100

حدیبیہ پیپر ملز کیس: التوا سے متعلق نیب کی درخواست مسترد

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کے مقدمے کو التوا میں ڈالنے سے متعلق نیب کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے پراسیکوٹر جنرل کی تعیناتی نہ ہونے کی بنا پر اس درخواست کو التوا میں رکھنے کی درخواست کی تھی۔جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کے خاندان کے خلاف حدیبہ پیپر ملز کے مقدمے کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں نیب کی درخواست کی سماعت کی۔نیب کے ڈپٹی پراسیکوٹر عمران الحق نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ پراسیکیوٹر جنرل کا ابھی تک تقرر نہیں ہوا اس لیے اس معاملے کو اس وقت تک التوا میں ڈال دیں جب تک اس آسامی کو پر نہیں کیا جاتا۔ اُنھوں نے کہا کہ چونکہ یہ ایک اہم مقدمہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل ہی اس مقدمے میں سپریم کورٹ میں پیش ہوں۔بینچ کے سربراہ نےاس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیس کو التوا میں رکھنے کا فیصلہ کب کیا گیا تھا جس پر عمران الحق نے عدالت کو بتایا کہ یہ فیصلہ نیب کے چیئرمین کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ التوا میں رکھنے کا یہ عضر کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا مذاق نہ اڑایا جائے، عدالت کے لیے ہر کیس انتہائی اہم ہوتا ہے۔عدالت نے نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو کس قانون کے تحت جلاوطن کیا گیا اور کیا قانون میں ایسا کوئی تصور ہے کہ کسی کو زبردستی جلا وطن کیا جائے جس پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر نے نفی میں جواب دیا اور کہا کہ ملزم اور حکومت کے درمیان سمجھوتہ ہوا تھا اور وہ خود ملک سے باہر گئے تھے۔
جس پر بینچ میں موجود جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر سابق وزیرِ اعظم خود ملک سے باہر گئے تھے تو ان کے خلاف مفرور کی کارروائی ہونی چاہیے تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ اس مقدمے میں اپنے تئیں نئے قواعد بنائے گئے تھے جو کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہیں۔
عدالت نے نیب کے وکیل سے حدیبیہ پیپر ملز کا مقدمہ اٹک قلعے میں چلانے اور ملزم نواز شریف کی اٹک قلعے میں موجودگی پر ان کے خلاف کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں طیارہ سازش مقدمے کی سماعت کے بارے میں بھی سوالات کیے لیکن وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔نیب کی اس درخواست کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کو پروگرامز میں زیر بحث لانے پر پابندی عائد کر دی۔عدالت نے حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس پر حکم دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس سے متعلق ٹیلی ویژن پروگرامز میں بات چیت نہیں ہو سکتی تاہم اس کیس کے حوالے سے کورٹ رپورٹنگ ہو سکتی ہے۔سپریم کورٹ نے پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹر اتھارٹی (پیمرا) کو ہدایت جاری کی کہ وہ عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں