1,459

عارضی ملازمین کی مستقلی،وزیراعلیٰ نے تصدیق کی

ٹویٹ کے ذریعے حکومت کے فیصلے کا اعلان کیا
اُڑان نیوز
سری نگر//وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے ’’ عارضی ملازمین کی مستقلی کے فیصلے کی تصدیق‘‘ کرتے ہوئے بدھ کے روزاعلان کیاکہ مختلف سرکاری محکمہ جات میں تعینات 60ہزار ڈیلی ویجروں اور کیجول لیبروں کی ملازمتوں کوباقاعدہ بنایاجائے گا۔بتایا جارہا ہے کہ مستقلی پانے والے ملازمین پرایس آرائو202کااطلاق نہیں ہوگا۔خیال رہے ریاست کے وزیرخزانہ ڈاکٹرحسیب درابونے منگل کے روزکہاتھاکہ اکسٹھ ہزار ڈیلی ویجروں اور کیجول لیبروں کو باقاعدہ بنانے سے متعلق حکمنامہ اگلے ایک ہفتے میں جاری کیاجائیگا۔وزیرخزانہ کے اس اہم اعلان کی تصدیق کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بدھ کی صبح اپنے ایک ٹویٹ میں یہ خوشخبری سنادی کہ ریاستی سرکارنے مختلف سرکاری محکموں میں دہائیوں سے بطور ڈیلی ویجر اور کیجول لیبر تعینات عارضی ملازمین کی ملازمتوں کوباقاعدہ بنانے کاحتمی فیصلہ لیاہے ۔انہوںنے مختلف سرکاری محکموں میں عارضی بنیادوں پر کام کرنے والے 60 ہزار ملازمین کو مستقل کرنے کا اعلان کردیا ۔ ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ ہماری حکومت جموں وکشمیر کے مختلف سرکاری محکموں میں کام کررہے تقریباً60 ہزار ڈیلی ویجروں اور کیجول لیبروں کو پائیدار ذریعہ اور روزگار فراہم کے لئے انہیں مستقل نوکریاں فراہم کررہی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ محنت اورلگن کاصلہ ایسے ملازمین کوملناچاہئے تاکہ اُن کی حوصلہ افزائی ہوسکے ۔بتایا جارہا ہے کہ مستقل کئے جانے والے ملازمین پر ایس آر او202 کا اطلاق نہیں ہوگا جس کے تحت ملازمین کو پانچ سال تک صرف بیسک تنخواہ دی جاتی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ مستقل کئے جانے والے ملازمین کیلئے ایک علیحدہ ایس آر او لایا جائے گاجواگلے ایک ہفتے تک جاری کیاجائے گا۔خیال رہے خزانہ، محنت و روزگار کے وزیر ڈاکٹر حسیب احمد درابو نے منگل کو سرینگر میں خبروں کی ترسیل کے ادارے کے این ایس کوبتادیاتھا کہ مختلف محکموں میں کام کرنے والے قریب60 ہزار ملازمین کی نوکریاں اگلے ہفتے مستقل کی جائیں گی۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کابینہ نے اس سلسلے میں اکتوبر میں روڈ میپ مرتب کیا تھا۔ اس حوالے سے ایک نیا ایس آر ائو اگلے ایک ہفتے کے اندر سامنے لایا جائے گا۔ یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ایس آر ائو 202 کا اطلاق مستقل ہونے والے ملازمین پر بھی ہوگاتو ڈاکٹر درابو کا جواب تھا ’نہیں۔ ان پر ایس آر او 202 کا اطلاق نہیں ہوگا۔ ان کے لئے ایک الگ ایس آر او مرتب کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں