واقعے میں جان بحق ہونے والانوجوان ایک سوموڈرائیورتھا۔دفاعی ترجمان نے اپنے بیان میں کہاکہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہے تاہم انہوں نے تحقیقات کی نوعیت کاخلاصہ نہیں کیا۔اس دوران ایس ایس پی کپوارہ شمشیرحسین نے آصف اقبال کی ہلاکت کوکو غلط شناخت کا معاملہ قرار دیتے ہوئے بتایاکہ اس سلسلے میں پولیس تھانہ کرالہ پورہ میں کیس درج کرکے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ۔تاہم ایس ایس پی کپوارہ نے کہا ہے کہ قصورواروں کو سزا دی جائے گی۔شمشیرحسین نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر وتحمل سے کام لیں اور پولیس کو اپنا بھرپور تعاون دیں۔اُدھرسرینگرمیں پولیس ترجمان نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایاکہ ٹھنڈی پورہ کپوارہ میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے سلسلے میں پولیس تھانہ کرالہ پورہ میں باضابطہ طورپرایک ایف آئی آردرج کیاگیا۔ترجمان کے مطابق کپوارہ پولیس نے پوسٹ مارٹم اوردیگرلوازمات کوپوراکرنے کے بعدمہلوک نوجوان کی نعش لواحقین کے سپردکردی ۔بیان میں بتایاگیاکہ اس واقعے کی تحقیقات عمل میں لانے کے ساتھ ساتھ پولیس اورسیول انتظامیہ کی جانب سے غمزدہ کنبہ کوہرممکنہ مددفراہم کی جائیگی ۔اتوارکوصبح سے ہی ٹھنڈی پورہ اوراسکے نواحی علاقوں میں نوجوان سوموڈرائیورکی ہلاکت کولیکرسخت غم وغصہ اورناراضگی پائی جاتی تھی ،اورلوگ واویلاکررہے تھے ۔اس دوران فوج کے ہاتھوں 22سالہ نوجوان آصف کی ہلاکت کی خبر جوں ہی ضلع کپواڑہ میں پھیل گئی تو متعدد دیہات میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاج کیا۔ بٹہ پورہ سمیت کئی مقامات پرپولیس اورفورسز نے احتجاجیوں کو منتشر کرنے کےلئے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولوںکا استعمال کیا۔22سالہ آصف اقبال کی نعش کو ٹھنڈی پورہ لے جانے والی ایمبولنس گاڑی کو لوگوں نے بتہ پورہ میں روکا اور فوج کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس دوران مشتعل نوجوانوں نے سنگباری شروع کردی ،جسکے جواب میں پولیس اورفورسزاہلکاروںنے ٹیرگیس شلنگ کردی۔اس دوران ممبراسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید کی قیادت میں نکالاگیاایک احتجاجی جلوس جیسے ہی کرالہ پورہ سے ٹھنڈی پورہ کی طرف بڑھنے لگا تو راستے میں خواتین و مرد اور نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد جلوس کے ساتھ شامل ہو گئی اور مظاہرین فوج کےخلاف زوردار نعرے بازی کرتے ہوئے آگے بڑھے۔ مظاہرین جب رائے شماری کے حق میں نعرے بازی اور آصف کے قتل میں مبینہ طورپر ملوث فوجی افسر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے ٹھنڈی پورہ کے قریب پہنچے تو پولیس کی بھاری جمعیت نے جلوس کو آگے بڑھنے سے روک کرکارروائی عمل میں لائی ۔اس دوران احتجاجی مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے پولیس نے آنسوگیس کے کئی گولے داغے اور انجینئر رشید سمیت کئی افراد کو گرفتار کرلیا۔ انتظامیہ نے ضلع کپواڑہ میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات منقطع کردی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ضلع کے کچھ ایک حساس علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔دریں اثناءاتوارکوبعددوپہر لوگوں کی ایک بڑی تعدادسخت ٹھنڈ کے باوجودٹھنڈی پورہ میں جمع ہوئی ،اوراسکے بعد22سالہ نوجوان آصف اقبال کی نمازجنازہ انجام دی گئی ۔نوجوان کی نعش کوایک جلوس کی صورت میں نزدیکی مقبرہ پہنچایاگیاجبکہ اس دوران لوگوں نے آزادی واسلام کے حق میں اورفوج کیخلاف نعرے بازی جاری رکھی ۔بعدازاں سینکڑوں اشکبارآنکھوں کی موجودگی میں معصوم آصف اقبال کی میت سپردلحدکی گئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں